مالی مشکلات نے خوارج کو مانگنے پر مجبور کر دیا

داعشی خوارج کی تازہ نشریات اور سرکاری اعلانات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ گروہ سخت مالی مسائل کا شکار ہے اور اپنے حامیوں سے خیرات اور زکوٰۃ کی شکل میں رقم وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رقم جمع کرنے کی کوششوں کی ایک مثال خوارج کے مرکزی ہفتہ وار ’النباء‘ کا انفوگرافک ہے جس میں خوارج نے یتیم کی کفالت کے ثواب کے حوالے سے بات کی ہے اور اشارتاً اپنے حامیوں کو ان جنگجوؤں کے خاندانوں کی کفالت کرنے کی ترغیب دلائی جو جنگوں میں مارے گئے۔

متعدد عرب میڈیا اداروں کو داعش کے قیدیوں کے امور کے ادارے کے کچھ ایسے پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں کہ جن میں خوارج کے حامیوں کو ترغیب دلائی گئی تھی کہ شام اور عراق کے جیلوں میں قید داعشیوں اور خاندانوں کی مدد کریں۔

فی الحال ہزاروں مرد قیدیوں کے علاوہ، شام کے الھول اور روج کیمپوں میں ہزاروں داعشی خاندان سخت مشکلات میں شب و روز بسر کر رہے ہیں۔ جیلوں میں قید داعشیوں کی طرف سے ایک شرم دلانے والے نشر شدہ خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوارج کی مرکزی انتظامیہ اپنے قیدیوں کی مدد اور حمایت میں ناکام ہوچکا ہے اور انہیں نظر انداز کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل خراسانی خوارج کے ایک رسمی میگزین میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ انہیں پیسے بھیجیں۔ خراسانی خوارج تب لوگوں سے خیرات مانگنے پر مجبور ہوئے ہیں جب داخل افغانستان میں ان کے زیادہ تر مالی وسائل سکیورٹی فورسز کی منظم کاروائیوں کے نتیجے میں ختم ہوچکے ہیں اور بیرونی مالی امداد منقطع ہو چکی ہے۔