کیا نظام میں شامل سبھی لوگ نیک ہوتے ہیں؟

حسان مجاہد

عہد نبوی میں گھوڑے کو جہاد کے اہم ترین وسائل میں شمار کیا گیا، اس حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: گھوڑوں کے کھروں میں قیامت تک کے لیے بھلائی ہے۔ [بخاری، جلد اوّل، کتاب الجہاد]

مندرجہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک پربصیرت بات سے آگاہ کیا ہے، وہ یہ کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا، اور چونکہ جہاد مجاہدین کرتے ہیں، اس لیے مجاہدین بھی قیامت تک موجود رہیں گے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام مجاہدین ہی نیک ہوتے ہیں یا ان میں برے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں؟

انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جن کاموں کا تعلق کسی جماعت (گروہ) کے ساتھ ہوتا ہے، ان میں شامل تمام لوگوں کی اصلاح ضروری نہیں ، کیونکہ پوری صف کی اصلاح کرنا ناممکن بات ہے اور اگر پوری صف کی اصلاح کی شرط رکھ دی جائے، تو پھر بہت بڑے بڑے کام معطل ہو کر رہ جائیں گے۔

جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ جہاد ایک فرد کا کام نہیں بلکہ ایک جماعت کا کام ہے، جماعت میں قیادت کی ضرورت ہوتی ہے اور صالح قیادت ہمیشہ کے لیے زندہ نہیں رہتی، اور جب صالحین نہ ہوں تو دو میں سے ایک عمل ضروری ہو گا، یا تو جہاد چھوڑ دیا جائے، یا پھر غیر صالح قیادت کی پیروی میں ہی جہاد کیا جائے، کیونکہ غیر صالح قیادت کی پیروی جہاد سے منہ موڑنے اور ہمیشہ کے لیے غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے سے بہتر ہے۔ [فیض الباری شرح صحیح البخاری]

اگر ہم نظام میں کچھ مسائل اور خامیاں دیکھتے ہیں تو ہمیں تنقید کرنے کی بجائے اصلاح کرنے پر توجہ دینی چاہیے اور بجائے لوگوں کے بوجھ سے نظام کو کمزور کرنے کے، نظام کی تعمیر و ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

ہمیں نظام میں کچھ خرابیوں کی وجہ سے نظام کے زوال کی راہ نہیں ہموار کرنی چاہیے، کیونکہ شریعت کا اہم اصول ہے کہ ’’ما لایدرک کله لا يترک کله‘‘ یعنی جس چیز کو مکمل طور پر سمجھ نہ سکو اسے مکمل طور پر ترک بھی مت کرو۔

بعض لوگ امارت کی بھلائی کے نام پر بالاصل اس سے دشمنی کرتے ہوئے میڈیا پر ایسی سرگرمیاں کر رہے ہیں جس سے در حقیقت نظام کو بہت نقصان پہنچتا ہے، وہ آگے تو دیکھتے ہیں لیکن پیچھے نہیں دیکھتے، اگر وہ پچھلی حکومت کی وہ حرکتیں ذہن میں لائیں جنہوں نے افغانیت تو کیا انسانیت کو بھی شرمسار کر دیا تو پھر انہیں موجودہ نظام کی قدر سمجھ میں آئے گی۔

(پشتو شعر کا ترجمہ)

یہ دورِ صحابہ نہیں، کمی کم فہمی موجود ہے۔
معذرت خواہ ہوں لوگو، کہ مجھ میں نااہلی موجود ہے۔
صبر کرو آہستہ آہستہ رب سب معاملات درست کر دے گا۔
کیونکہ تعمیراتی خیالات رکھنے والی آبادی موجود ہے۔