کفار کے ساتھ امارت اسلامیہ کے تعامل کی اساس | دوسری قسط

دیکھیں، پچھلے حصے میں معاہدے کی ذکر شدہ دفعات اور متن سے یہ بات واضح معلوم ہو جاتی ہے کہ یہاں دو صورتوں میں سے ایک صورت میں ایک مقام پر دو نظاموں کا وجود اور پھر ان دونوں نظاموں کا مشترکہ دفاع تسلیم کیا گیا ہے۔ تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ حالات اور ضعف کی وجہ سے اسلامی قوت کی اعلیٰ مصلحتوں کی خاطر ایسے حالات میں جائز ہے کہ اگر کسی دوسرے خطرناک دشمن کا خطرہ ہو یا دیگر اعلیٰ مصلحتیں اور اہداف زیر نظر ہوں، تو پھر اسلامی نظام کے ساتھ ایک غیر اسلامی نظام بھی برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن مسلمانوں کو اس دوسرے نظام پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت تک مدینہ منورہ میں غالب حکمرانی اسلام اور مسلمانوں کی تھی، لیکن مکمل نہ تھی، اور بتدریج انداز میں کامل حکمرانی بالآخر اسلام اور مسلمانوں کی ہوئی۔ اور معاہدہ میں دسویں دفعہ یہ تھی کہ قریش اور ان کے حامیوں کو مدینہ منورہ میں پناہ اور جگہ فراہم نہیں کی جائے گی۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کی جنگ اور مقابلے کی خاطر پوری توجہ قریش پر مرکوز تھی اور قریش کی قوت توڑنا تب سب سے اہم تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نبی کریم ﷺ نے اھم فالاھم کی بنیاد پر نہیں چاہا کہ اپنے لیے جنگ کے دیگر محاذ بھی کھول لیں، کیونکہ قریش اس وقت جزیرۃ العرب میں سب سے طاقتور، با اختیار، اہم اور موثر طاقت تھے اس لیے نبی کریم ﷺ نے بھی تقلیل الاعداء کی پالیسی کے تحت نہیں چاہا کہ ضعف کے اس وقت اور حالات میں دیگر محاذ کھولیں۔

چونکہ یہود کے ساتھ یہ معاہدہ ہو گیا جس سے وقتی طور پر مسلمان یہودیوں کے جنجال سے آزاد ہو گئے، مدینہ منورہ سے جو راستہ شام کو جاتا تھا اور جسے قریش تجارت کے لیے استعمال کرتے تھے، اس راستے پر جو قبائل آباد تھے، نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ بھی دوستی، تعاون اور اسی طرح ایک دوسرے سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اسی طرح قبیلہ جہینہ کے ساتھ بھی دوستی، صلح، تعاون اور ایک دوسرے سے جنگ سے اجتناب کا معاہدہ کر لیا۔ قبیلہ جہینہ کی بستی مدینہ منورہ سے پچاس یا پنتالیس ۴۵ میل کی مسافت پر واقع تھی۔ دراصل اس وقت قریش عالم عرب کی ایک سرکش اور مغرور قوت تھی اور ہر ممکن کوشش کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی نہایت حکیمانہ بصیرت کے ساتھ کوشش کی کہ مسلمانوں کی قوت متعدد محاذوں میں تقسیم نہ ہو جائے۔ نبی کریم ﷺ کی توجہ  الاھم فالاھم پر مرکوز تھی اور وہ اس کشمکش اور کشیدہ صورتحال سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی قوت میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔ اور کفار کی اصل طاقت قریش تھے، ان کا کبر و غرور بھی توڑنا چاہتے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے یہ کوشش شروع کی کہ قریش کی معاشی ناکہ بندی کر دی جائے اور اس خاطر دو منصوبوں پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا، جن میں سے ایک یہ تھا کہ بہت سے قبائل کے ساتھ دوستی اور تعاون کے معاہدات کر لیے، جیسا کہ الرحیق المختوم میں مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں:

ولكن كان من الحكمة إزاء هذه الظروف – التي مبعثها الوحيد هو قوة قريش وتمردها – أن يبسط المسلمون سيطرتهم على طريق قريش التجارية المؤدية من مكة إلى الشام، واختار رسول الله صلى الله عليه وسلم لبسط هذه السيطرة خطتين.

ترجمہ: ان مشکل حالات میں، جس کا اصل محرک، منبع اور سبب قریش کی قوت اور سرکشی تھا، حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان اس تجارتی راستے پر قبضہ کر لیں جو مکہ مکرمہ سے شام کی جانب جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس قبضے اور تسلط کی خاطر دو منصوبے اختیار کیے۔

پہلا منصوبہ:

عقد معاهدات الحلف أو عدم الإعتداء مع القبائل التي كانت مجاورة لهذا الطريق، أو كانت تقطن ما بين هذا الطريق وما بين المدينة، وقد أسلفنا معاهدته – صلى الله عليه وسلم – مع اليهود، وكذلك كان عقد معاهدة الحلف أو عدم الإعتداء مع جهينة قبل الأخذ في النشاط العسكري، وكانت مساكنهم على ثلاثة مراحل من المدينة، وقد عقد معاهدات أثناء دورياته العسكرية وسيأتي ذكرها.

ترجمہ: ان قبائل کے ساتھ تعاون اور دوستی یا جنگ نہ کرنے کے معاہدے ہوئے، جو اس راستے کے قرب و جوار میں رہتے تھے یا مدینہ منورہ اور اس راستے کے درمیان آباد تھے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ بھی معاہدہ کیا جس کا ذکر ہم پہلے تفصیل سے کر آئے ہیں۔ اسی طرح اس راستے پر عسکری سرگرمیوں سے قبل تعاون اور دوستی یا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ قبیلہ جہینہ سے بھی کر لیا جو مدینہ منورہ سے پچاس یا پنتالیس میل کے فاصلے پر آباد تھے۔ اسی طرح عسکری تشکیلات کے موقع پر دیگر معاہدات بھی کیے گئے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

دوسرا منصوبہ:

إرسال البعوث واحدة تلو الآخرى إلى هذا الطريق.

ترجمہ: اس راستے کے کنٹرول، فتح اور قبضے کے لیے دوسرا منصوبہ یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ نے یکے بعد دیگرے اس راستے پر مجاہدین کے گشتی گروپ اور ریکی کرنے والے روانہ کیے۔

 

جاری ہے…!