مشرق وسطیٰ میں ایران کی ناکام سیاست

ناصر سعید

افغانستان کے پڑوسی اب تک امارت اسلامیہ کو نہیں سمجھ سکے۔ ان کے تبصروں سے ایسا لگتا ہے جیسے افغانستان آج بھی ۱۹۹۰ء کا افغانستان ہے، حالانکہ افغانستان تو اب دنیا کی قیادت کے خواب دیکھ رہا ہے۔

بلاشبہ مسئلۂ فلسطین پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور مشترکہ طور پر ہی اس کا حل کیا جانا چاہیے۔

لیکن مشرق وسطیٰ میں ایران کی ناکام سیاست نے خطے کو سخت خطرات سے دوچار کر دیا ہے، ایران وہاں شیعہ اقلیتوں کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ مضبوط ہو سکیں اور وہ خطہ ایران کے زیر اثر آ جائے، اسی سیاست کی وجہ سے ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات خراب ہیں۔

درحقیقت ایران کا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ایران اور اسرائیل دونوں کی یہی کوشش ہے کہ وہاں سے سنی عربوں کو ختم کر ڈالیں۔

ایران عراق میں کیا کر رہا ہے؟

ایران شام میں کیا کر رہا ہے؟

ایران  نے یمن میں کیا کیا؟

قمی صاحب جو فلسطین کی جنگ کے لیے افغانستان سے فدائیوں کے دستے چاہتے ہیں حزب اللہ کو جنگ کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ جو کہ خطے میں ہر لحاظ سے طاقتور اور مضبوط ہے۔

ایران حماس کے ساتھ درست انداز میں تعاون کیوں نہیں کر رہا؟

اس کی فوجیں جو شام میں سنی مسلمانوں کو شہید کر رہی ہیں وہ کیوں اسرائیل سے جنگ نہیں کرتیں؟

تعجب کی بات یہ ہے کہ شام اور عراق میں سنیوں کو قتل کرتے ہیں، گھروں کو تباہ کرتے ہیں، مساجد مسمار کرتے ہیں اور فلسطین میں بیان بازی؟

قمی کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کی دانست میں افغانستان جنگجوؤں کا مرکز ہے جن میں سے اکثریت غیر ذمہ دار ہیں۔

اگر ایران خطے میں اپنی ناکام اور تعصب سے بھرپور سیاست میں تبدیلی لائے، تو وہاں نسبتا امن قائم ہو سکتا ہے اور ایک خودمختار فلسطین کے قیام کے لیے کام آگے بڑھ سکتا ہے۔