کیا افغانستان داعش کو قبول کرسکتا ہے؟

تحریر: محمد صادق طارق

کیا افغانستان داعش کو قبول کر سکتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ داعش کا نظریہ اور عقیدہ افغانستان کی مسلم قوم میں داعش کی موجودگی اور ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ افغان عوام کی دینی تعلیم اور راسخ عقیدہ، اس فتنہ گر گروہ کی دینی تعلیم کے وجود، اضافے اور ترقی کی اجازت نہیں دیتا۔

تو سوال یہ ہے کہ دنیا اس گروپ کی افغانستان میں موجودگی کا خظرہ بڑھا کر کیوں پیش کرتی ہے؟

کیا افغانستان اس خونخوار گروہ (داعش) کے وجود کے لیے تیار ہے؟

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ دنیا بالخصوص امریکہ افغانستان میں داعش کی موجودگی سے ایسے وقت میں خبردار کر رہا ہے جب خود امریکی فوج افغانستان میں داعش کے نفوذ اور توسیع کی کوشش میں ہے، تاکہ اس راستے سے فتنہ گر افراد اور گروہ وسطی ایشیا کے ممالک میں داخل کیے جائیں اور اپنے حریف ممالک کے علاقوں کو غیر محفوظ بنایا جائے۔ لہٰذا امریکہ کو افغانستان میں داعش کی موجودگی پر کبھی تشویش ہونی نہیں چاہیے، کیونکہ اس نے ان کی حمایت اور توسیع کا کام خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔

پھر بھی یہ جاننا کیوں ضروری ہے کہ کیا واقعی افغانستان داعش کے وجود کے لیے تیار اور سازگار ہے؟

سیاسی امور کے ماہرین داعش کی موجودگی اور عدم موجودگی کے بارے میں ممالک کی درج ذیل درجہ بندی کرتے ہیں:

  1. وہ ممالک جہاں داعش نے علاقوں پر قبضہ کیا، جیسے شام اور عراق۔
  2. وہ ممالک جن پر داعش نے قبضہ کیے بغیر ان خطوں میں موجود ہونے کا دعویٰ کیا ، جیسے افغانستان وغیرہ۔

اس طرح ہمارے ملک کو دوسرے درجے میں رکھا گیا ہے کہ جہاں داعش کے وجود کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن عملاً اس کا کوئی وجود نہیں۔

کسی ملک  میں مستقبل میں داعشی نظریات کے نفوذ اور توسیع کے لیے زمین سازگار ہونے کے امکان ہونے کے دلائل بہت سے ہیں لیکن اہم دلائل درج ذیل ہیں:

سکیورٹی کمزوریاں

ہر وہ ملک جہاں سکیورٹی نظام سست اور کمزور ہو، فتنہ گروں کا گروہ وہاں گھسنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ الحمد للہ ہمارے عظیم ملک افغانستان کی سکیورٹی اس وقت بے مثال ہے۔ دین و ملت کے دشمنوں کی طرف سے تیار کی گئی ہر بغاوت کو اللہ تعالیٰ کی مد د سے ملک کی سکیورٹی فورسز نے ابتدا میں ہی ناکام بنا دیا۔

داخلی تنازعات

کوئی ملک جو داخلی تنازعات میں اس قدر ڈوبا ہو کہ معاملہ اس کے بس سے باہر ہو چکا ہو، وہاں بہت آسانی سے اس گروہ کی سرگرمیاں ممکن ہیں۔ الحمد للہ ہمارا عظیم ملک افغانستان داخلی جنگوں سے باہر آ چکا ہے اور روز بروز مضبوط ہو رہا ہے، اسی وجہ سے یہاں فتنہ گر گروہ اپنے نظریات کی ترویج نہیں کر پا رہے۔

سیاسی بحران

جب بھی کوئی ملک سیاسی بحران میں پھنستا ہے اور اپنے معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، تو داعش اور فتنہ گر گروہوں کے نفوذ اور توسیع کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے اور وہ اس ملک کے سیاسی بحران کو اپنے مذموم مقاصد اور اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہمارے ملک کو اس وقت کسی قسم کی سیاسی مشکل درپیش نہیں ہے۔

عوام کے دینی عقائد میں کمزوری

جب بھی کسی ملک کے باشندوں کا دینی فہم اور عقیدہ کمزور ہوتا ہے، داعش اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنی نظریاتی سلطنت چلاتی ہے۔ لیکن افغانستان کی عوام سادگی سے داعشیوں کے زیر اثر آنے والے نہیں، افغانوں کے قومی جذبات کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دینی و مذیبی عقائد کے بھی پوری طرح پابند ہیں۔

اس لیے داعش اور اس کے ہم فکروں کو اپنے آقاؤں کے انجام اور افغانستان کی تاریخ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنے اس جھوٹے خواب کو کہ افغانستان کی غیور سرزمین پر اپنے لیے جگہ پیدا کر لے گا کو دفن کر دینا چاہیے۔