کفار کے ساتھ امارت اسلامیہ کے تعامل کی اساس | پہلی قسط

مولوی احمد جان

گزشتہ روز میرا ایک جہادی ساتھی میرے پاس داعشی خوارج کی ایک نئی ویڈیو لے کر آیا جسے خوارج کے ادارہ العزائم نے نشر کیا تھا، ویڈیو اردو میں ہے اور اس کا اہم حصہ امارت اسلامیہ (أعزها الله) کے تعلقات پر تنقید پر مبنی ہے اسی طرح ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو شرعا ناجائز کہا گیا ہے۔

حالانکہ کفار کے ساتھ تعلقات اور تعامل مطلق ناجائز نہیں، بلکہ اس میں بہت طویل تفصیل پائی جاتی ہے، کبھی یہ صرف مباح ہوتے ہیں کبھی صرف مباح ہی نہیں بلکہ شرعی و اسلامی سیاست اور اسی طرح اسلامی ریاست و سلطنت کا شرعی تقاضا بھی ہوتے ہیں اور کبھی فقط ثواب ہوتے ہیں اور کبھی ناجائز یعنی گناہ ہوتے ہیں اور کبھی یہ تعلقات کفر ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں ان سب کی مثالیں موجود ہیں۔

اسلام ایک فطری اور اجتماعی دین ہے اور دنیا دارالاسباب ہے، ایک ہی وقت میں ہر قسم کے کفار کا مکمل بائیکاٹ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ جائز ہے اور نہ ہی ایک ہی وقت میں ہر کسی سے ہر جگہ ہر طرح کے کافر سے جنگ کرنا شرعی سیاست ہے، جبکہ جنگ کی طاقت بھی نہ ہو۔ اس لیے ایک ہی وقت میں ہر طرح کے کافر سے ہر جگہ جنگ کا اعلان کر دینا اور مکمل طور پر ان کا بائیکاٹ اور ان سے تعلق توڑ دینا غیر شرعی سیاست ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کے منافی ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ضعف اور کمزوری کے دور میں سیاست ایک طرح کی ہوتی ہے اور قوت کے دور میں سیاست اور طرح کی ہوتی ہے اور یہ نبی اکرم ﷺ کی سیرت سے ہمیں واضح ہے۔ نبی کرم ﷺ نے جب مدینہ منورہ ہجرت کی  (صلی اللہ علی منورھا) تو نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کے یہود  سے اکتیس نکات پر مشتمل معاہدہ کیا، ان نکات میں ایک نکتہ یہ بھی تھا مدینہ منورہ میں یہود اور مسلمان ایک امت ہوں گے اور مشترکہ طور پر مدینہ منورہ کا دفاع کریں گے۔ مسلمان اپنے دین پر عمل کریں گے اور یہود اپنے دین پر، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں یہودی عدالت بھی اجازت دی گئی تھی۔

مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مسئلہ میں اختلاف ہو گیا،  یہودی کا مطالبہ تھا کہ مقدمہ کعب بن اشرف یعنی یہودی عدالت میں لے جایا جائے، لیکن منافق کا مطالبہ تھا کہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا جائے، جب مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو فیصلہ یہودی کے حق میں ہو گیا کیونکہ اس مسئلے میں یہودی حق پر تھا، جب وہاں سے باہر نکلے تو منافق نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور اس نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا جائے، جب معاملہ ان کے سامنے پیش کیا گیا تو پہلے یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتا دیا کہ اس مسئلے میں نبی کریم ﷺ فیصلہ کر چکے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ٹھیک ہے صبر کرو میں آتا ہوں، گھر چلے گئے اور تلوار اٹھا لائے اور اس سے منافق کا سر قلم کر دیا اور فرمایا کہ جو نبی اکرم ﷺ کا فیصلہ نہ مانے تو اس کے متعلق فیصلہ پھر یہ ہے۔

بات کا مقصد یہ ہے کہ بہت وقت تک مدینہ نورہ میں یہودی عدالتیں بھی آزاد تھیں یعنی اسلامی ریاست میں یہودی قوانین کے مطابق بھی فیصلہ ہو سکتا تھا اور نبی اکرم ﷺ چاہتے تھے کہ قریش کے علاوہ کوئی دوسرا جنگی محاذ نہ کھولا جائے، کیونکہ مسلمان کمزور تھے اور متعدد محاذوں کے متحمل نہیں تھے اور مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، اسی لیے یہودیوں نے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی، لیکن نبی کریم ﷺ نے اس معاملے سے چشم پوشی فرمائی لیکن جب صلح حدیبیہ ہو گئی اور قریش کا محاذ وقتی طور پر بند ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ یہودیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نبی اکرم ﷺ نے پورے جزیرہ عرب سے یہودیوں کو نکال دینے کا اعلان کر دیا کہ ’أخرجوا الیهود والنصاری من جزیرة العرب‘ یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کیا جائے، مطلب یہ کہ قوت کے دور اور ضعف کے دور کی سیاست جدا جدا ہوتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو صرف یہودیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ قرب و جوار کے اکثر قبائل کے ساتھ بھی معاہدات کیے اور جنگ کا رخ صرف قریش کی طرف ہی رکھا۔ تقلیل الاعداء یعنی عسکری دشمنوں کا خاتمہ کرنا نبی کریم ﷺ کی سیاست کا اساسی رخ تھا۔ مدینہ منورہ پر جب احزاب (اتحادیوں) نے حملہ کر دیا، تقریبا ان احزاب میں کفار کی تعداد دس ہزار افراد تک تھی اور مدینہ منورہ کا محاصرہ ہو گیا، نبی کریم ﷺ کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان یہ مشکل برداشت نہ کر سکیں۔ ان احزاب اور اتحادیوں میں ایک اہم اتحادی قبیلۂ غطفان تھا، نبی کریم ﷺ نے اس کے سرداروں سے مذاکرات شروع کیے اور انہیں یہ پیش کش کی کہ تمہیں ہم مدینہ منورہ کی پیداوار کا تیسرا حصہ (عائدات) ادا کریں گے، لیکن تم جنگ سے باہر ہو جاؤ۔

یہودیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا یہ وہ معاہدہ تھا کہ بعض سیرت نگاروں نے اس کی تعبیر ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے کی ہے۔ یہ معاہدہ سیرت کی کتابوں کے اس طرح نقل ہوا ہے جیسے الرحیق المختوم میں علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے فرمایا:

معاهدة مع اليهود

بعد أن هاجر النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة، ووثق من رسوخ قواعد المجتمع الإسلامي الجديد، بإقامة الوحدة العقائدية والسياسية والنظامية بين المسلمين، رأى أن يقوم بتنظيم علاقاته بغير المسلمين، وكان همه في ذلك هو توفير الأمن والسلام والسعادة والخير للبشرية جمعاء، مع تنظيم المنطقة في وفاق واحد، فسن في ذلك قوانين السماح والتجاوز التي لم تعهد في عالم مليء بالتعصب والتغالي.

وأقرب من كان يجاور المدينة من غير المسلمين هم اليهود كما أسلفنا وهم وإن كانوا يبطنون العداوة للمسلمين، لكن لم يكونوا أظهروا أية مقاومة أو خصومة بعد، فعقد معهم رسول الله صلى الله عليه وسلم معاهدة ترك لهم فيها مطلق الحرية في الدين والمال، ولم يتجه إلى سياسة الإبعاد أو المصادرة والخصام.

ترجمہ: یہود سے معاہدہ

نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کے درمیان ایک عقیدے، ایک سیاست اور ایک نظام کی بنیاد پر ایک نئے اسلامی معاشرے کی بنیادیں رکھیں، تو اس کے بعد غیر مسلموں یعنی کفار کے ساتھ منظم تعلقات کی طرف متوجہ ہوئے۔ نبی کریم ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ تمام انسانیت امن و سلامتی کی خوش بختیوں اور برکتوں میں سے حصہ پائے۔ اور اس کے ساتھ  ساتھ مدینہ منورہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ایک وفاقی و مرکزی اتحاد ترتیب پا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمدردی اور شفقت کے ساتھ ایسے وسیع البنیاد قوانین مقرر کیے کہ تعصب، افراط اور غلو سے بھری دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ مدینہ میں مسلمانوں کے سب سے قریبی پڑوسی یہودی تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں سے پس پردہ عداوت اور دشمنی رکھتے تھے لیکن انہوں نے اب تک کھل کر دشمنی اور تصادم کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ایک معاہدہ کیا جس میں دونوں کو دین و مذہب اور جان و مال کی مطلق آزادی دے دی گئی اور جلا وطنی، جائدادیں ضبط کرنا یا جنگ اور لڑائی کی سیاست کی کوئی بھی شکل اور رخ ان کے ساتھ اختیار نہیں کیا گیا۔

وهاك أهم بنود هذه المعاهدة:

۱ـــ: إن يهود بني عوف أمة مع المؤمنين، لليهود دينهم وللمسلمين دينهم مواليهم وأنفسهم، كذلك لغير بني عوف من اليهود.

ترجمہ: معاہدے کی بعض اہم دفعات اور متن

۱۔ بنو عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہوں گے، یہودی اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر۔ یہ حق جس طرح یہودیوں کو ہے اسی طرح ان کے غلاموں اور متعلقین کو بھی ہے اور بنو عوف کے یہودیوں کے علاوہ  دیگر یہودی بھی یہ حق رکھتے ہیں۔

۲ـــ: وإن على اليهود نفقتهم، وعلى المسلمين نفقتهم.

یہودی اپنے مصارف اور اخراجات کے ذمہ دار ہیں اور مسلمان اپنے مصارف اور خاراجات کے ذمہ دار

۳ـــ: وإن بينهم النصر على من حارب أهل هذه الصحيفة.

۳۔ کوئی طاقت یا قوت اس معاہدے کے کسی ایک فریق (مسلمان یا یہودی) سے جنگ کرے گی، تو سب اس کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔

۴ـــ: وإن بينهم النصح والنصيحة، والبر دون الإثم.

۴۔ اس معاہدے کے شرکاء (فریقین) کے آپسی تعلقات خیر خواہی اور ایک دوسرے کو فائدہ پہنچنانے کی بنیاد پر کھڑے ہوں گے نہ کہ گناہ اور معصیت پر۔

۵ـــ: لم يأثم امرؤ بحليفه وإنه.

۵۔ کوئی بھی اپنے اتحادی یا تعلق کی وجہ سے مجرم نہیں سمجھا جائے گا۔

۶ـــ: وإن النصر للمظلوم.

۶۔ مظلوم کی مدد کی جائے گی

۷ـــ: وإن اليهود ينفقون مع المؤمنين ما داموا محاربين.

۷۔ اگر جنگ شروع ہو جائے، تو جب مسلمان جنگ میں مصروف ہوں گے تو یہودی بھی مسلمانوں کے ساتھ اخراجات اور مصارف برداشت کریں گے۔

۸ـــ: وإن يثرب حرام جوفها لأجل هذه الصحيفة.

۸۔ اس معاہدے کے تمام شرکاء پر مدینہ میں قتل، لوگوں کا خون بہانہ، اور بد امنی پیدا کرنا حرام ہے۔

۹ـــ: وإنه ما كان بين أهل هذه الصحيفة من حدث أو اشتجار يخاف فساده فإن مرده إلى الله عز وجل، وإلى محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم.

۹۔ اس معاہدے کی فریقین میں اگر کوئی نئی بات یا لڑائی پیدا ہو جاتی ہے اور اس میں فساد کا امکان موجود ہو، تو اس کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کریں گے۔

۱۰- وإنه لا تجار قريش ولا من نصرها۔

۱۰۔ قریش اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہ دی جائے گی۔

۱۱۔ وإن بينهم النصر على من دهم يثرب…. على كل أناس حصتهم من جانبهم الذي قبلهم.

۱۱۔ کوئی بھی اگر یثرب (یعنی مدینہ منورہ) پر حملہ کرے تو اس کے خلاف جنگ کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے گا اور ہر فریق اپنی اپنی طرف سے دفاع کرے گا۔

 ۱۲ـــ: وإنه لا يحول هذا الكتاب دون ظالم أو آثم.

۱۲۔ یہ معاہدہ کسی ظالم یا مجرم کے دفاع کا ذریعہ نہیں۔

وبإبرام هذه المعاهدة صارت المدينة وضواحيها دولة وفاقية، عاصمتها المدينة ورئيسها- إن صح هذ التعبير- رسول الله صلى الله عليه وسلم، والكلمة النافذة والسلطان الغالب فيها للمسلمين، وبذلك أصبحت المدينة عاصمة حقيقية للإسلام.

ولتوسيع منطقة الأمن والسلام عاهد النبي صلى الله عليه وسلم قبائل أخرى في المستقبل بمثل هذه المعاهدة، حسب الظروف.

ترجمہ: یہ معاہدہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ اور اس کے اطراف میں ایک وفاقی اور مرکزی حکومت تشکیل پا گئی جس کا دار الحکومت مدینہ تھا اور سربراہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ (اگر یہ تعبیر درست ہے اور خدانخواستہ سوء ادب نہیں نعوذ باللہ منہ)

غالب حکمرانی اور نافذ کلمہ وہاں مسلمانوں کا تھا اور اس کے ساتھ مدینہ واقعتا اسلام کا دار الحکومت بن گیا اور امن و سلامتی کا دائرہ اور علاقہ مزید وسیع کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ نے آئندہ مزید قبائل کے ساتھ بھی حالات کے مطابق اسی طرح کے معاہدات کیے۔

 

جاری ہے…!