کفار کے ساتھ امارت اسلامیہ کے تعامل کی اساس | تیسری قسط

اس تحریر کی گزشتہ قسط میں بات ہوئی کہ دانشمندانہ اور منظم سیاست کے نتیجے میں مسلمانوں کی قوت روز بروز مضبوط ہوتی گئی، یہاں تک کہ قریش کی متکبر اور سرکش قوت گفت و شنید اور مذاکرات کے لیے بیٹھ گئی جس کے نتیجے میں حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا۔ حدیبیہ کے معاہدے میں بھی بڑی مصلحتوں کو نظر میں رکھا گیا، اور اس میں ایسی باتیں بھی تسلیم کر لی گئیں جس میں بظاہر مسلمانوں کے لیے مشکل اور ذلت نظر آتی تھی، جیسے مشرکوں کی یہ بات مان لی گئی کہ اگر آپ کی جانب سے کوئی مرتد ہو جائے اور ہماری طرف آ جائے تو ہم اس بات کے پابند نہیں کہ آپ کے مانگنے پر اسے واپس کر دیں، لیکن اگر ہماری طرف سے کوئی مسلمان ہو جائے اور آپ کی طرف چلا جائے اور ہم اسے واپس مانگیں تو آپ اسے ہمیں واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ صلح حدیبیہ کے فوائد کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَمِنْهَا: أَنَّ مُصَالَحَةَ الْمُشْرِكِينَ بِبَعْضِ مَا فِيهِ ضَيْمٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جَائِزَةٌ لِلْمَصْلَحَةِ الرَّاجِحَةِ، وَدَفْعِ مَا هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، فَفِيهِ دَفْعُ أَعْلَى الْمَفْسَدَتَيْنِ بِاحْتِمَالِ أَدْنَاهُمَا.

ترجمہ: صلح حدیبیہ کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بڑی اور راجح مصلحتوں کے حصول کے لیے، اسی طرح بڑے شر کو دور کرنے کے لیے مشرکین کے ساتھ ایسا معاہدہ بھی جائز ہے کہ جس میں مسلمانوں کو کچھ ذلت اٹھانی پڑے اور اس میں عظیم فساد کے خاتمے کے لیے چھوٹے فساد اور نقصان کو برداشت کرنا پڑ جائے۔

اسی طرح حافظ ابن قیم رحمہ اللہ صلح حدیبہ کے فوائد کے بیان میں مزید فرماتے ہیں:

وَمِنْهَا: أَنَّ الْمُعَاهَدِينَ إِذَا عَاهَدُوا الْإِمَامَ فَخَرَجَتْ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ، فَحَارَبَتْهُمْ وَغَنِمَتْ أَمْوَالَهُمْ، وَلَمْ يَتَحَيَّزُوا إِلَى الْإِمَامِ، لَمْ يَجِبْ عَلَى الْإِمَامِ دَفْعُهُمْ عَنْهُمْ وَمَنْعُهُمْ مِنْهُمْ، وَسَوَاءٌ دَخَلُوا فِي عَقْدِ الْإِمَامِ وَعَهْدِهِ وَدِينِهِ أَوْ لَمْ يَدْخُلُوا، وَالْعَهْدُ الَّذِي كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ لَمْ يَكُنْ عَهْدًابَيْنَ أبي بصير وَأَصْحَابِهِ وَبَيْنَهُمْ، وَعَلَى هَذَا فَإِذَا كَانَ بَيْنَ بَعْضِ مُلُوكِ الْمُسْلِمِينَ وَبَعْضِ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنَ النَّصَارَى وَغَيْرِهِمْ عَهْدٌ جَازَ لِمَلِكٍ آخَرَ مِنْ مُلُوكِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْزُوَهُمْ وَيَغْنَمَ أَمْوَالَهُمْ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ عَهْدٌ، كَمَا أَفْتَى بِهِ شَيْخُ الْإِسْلَامِ فِي نَصَارَى مَلَطْيَةَ وَسَبْيِهِمْ، مُسْتَدِلًّا بِقِصَّةِ أبي بصير مَعَ الْمُشْرِكِينَ.

ترجمہ: صلح حدیبیہ کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب کفار مسلمانوں کے امام کے ساتھ معاہدہ کریں اور پھر ایک گروہ ان کافروں سے نکل آئے اور ان کافروں سے جنگ کرے، ان کا مال غنیمت کرے، اور وہ امام کے پاس پناہ نہیں لے تو امام پر لازم نہیں کہ ایسے لوگوں کو روکے یا منع کرے، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ لوگ امام کے ساتھ بیعت، معاہدہ یا دین میں شامل ہیں یا نہیں۔ جو معاہدہ نبی کریم ﷺ اور مشرکین کے درمیان طے پایا، وہ معاہدہ مشرکین اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے درمیان نہیں تھا، اس بنا پر اگر مسلمانوں کے ایک امیر اور عیسائیوں میں سے بعض اہل الذمہ کے درمیان معاہدہ ہو، تو مسلمانوں کے کسی اور امیر کے لیے (جن کا اس سے معاہدہ نہ ہو) جائز ہے کہ ان پر حملہ کر دے اور ان کا مال غنیمت کر لے جیسا کہ شیخ الاسلام نے ملطیہ کے عیسائیوں کے بارے میں فتویٰ دیا اور دلیل ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے مشرکین کے ساتھ معاملے اور واقعے سے لی۔ (مقصد یہ کہ ایسا ممکن ہے کہ ایک کافر بعض مسلمانوں کے لیے معاہد اور دیگر کے لی حربی ہو، جیسے قریش رسول اللہ ﷺ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے صلح حدیبیہ کے دورانیے تک کے لیے معاہد تھے لیکن ابو بصیر اور ابو جندل رضی اللہ عنہما کے لیے حربی تھے۔ اب بھی معاملہ ایسا ہی ہے کہ دنیا کے کئی کفار اگر امارت اسلامیہ کے ساتھ معاہدین ہیں تو دیگر مجاہدین کے لیے حربی ہیں۔)

اسی طرح جائز اور مشروع اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے کفار کے اتحاد میں شامل ہونا نا صرف جائز بلکہ کبھی مستحسن اور بہترین کام بھی ہو سکتا ہے، جیسے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل تھا۔ لیکن مکہ مکرمہ میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں مظلوموں کی حمایت کے لیے ایک اجلاس ہوا اور مظلوموں کے دفاع اور حمایت کے حوالے سے بعض قریش قبائل نے اتحاد کر لیا، رسول اللہ ﷺ بھی اپنے بعض چچاؤں کے ساتھ اس میں شریک ہوئے تھے۔ اس اتحاد کو حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ بعثت کے بعد بھی اس اتحاد اور اتفاق کی تعریف کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس اتحاد میں شمولیت مجھے سرخ اونٹوں سے یعنی انتہائی قیمتی اموال سے بھی زیادہ محبوب ہے اور اگر اس اتحاد میں شمولیت کے لیے مجھے اس اسلامی دور میں بھی بلایا جائے، تو میں اسے لبیک کہوں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کہ کافر قوتوں کے ساتھ جائز مقاصد کے حصول کے لیے تعلق اور اتفاق جائز ہے، جیسا کہ الرحیق المختوم میں علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے فرمایا:

وقع حلف الفضول في ذي القعدة في شهر حرام، تداعت إليه قبائل من قريش: بنو هاشم، وبنو المطلب، وأسد بن عبد العزى، وزهرة بن كلاب، وتيم بن مرة، فاجتمعوا في دار عبد الله بن جدعان التيمي لسنه وشرفه، فتعاقدوا وتعاهدوا على ألايجدوا بمكة مظلوما من أهلها وغيرهم من سائر الناس إلا قاموا معه، وكانوا على من ظلمه حتى ترد عليه مظلمته، وشهد هذا الحلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال بعد أن أكرمه الله بالرسالة: لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا ما أحب أن لي به حمر النعم، ولو أدعي به في الإسلام لأجبت.

ترجمہ: حرام مہینے ذو القعدہ میں حلف الفضول ہوا۔  قریش کے کئی قبائل جیسے بنی ہاشم، بنی طالب، بنی اسد، بنی عبد العزی، بنی زہرہ بن کلام اور بنی تیم بن مرہ نے اس کا اہتمام کیا تھا۔ یہ لوگ عبد اللہ بن جدعان تیمی کے گھر جمع ہوئے تھے، کیونکہ  وہ عمر اور رتبے کے اعتبار سے امتیازی حیثیت کے حامل تھے، اور انہوں نے آپس میں یہ اتحاد کیا کہ مکہ مکرمہ میں جو بھی مظلوم بن کر آئے گا، وہ چاہے مکہ مکرمہ کا باسی ہو یا نہ ہو، ہم سب اس کی مدد، تعاون اور حمایت کریں گے اور اسے اس کا حق دلایا جائے گا۔ اس اجتماع میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے اور پھر جب رسول اللہ ﷺ رسالت اور پیغمبری سے مشرف ہوئے تو بھی فرماتے تھے کہ میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر ایک ایسے معاہدے میں شامل تھا کہ جو مجھے سرخ اونٹوں (یعنی قیمتی مال) سے بھی زیادہ محبوب اور پسند ہے اور اگر اسلام کے دور میں مجھے کوئی ایسے عہد و پیمان میں شرکت کی دعوت دے تو میں اسے لبیک کہوں گا۔

اسی طرح جب صلح حدیبیہ ہوئی تو قبیلہ خزاعہ جو ایک مشرک قبیلہ تھا، رسول اللہ ﷺ کا اتحادی بن گیا اور قبیلہ بنی بکر قریش کا اتحادی بن گیا اور باقی قبائل کو بھی اجازت مل گئی  کہ جو جس فریق کے ساتھ ملنا چاہے مل سکتا ہے۔ جیسا کہ زاد المعاد میں علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

وَدَخَلَتْ خُزَاعَةُ فِي عَقْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِهِ، وَدَخَلَتْ بَنُو بَكْرٍ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ، وَكَانَ فِي الشَّرْطِ أَنَّ مَنْ شَاءَ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ دَخَلَ.

ترجمہ: قبیلہ خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عقد و پیمان میں داخل ہو گیا، یعنی رسول اللہ ﷺ کا ساتھی بن گیا (کہ قریش ان کے خلاف بھی اقدام نہیں کر سکتے اور نہ ہی خزاعہ پر حملہ کرنے والے کے ساتھ تعاون اور مدد کر سکتے ہیں۔) اور قبیلہ بنو بکر قریش کے عقد اور پیمان میں داخل ہو گیا (یعنی مسلمان قبیلہ بنی بکر کے خلاف اقدام نہیں کر سکتے اور نہ ہی بنی بکر پر حملہ کرنے والے کی مدد کر سکتے ہیں) اور باقی قبائل کو اختیار دے دیا گیا کہ چاہے وہ مسلمانوں کے اتحادی بن جائیں یا قریش کے۔

اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک رات بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، کیونکہ ان دونوں قبائل کے درمیان دشمنی پائی جاتی تھی اور اس حملے میں بنو خزاعہ کے کئی لوگ مارے گئے اور قریش نے اس حملے میں بنو بکر کی خفیہ مدد کی تھی۔ بنو خزاعہ نے اشعار کی زبان میں رسول اللہ ﷺ سے مدد کی درخواست کی اور اپنے عہد و پیمان سے وفاداری کا مطالبہ کیا۔ چونکہ یہ قریش کی جانب سے نقص عہد تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں اور بالآخر اس وجہ سے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔

اس ساری بحث کا مقصد یہ تھا کہ کفار کے ساتھ ہر قسم کا تعلق نہ تو کفر ہے اور نہ ہی حرام ہے۔ بلکہ اسلام زندگی گزارنے کا ایک اجتماعی نظام ہے، شریعت کی روشنی میں کفار کے ساتھ مختلف طرح کے تعلقات، تعامل اور روابط کی اجازت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی کفار کی دیگر کفار کے خلاف مدد کی، جیسا کہ قریش کے خلاف قبیلہ خزاعہ کی مدد اور تعاون تھا، اسی طرح اسلام کی تقویت اور فائدے کے لیے کفار سے مدد بھی طلب کی اور سیرت رسول ﷺ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں سے چند ہم ذیل میں ذکر کر رہے ہیں۔

۱۔ رسول اللہ ﷺ کے سفرِ طائف کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ وہاں کے رہنے والے کفار  سے پناہ اور مدد طلب کریں، لیکن انہوں نے اس مدد و تعاون سے انکار کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ تکالیف پہنچائیں اور انہیں زخمی کر دیا۔

۲۔ واپسی پر رسول اللہ ﷺ حرا کے پہاڑ کے دامن میں محاصرے میں آ گئے اور آپ نے قبیلہ خزاعہ کا ایک فرد اخنس بن شریف کو مدد کا پیغام بھیجا، کہ مجھے پناہ دے دو لیکن اس نے معذرت کر لی۔

۳۔ پھر سہل بن عمر سے پناہ طلب کی اس نے بھی معذرت کر لی۔

۴۔ پھر مطعم بن عدی کو پیغام بھیجا، اس نے پیغام قبول کر لیا اور اپنا بیٹے اور قبیلے کو بلوایا اور ان سے کہا کہ بیت اللہ شریف کے اطراف میں مسلح ہو کر جاؤ، میں نے محمد ﷺ کو پناہ دی ہے، پھر نبی کریم ﷺ کو پیغام دیا کہ اب آپ مکہ میں داخل ہو جائیں، ان کے اس پیغام اور پناہ کے بعد نبی کریم ﷺ زید بن حارثہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے مطعم بن عدی کے اس احسان کو یاد رکھا اور جب بدر میں مکہ کے کفار قیدی بنائے گئے  تو مطعم بن عدی کے بیٹے جبیر بن مطعم بعض قیدیوں کی آزادی کے لیے آیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لوکان المطعم بن عدی حیاّ ثم کلّمنی فی هؤلاء النتنی لترکتهم له.

ترجمہ: اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور مجھ سے ان کا مطالبہ کرتا تو میں اس کی وجہ سے سب کو آزاد کر دیتا۔

۵۔ رسول اللہ ﷺ اس مقصد کے لیے دیگر مختلف قبائل کے پاس بھی گئے کہ میری مدد کریں اور مجھے پناہ دیں۔ جیسے بنی عامر، بنی صعصمہ، محارب بن خصفہ، فزارہ، غسان، مرہ، حنیفہ، سلیم، عبس، بنو النضر، بنو البکاء، کلب، حارث بن کعب، عذرہ اور حضارمہ۔

۶۔ شعب ابی طالب میں میں رسول اللہ ﷺ کی مدد اور نصرت میں جو رشتہ دار کھڑے تھے، وہ اکثر کافر تھے اور نبی کریم ﷺ کا ان کے ساتھ کوئی معاشرتی بائیکاٹ اور مقاطعہ نہیں تھا۔

۷۔ عقبہ کبریٰ جو ایک اہم موقع اور واقعہ تھا اور مدینہ منورہ کے سرداروں سے نبی کریم ﷺ نے خفیہ بیعت لی تھی جو کہ صرف ایمان لانے کی نہیں تھی بلکہ اس بات کی بھی بیعت لی گئی تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ اور اہل اسلام مدینہ منورہ ہجرت کریں گے تو آخری فرد کی قربانی تک ان کا دفاع کیا جائے گا، اور اس اہم اور رازداری والے موقع پر عباس رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو کافر تھے ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔

۸۔ ہجرت کے وقت عبد اللہ بن ارقیط لیثی کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا رہبر مقرر کیا، حالانکہ وہ کافر تھا، اسی طرح ایسی بہت سی مثالیں نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ میں موجود ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کفار سے مدد حاصل کی اور تعلقات اور روابط ان کے ساتھ قائم کیے۔

 

جاری ہے…!