کرمان حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ داعش، سی آئی اے یا موساد؟

فائز افغان

گزشتہ روز دوپہر کے بعد ایران کے شہر کرمان میں دو زوردار اور خوفناک دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق ۹۵ افراد ہلاک جبکہ ۲۸۴ زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب عام لوگوں کی کثیر تعداد اسلامی انقلاب ایران کے قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی کی تقریبات کے لیے جمع ہوئی تھی۔

اس واقعے کے چند گھنٹے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس اور سپیشل آپریشنز کے ادارے (موساد) کی طرف سے ایک ٹویٹ میں لکھا گیا:

’’امریکی انٹیلی جنس کے خیال میں ایران میں ہونے والے حملے کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہے، جس میں رپورٹس کے مطابق ۲۰۰ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘

ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے اس واقعے پر اپنے شدید ردّعمل میں کہا:

’’امریکہ مجرم ہے اور اس نے فلسطین اور غزہ میں ہونے والے تمام جرائم میں براہ راست کردار ادا کیا ہے۔ میں صیہونی حکومت کو خبردار کر رہا ہوں کہ ان مظالم اور اس طرح کے دیگر مظالم کی تم ایسی قیمت ادا کرو گے کہ جس کی وجہ سے تمہیں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا:

’’ایران میں ہونے والے دھماکوں میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں، اور وہ ان دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں دیکھتا۔ اس طرح کے الزامات غیر ذمہ دارانہ ہیں اور امریکہ ان دھماکوں کے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔‘‘

ایران اسرائیل تعلقات کا مختصر جائزہ

ایران اسرائیل تعلقات تاریخ کے مختلف مراحل میں رنگ بدلتے رہے ہیں۔ ۱۹۴۸ء سے فروری ۱۹۷۹ء میں پہلوی سلطنت کے اختتام تک، ایران اور اسرائیل کے تعلقات دوستانہ تھے، لیکن ایران میں فروری ۱۹۷۹ء کے بعد جب ایرانی اسلامی انقلاب فتح یاب ہوا تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بگڑ کر دشمنی کی سطح پر پہنچ گئے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے بہت سے عوامل میں سے چند اہم عوامل یہ ہیں۔

ایران میں ایٹمی پروگرام میں پیش رفت، حزب اللہ اسلامی جہاد، حماس اور دمن میں انصار اللہ جیسے گروہوں کی حمایت، ایران پر اسرائیلی سفارت خانے پر حملے سمیت دیگر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات۔

دوسری طرف ایران مجاہدین خلق اور جند اللہ جیسے گروہوں کی حمایت و مدد اور ایران میں خفیہ کاروائیوں کا الزام اسرائیل پر لگاتا ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور داعش جیسے خارجی دشمنوں کے ساتھ ایران کے کچھ داخلی دشمن بھی ہیں، جیسے  مجاہدین خلق، جند اللہ، اہواز علیحدگی پسند تحریک اور بلوچوں اور کردوں کے مختلف گروہ۔ ان میں سے کوئی بھی غیر ملکی امداد کے بغیر سرگرم نہیں رہ سکتا اور ایران کے خارجی دشمن بھی انہیں ایران کے خلاف آلۂ کار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

اگرچہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے امریکہ اور اسرائیل پر کھل کر تنقید کی ہے اور انہیں اس جرم میں ملوث قرار دیا ہے لیکن مزید تحقیقات سے ثابت ہو جائے گا کہ یہ جرم ایران کے داخلی دشمنوں نے کیا ہے یا خارجی۔

لیکن میری نظر میں سی آئی اے، موساد اور داعش ایک ہی منصوبے کے کردار ہیں۔

افغان حکومت نے داعش کے خلاف بھرپور جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں یہ تکفیری گروہ افغانستان میں تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ اسی طرح ترکی میں بھی داعش کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اور روز بروز ان پر زمین تنگ ہو رہی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اب ایران کو اپنا مرکز منتخب کرنا چاہ رہے ہوں۔ افغان حکومت نے خطے کے ممالک کے ساتھ، جس میں ایران بھی شامل ہے، داعش کے بارے میں معلومات شیئر کی ہیں۔ اگر ایران سمیت خطے کے ممالک افغان حکومت کی معلومات کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیں، تو کرمان جیسے انسانیت کے خلاف ہونے والے بڑے جرائم کی توقع کر سکتے ہیں۔