خطے میں خوارج کی طرف سے تاجک شہریوں کا استعمال عروج پر

۳ جنوری کو ایران کے شہر کرمان میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں ۲۰۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ تقریبا ۴۸ گھنٹوں بعد داعشی خوارج نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی اور دو لوگوں کی تصاویر بھی نشر کیں۔

المرصاد نے خوارج کے دعویٰ کے نشر ہونے کے ساتھ ہی اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ دونوں حملہ آور تاجک شہری ہیں اور خوارج کی طرف سے ان کے چہرے چھپانا بھی تاجک انٹیلی جنس کی طرف سے کی گئی درخواست کی وجہ سے ہے جو جرمنی میں مقیم ایک تاجک شہری کے توسط سے خوارج سے کی گئی تھی۔

حال ہی میں ایرانی حکام نے بھی المرصاد کی رپورٹ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں حملہ آوروں کا تعلق تاجکستان سے تھا۔ ان حملوں سے قبل ایران کے شہر شیراز میں دو دیگر حملوں میں بھی تاجک شہری استعمال ہوئے تھے۔

پچھلے کچھ سال سے داعشی خوارج کی طرف سے اپنے حملوں اور کاروائیوں میں تاجکستان کے کم عمر نوجوانوں کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر دفاع نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں ہونے والے وہ تمام حملے جو داعشیوں نے بارودی جیکٹوں کے ذریعے کیے ان میں تاجک شہری استعمال کیے گئے۔

ایران اور افغانستان کے علاوہ حالیہ عرصے میں باقی دنیا میں بھی دیکھا گیا ہے کہ خوارج کی طرف سے کاروائیوں میں استعمال ہونے والے زیادہ تر افراد تاجک شہری ہیں۔ اس کے علاوہ جولائی ۲۰۲۲ء میں ترک پولیس نے حکومتوف نامی ایک تاجک شہری کو خوارج کے لیے امداد جمع کرنے اور بھرتیاں کرنے کے جرم میں گرفتار کیا ۔ اسی طرح  جولائی ۲۰۲۲ء میں ہی جرمی اور ہالینڈ میں ۹ افراد کو خوارج سے تعلق کے جرم میں گرفتار کیا گیا جن میں سے ۶ کا تعلق تاجکستان سے تھا۔ دسمبر میں آسٹریا اور جرمنی میں تاجک شہریوں سمیت ۱۰ افراد گرفتار کر لیے گئے جو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کا سربراہ بھی تاجک شہری تھا۔

ایران، افغانستان اور دیگر دنیا میں ہونے والے حالیہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ تاجک شہری خوارج کے لیے ایک بہترین آلۂ کار بن چکے ہیں اور خوارج بھی کامیابی سے ان سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔

وہ تاجک نوجوان جو اپنے ملک کی آمرانہ اور کمیونسٹ حکومت کی اسلام دشمن پالیسیوں اور پابندیوں کی وجہ سے دینی علوم سے محروم ہیں، بہت آسانی سے خوارج کی گمراہ کن باتوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور کسی بے گناہ شخص کو قتل کرنے کے لیے خود کو ہلاک کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

حالیہ بدترین واقعات اور ان میں تاجک شہریوں کے استعمال کا پتہ چلنے سے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ خطے کے اور دیگر دنیا کے ممالک تاجکستان کو اپنے آمرانہ اور اسلام دشمن نظام اور پالیسوں کو ترک کرنے کی ترغیب دیں جس کے نتیجے میں کم عمر اور جذباتی کم علم نوجوان گمراہ گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور پڑوس اور دیگر دنیا میں بد امنی پھیلاتے ہیں۔