خراسانی خوارج کی جانب سے اپنا منہجی انحراف ثابت کرنے کے لیے کتابچہ نشر

خراسانی خوارج نے حال ہی میں ’’ہمارا عقیدہ اور منہج‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ نشر کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے منحرف منہج کی وضاحت کی ہے۔

اس کتابچے کے مصنف کا نام ظاہر نہیں کیا گیا لیکن اسے خراسانی خوارج کے رسمی نشریاتی ادارے العزائم نے شائع کیا ہے۔ العزائم کی جانب سے اس کتابچے کی اشاعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتابچہ خراسانی خوارج کی قیادت اور عدالتی محکے سے منظور شدہ اور رسمی حیثیت رکھتا ہے۔

خراسانی خوارج کے رسمی نشریاتی ادارے نے یہ کتابچہ اس وقت شائع کیا جب اس کے حامیوں اور ارکان کے درمیان بعض عقائد سے متعلق اور منہجی مسائل میں اختلاف پیدا ہوا اور بعض حامیوں نے اسلاف کے خلاف بالخصوص امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف تکفیر کا فتویٰ لگایا۔

ایک ذریعہ سے المرصاد کو علم ہوا کہ اس کتابچہ کی تدوین اور تحریر میں سب سے بڑا کردار خوارج کے قضاء اور دعوت کے شعبوں کے متعصب سلفی پاکستانی علماء نے ادا کیا ہے۔

ذیل میں ہم اس کتابچہ میں ذکر کیے گئے خراسانی خوارج کے بعض منہجی مسائل مختصر الفاظ میں بیان کر رہے ہیں:

  • تقلید کتاب و سنت کی اتباع کے خلاف بنایا گیا عقیدہ ہے اور یہ باہمی اختلافات اور تعصب کی جڑ ہے۔
  • چاروں ائمہ (ابو حنیفہ، شافعی، مالک، اور احمد بن حنبل رحمھم اللہ) کی تقلید ناجائز اور حرام ہے، ان ائمہ کی تقلید کو ترک کرنا اور اس سے توبہ کرنا فرض ہے۔
  • ان ائمہ کی تقلید کرنے والا ایسا عام آدمی اور عالم دونوں کافر ہیں جس کے پاس اس امام کے اجتہاد کے برعکس دلیل موجود ہو لیکن وہ پھر بھی اپنے امام کی رائے سے نہ ہٹے۔
  • امام غزالی، ابو الحسن الاشعری، فخر الدین رازی، ابوالمعالی الجوینی، زمخشری اور باقلانی (امت مسلمہ کے مشہیر علمائے دین) ابتداء میں باطل پر تھے، لیکن آخری عمر میں انہوں نے اپنے باطل عقائد سے توبہ کرلی اور اہل سنت والجماعت کے مسلک کی طرف رجوع کر لیا۔
  • مسلمانوں کی سرزمینوں پر موجود تمام حکومتیں مرتد ہیں، عملا ایسی کسی حکومت کا وجود نہیں ہے جسے اسلامی حکومت اور حکمرانوں کو مسلمان کہا جا سکے۔
  • مسلمانوں کی موجودہ حکومتوں کے تمام ملازمین (فوج، پولیس، قانون ساز، قانون نافذ کرنے والے، جج، مفتی اور علماء)، ووٹرز اور حکومتی فیصلوں پر راضی افراد مرتدین یعنی اسلام سے خارج ہیں۔
  • ان حکومتوں کی رعایا کو اس صورت میں مسلمان کہا جا سکتا ہے اگر وہ اس نظام کو کفر سمجھیں اور اس پر راضی نہ ہوں، ورنہ ان کی رعایا بھی کافر ہے۔
  • موجودہ حکومتوں کے خلاف جہاد فرض عین ہے، اور کفار کی نسبت ان حکومتوں کے خلاف جہاد اولیٰ اور بہتر ہے۔
  • مسلمانوں کی ساری سرزمین دار الکفر الطاری ہے (یعنی کفریہ نظاموں اور قوانین کے غلبہ کی وجہ سے دار الکفر بن چکی ہے)، مسلمانوں کی سرزمین پر صرف وہ علاقہ دارالاسلام ہے جہاں دولت اسلامیہ (یعنی خوارج کا گروہ) حاکم ہو۔
  • شیعہ کافر ہیں اور جو بھی انہیں کافر نہ مانے وہ بھی کافر ہے۔
  • قبروں پر مینار اور عمارتیں بنانا حرام اور بدترین بدعت ہے، قبروں اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنا شرعی جہاد کا ایک اہم حصہ ہے۔
  • شیعوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کرنا جہاد اور واجب عمل ہے۔
  • صوفیہ مرتدین ہیں اور طریقت مردود عمل ہے، تصوف کے زیادہ تر اکابرین مشرک تھے، جو بھی صوفیہ کو کافر نہ کہے تو وہ بھی کافر ہے۔
  • دیوبندی مرتدین اور مشرکین ہیں، کیونکہ ان کے اکابر تصوف کے حامی اور معتقد تھے۔
  • صوفیہ کی خانقاہیں تباہ کرنا واجب ہے کیونکہ یہ کفر و شرک کے شعائر ہیں۔
  • مسلمانوں کی سرزمین میں موجودہ حاکم نظاموں کے تمام حامی (بالعموم عوام اور بالخصوص علماء) مرتدین اور واجب القتل ہیں، ان کے پیچھے نماز اور ان سے نکاح کرنا جائز نہیں۔
  • ایسے علماء کا قتل مساجد اور مدارس میں بھی جائز ہے۔
  • موجودہ مقتدر حکومتوں کی طرف سے بنائی گئی مساجد اور مدارس احترام کا کوئی حق نہیں رکھتے اور ان کو گرانا جائز ہے۔
  • سعودی عرب کے مشہور مشائخ (ابن باز، عثیمین، ناصر الدین البانی اور صالح الفوزان) مرتدین ہیں کیونکہ سعودی عرب کی حکومت نے ان کے فتاویٰ کی وجہ سے مشروعیت حاصل کی۔
  • تمام مسلمانوں پر دولت اسلامیہ (یعنی خوارج) کے خلیفہ سے بیعت کرنا فرض ہے، جو نہیں کرے گا اس کی موت جہالت پر ہو گی۔
  • انتخابات میں حصہ لینے والے اور ووٹ دینے والے تمام لوگ کافر ہیں۔
  • اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قصدا قتل کرے تو قصاص ہو گا لیکن وہ مسلمان ہو گا، لیکن اگر اپنے لیے مسلمان کا قتل حلال سمجھے تو پھر کافر ہے۔ (اگر اس بات پر غور کریں، تو خوارج نے اپنے ہی فتویٰ کے ذریعے خود کو کافر کہا ہے۔)

مستقبل قریب میں المرصاد خوارج کے منحرف منہج پر ایک مستند اور مدلل کتابچہ نشر کرے گا تاکہ عام مسلمانوں کو اس خونخوار گروہ کا عقیدہ، کہ جس میں انہیں اپنے سوا پوری دنیا میں کوئی مسلمان نظر نہیں آتا، مزید واضح ہو جائے۔