مغرب سے تاجکستان کا نیا یارانہ

اویس احمد

ترقی یافتہ ممالک اپنے تجارتی و سیاسی منصوبوں کو دنیا کے دیگر ممالک میں نافذ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو ان کی سازشوں کے مراکز بنے ہیں، ان میں سے بعض یوکرائن کی طرح آگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور بعض کبھی کبھار پاکستان کی طرح مختصر وقت کے لیے عارضی مفاد تو ضرور حاصل کر لیتے ہیں، لیکن انجام دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔

اس بار تاجکستان سامنے آیا ہے تاکہ امریکی منصوبے کو آگے بڑھائے، اور وہ بھی سب سے زیادہ بدنام زمانہ اور مسترد شدہ داعش منصوبے کے توسط سے۔

چند روز قبل افغانستان کے وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں کہا کہ داعش افغانستان میں تاجک شہریوں کو استعمال کرتی ہے، کیونکہ گرفتار ہونے والے تمام داعشیوں نے وہاں تربیت حاصل کی، مسلح ہوئے اور پھر تاجکستان کے راستے یہاں لانچ ہوئے۔

تاجکستان اب غیر ملکی شہریوں اور بعض اپنے تاجک شہریوں کو بھی افغانستان کی جعلی شناخت دیتا ہے۔ حملہ آور جس صوبے کے لوگوں سے مماثلت رکھتا ہو اسے اسی صوبے میں متعارف کروایا جاتا ہے، مثلا غزنی، بامیان، ننگرہار وغیرہ، تاکہ حملہ آور کو افغانی ثابت کیا جا سکے اور پھر داعش خراسان کا گروپ جس کا ہیڈ کوارٹر تاجکستان ہے، حملہ آور کا تعارف افغانی کے طور پر کرواتا ہے۔

ایران پر حالیہ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ نشر شدہ رپورٹس اور دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حملے میں تاجک شہری ملوث ہیں، جبکہ اسی روز کی شام ایران کی وزارت اطلاعات نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ایک حملہ آور تاجک تھا۔

اب تاجکستان مکمل طور پر داعش کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے۔ خطے میں حملوں کی منصوبہ بندی تاجکستان میں ہوتی ہے اور پھر اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جس کا بہت جلد خود تاجک شکار ہوں گے، ان کی کمزور معشیت اس ملک کو برے حالات سے نکال نہیں پائے گی اور اس ناکام پالیسی کی وجہ سے صرف اور صرف تاجک عوام کو نقصان پہنچے گا۔