خوارج کی خلافت یا اسلام کے نام پر مافیا؟

مولوی مستغفر حنفی

عصر حاضر کے خوارج اصل میں تو مشرق وسطٰیٰ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن کافی وقت سے دنیا کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی انہیں پیسوں کے عوض اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

بالفاظِ دیگر داعش ایک ایسی تجارتی عسکری کمپنی کی مانند ہے جو ملکوں کو افراد بیچتی ہے اور اس سے پیسے کماتی ہے، یا جیسے کوئی پیسوں کے عوض کسی کو قتل یا اغوا کرتا ہے۔

مختصراً یہ کہ امریکی بلیک واٹر کی ملیشیا کا ایک حصہ داعشی خوارج ہیں، لیکن امریکی بلیک واٹر سے فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی تربیت ایک نام نہاد اسلامی لیکن اندھے انتہا پسندانہ نظریے پر کی جاتی ہے، جبکہ امریکی بلیک واٹر خوارجیت کا نظریہ نہیں رکھتی۔ لیکن اس کے علاوہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں ہی کفار کی عسکری کمپنیاں ہیں۔

پس یہ ثابت کرنے کے لیے کہ خوارج امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مافیہ اور تجارتی پہلو بھی رکھتے ہیں، ذیل میں ان تین پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں:

  1. خوارج اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات
  2. خوارج اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مفادات
  3. خوارجی مافیا اور تجارتی جنگیں

1.    خوارج اور مشرقی وسطیٰ میں امریکی مفادات

مشرق وسطیٰ سب سے زیادہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں میں سے ایک ہے، جبکہ امریکہ ایک بدمعاش عالمی طاقت ہے جو ان تمام خطوں میں اپنی موجودگی چاہتا ہے جہاں قدرتی وسائل زیادہ ہوں تاکہ وہاں کے وسائل اور دولت کو لوٹ سکے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کئی لحاظ سے امریکہ کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ موجودگی اس وقت مستحکم اور پائیدار ہو سکتی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی مستحکم اور پائیدار ریاست موجود نہ ہو، اور وہاں مستقل انتشار رہے، لیکن اگر کوئی مستحکم ریاست وہ بھی تو بھی وہ اسرائیل یا مصر کی طرح امریکی غلام ضرور ہو گی۔

اگر مشرق وسطیٰ میں کوئی خود مختار اور مضبوط ریاست بن جاتی ہے، تو لازماً وہ امریکی موجودگی کے لیے خطرہ ہو گی، اس لیے امریکہ کو وہاں موجودگی کے لیے پریشر گروپس اور انتشار کی ضرورت ہے۔

چونکہ مشرق وسطیٰ کے لوگ مسلمان ہیں، اس لیے یہ انتشار، اسلامی جہاد اور اس طرح کی دیگر شرعی اصطلاحات کے نام پر پیدا کیا جائے گا۔

اب اگر مشرق وسطیٰ میں یہ انتشار ایک خودمختار اسلامی جہادی گروپ کی طرف سے پیدا ہو، تو وہ گروپ بھی وہاں امریکی وجود کے لیے خطرہ ہو گا، جیسے القاعدہ کے مجاہدین۔ لہٰذا اس مقصد کے لیے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو، امریکہ کو ایک ایسے نام نہاد اسلامی جہادی گروپ کی ضرورت ہے کہ جو مشرق وسطیٰ کی ریاستوں سے بھی جنگ کرے، آزاد مجاہدین سے بھی لڑے اور خفیہ طریقے سے امریکی مفادات کا تحفظ بھی کرے۔ اور یہ گروہ داعش (لعنت اللہ علیہ) ہے۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں اور داعش کو دنیا کے سامنے ایسے متعارف کروایا ہے کہ گویا داعش ایک اتنی بڑی طاقت ہے جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

امریکہ عالمی برادری سے کہتا ہے کہ ہم نے مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈے اس لیے قائم کیے ہیں تاکہ دنیا کا داعش کے خطرے سے تحفظ کریں، اور اگر مشرق وسطیٰ میں ہمارے فوجی اڈے نہ ہوں، تو داعش سب سے پہلے عرب ممالک اور پھر تمام دنیا پر حملے کرے گی۔

امریکہ عرب دنیا کے ممالک سے کہتا ہے کہ اگر آپ داعش کے خطرے سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ملکوں میں فوجی اڈے دیں، کیونکہ خود سے آپ کا داعش کے خطرے سے محفوظ رہنا بہت مشکل ہے۔ تو حسب توقع عرب ممالک نے نہ صرف جگہیں مفت فراہم کیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات بھی ادا کرتے ہیں۔ تو انہیں کس کا خوف ہے؟

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ داعشی خوارج کا استعمال کیا ہے۔ ایک طرف امریکہ نے داعش کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے آدھے ممالک کو اپنا غلام بنا کر وہاں کے اسٹریٹیجک محل وقوع اور قدرتی وسائل کا بے دریغ اور مفت استعمال کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف جن سرزمینوں میں داعشی خوارج کو نفوذ حاصل ہے ان سرزمینوں کے قدرتی وسائل بھی بالواسطہ امریکی مفادات کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

وہ اس طرح کہ امریکہ اور اسرائیل کی بعض ایسی تجارتی کمپنیاں ہیں کہ جو اصلیت میں یہودی ہیں، لیکن ایسا ظاہر نہیں کرتیں، اور داعشی خوارج کے زیر تسلط علاقوں سے تمام قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات لوٹ رہی ہیں۔

ایک کہاوت ہے: ’’پانی گدلا کرو اور مچھلی پکڑو‘‘، امریکہ بھی مشرق وسطیٰ میں یہی فارمولا استعمال کر رہا ہے۔

داعشی خوارج سے امریکہ کو حاصل پہلا فائدہ

لہٰذا مشرق وسطیٰ میں خوارج کا امریکہ کو اولین فائدہ یہ ہے کہ اس نے داعش کے موجودگی کو اپنی وہاں موجودگی کے لیے دلیل بنا لیا ہے اور داعش نے امریکیوں کے لیے وہاں ایسی زمین سازی کی ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی دولت کو با آسانی لوٹ سکے۔

داعشی خوارج سے امریکہ کو حاصل دوسرا فائدہ

امریکیوں کو داعشی خوارج کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وہ بااثر ریاستیں خوفزدہ ہو جائیں کہ جو امریکی مفادات کی مخالف ہیں، اس کی ایک اچھی مثال ایران اور ایرانی پراکسی گروپ ہیں۔

ایران ان ممالک میں سے ایک ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے وجود کے لیے خظرہ ہیں، تو اس مقصد کے لیے کہ ایران امریکہ کے لیے مشکلات پیدا نہ کرسکے امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایران کے لیے مشکلات پیدا کرے۔ اسی لیے داعشی خوارج کے عقیدے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ دنیا کے بدترین کافر ہیں۔

داعشی خوارج شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے سے اس لیے اتنا متشدد عقیدہ رکھتی ہے کیونکہ ایرانی شیعہ مسلک ہیں، بالفرض اگر ایرانی شافعی مسلک کے ہوتے تو داعشی خوارج لازماً کہتے کہ شافعی مذہب کے لوگ دنیا کے بدترین کافر ہیں (نعوذ باللہ)

اس کی وجہ یہ ہے کہ بالاصل داعش کے لیے اسلام اور مسلک کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اس کے لیے اہم امریکی مفادات ہیں، جو لوگ بھی امریکی مفادات کے خلاف ہیں وہ سب مشرکین ہیں جیسے ایران، اور مرتدین ہیں جیسے امارت اسلامیہ افغانستان (نعوذ باللہ)، حالانکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ داعشی خوارج کے قائدین میں یہودی تک شامل ہیں۔

اس لیے داعشی خوارج کی تشکیل سے امریکہ کا دوسرا ہدف مشرق وسطیٰ میں ایران اور اس کی پراکسیوں پر حملہ کرنا ہے۔

داعشی خوارج سے امریکہ کو حاصل تیسرا فائدہ

امریکہ کو داعشی خوارج سے تیسرا فائدہ اسلام کی بدنامی ہے، کیونکہ امریکہ اسلام کا بدترین دشمن ہے، اس لیے اسلام کو مسخ کرنا اور اس کو بدنام کرنا اسے سب سے زیادہ پسند ہے۔ داعشی خوارج اسلام کا نام لے کر دہشت اور ظلم کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے، اور اس طرح اسلام کے مبارک دین کی حقانیت ار رحمت کو سخت چوٹ پہنچاتے ہیں۔

2.    خوارج اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مفادات

مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات مشترک ہیں، اس لیے خوارج جو فائدہ امریکہ کو پہنچاتے ہیں وہ اسرائیل کو بھی پہنچتا ہے، لیکن اسرائیل کو ایک اضافی فائدہ بھی پہنچ رہا ہے وہ یہ کہ اسرائیلی حکومت ایک ایسے محل وقوع میں اپنا وجود رکھتی ہے کہ جہاں چاروں اطراف دشمن ریاستیں ہیں۔ اگر ان دشمن ریاستوں کو امن و سکون سے رہنے دیا جائے تو پھر یہ ایک دن ضرور اسرائیل پر حملہ کر دیں گی یا کم از کم اسرائیلی حکومت کے لیے مشکلات ضرور پیدا کریں گی۔ تو اس مقصد کے لیے کہ اسرائیلی ریاست امن و سکون سے رہے، اسرائیل کے مخالف پڑوسی ممالک میں انتشار اور جنگ ضروری ہے، تاکہ یہ ان ہی سے فارغ نہ ہو سکیں اور اسرائیل کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے قابل ہوں، جیسے شام، عراق، پاسدارانِ انقلاب، حماس، حزب اللہ وغیرہ۔

یہ سب گروپ اور ریاستیں اسرائیلی وجود کو برداشت نہیں کرتیں، اسی لیے داعشی خوارج ان سب کی اسرائیل سے دشمنی کی وجہ سے ان سے لڑتی ہے۔ مصر جو کبھی کبھی کچھ کچھ اسرائیل کی مخالفت کر دیتا ہے تو داعشی خوارج بھی کبھی کبھی کچھ کچھ مصر کی سرحد پر لڑائی کر لیتے ہیں۔

دوسری طرف یہودی جو کہ دنیا کے بد ترین کافر ہیں، خوارج ان کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہیں، نہ ہی امریکی فوجی اڈوں کے لیے کوئی مشکل بناتے ہیں، اس لیے اسرائلی ریاست کے وجود اور تحفظ کے لیے داعشی خوارج بہت اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ یہ یہودیوں کے تمام دشمنوں سے جنگ کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ داعش اسلام کا نام لے کر اور اسلام کے بھیس میں اسرائیلی ریاست کا تحفظ کرتی ہے۔

3.    خوارجی مافیا اور تجارتی جنگیں

داعشی خوارج کی تشکیل اصل میں تو اس لیے کی گئی تھی کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ عالمی سطح پر اور دیگر ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے پیسوں کے عوض بھی کاروائیاں کرتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال ہم داجکستان اور امارت اسلامیہ افغانستان کے درمیان مسئلے کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔

جمہوری حکومت کے دور میں تاجکستان نے نہ تو افغانستان کی طرف کوئی خوارج بھیجے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مشکلات پیدا کیں، لیکن جب امارت اسلامیہ برسر اقتدار آئی  تو تاجکستان نے امارت اسلامیہ کے ساتھ مختلف مسائل میں اختلاف شروع کر دیا اور اس وقت خوارج کی اکثریت بھی تاجکستان کی طرف سے ہی آتی ہے اور یہاں جہاد کا نام لے کر اپنی مذموم سرگرمیاں اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرتی ہے، حالانکہ تاجکستان کا نظام خود ایک کفری نظام ہے۔

لہٰذا مسئلہ یہ ہے کہ تاجکستان کی حکومت نے داعشی خوارج اور ان کے نظریات کو خرید لیا ہے، یعنی تاجکستان کی حکومت نے داعشی خوارج سے اس طرح کا معاہدہ کر لیا ہے کہ ہم تمہیں پیسے دیں گے، اور تم لوگ افغانستان میں ہمارے اہداف پورے کرو۔ افغانستان میں تاجکستان کے علاوہ بھی کوئی ملک یہ کام کر سکتا ہے کہ پیسوں کے عوض داعشی خوارج کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکے۔

جس طرح بھارت داعشی خوارج کو خرید کر پاکستان کے خلاف لڑوا سکتا ہے، اسی طرح پاکستان بھی خوارج کو خرید کر بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح یوکرائن بھی کر سکتا ہے کہ داعشی خوارج کو خرید کر روس کے خلاف استعمال کرے۔

خلاصہ یہ کہ داعشی خوارج بھی امریکہ کی دیگرعسکری اور مافیا کمپنیوں کی طرح ایک کمپنی ہے، لیکن ان سے اس طرح سے مختلف ہے کہ خوارج جن سے جنگ کرتے ہیں تو سب سے پہلے ان پر بد ترین کافر کی مہر لگاتے ہیں، باقی ان کے اور امریکی عسکری کمپنیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو خوارج کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین

وما علینا الا البلاغ