خوارج زوال کی راہ پر

ماہر بلال

افغانستان ایک ایسی سرزمین ہے کہ جب بھی کوئی ظالم یا وقت کی سپر پاور اپنے ناپاک قدم یہاں رکھتی ہے تو وہیں سے اس کے زوال کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ استعماری برطانیہ سے سوویت یونین اور پھر امریکہ تک وقت کی ظاہری طاقتیں یہاں آئیں۔ اسی طرح جب داعشی خوارج کا ظہور ہوا اوران کے نامعلوم نام و نسب والے نام نہاد خلیفہ بغدادی نے اپنی خیالی خلافت کا نقارہ بجایا تواس نے اپنے دور میں دنیا کے تنازعات کے شکار علاقے عراق اور شام پر بہت زور و شور کے ساتھ حکومت کی۔ ان کی حکمرانی سے بہت سے جاہلوں نے خیال کیا کہ یہ لوگ مسلم امت کے زخمی دلوں پر مرہم رکھے گی اور پوری دنیا کو اپنی حکومت کے تحت لے آئے گی۔ لیکن انجان تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۱۴۰۰ سال پہلے کی پیش گوئی کے مطابق یہ لوگ خوارج ہیں۔ داعشیوں کے کرتوت دیکھ کر لوگوں نے جان لیا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے غم خوار نہیں بلکہ مغربی دسیسہ کاریوں کو عملی جامہ پہنانے والے ہیں۔

عراق اور شام کے بعض علاقوں میں داعش کی حکمرانی کو وسعت دے کر وہ دنیا کو زیر کرنے کے خوابوں میں غرق ہو گئے۔ داعش اپنی حاکمیت کے جغرافیہ کو فراغ کرنا چاہتی تھی۔ وہ ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھے کہ جس کے باشندے اسلام پر سختی سے کاربند اور سب سے زیادہ ستائے جانے والے لوگ ہوں، تاکہ سب سے پہلے وہاں اپنی حمایت پیدا کریں پھر اس حمایت کے توسط سے ستائے گئے لوگوں کو مزید ستائیں۔ کیونکہ ان کا ہدف یہ تھا کہ دین کے پروانوں کو ختم کر دیں اور کفار کی ناکام ہوتی سازشوں میں پھر سے کامیابی کی ہوا بھر دیں۔ لیکن جس طرح میں نے پہلے ذکر کیا کہ ’’افغانستان ایک ایسی سرزمین ہے کہ جب بھی کوئی جابر یا وقت کی سپر پاور فوج یہاں اپنے ناپاک قدم رکھتی ہے تو وہیں سے اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔‘‘ تو اسی قانون کے مطابق داعشی خوارج نے جب افغانستان کی پاک سرزمین پر اپنے ناپاک قدم رکھے تو اسی روز سے ان معاصر خوارج نے کوئی اچھا دن نہیں دیکھا صرف برے دن ہی دیکھے۔

افغانستان پہنچ کر انہوں نے ایسی پاکیزہ صف (امارت اسلامیہ) کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جو اسلام کی خاطر خود کو قربان کرنے کی تاریخ رکھتی ہے۔ ایسی پاک صف (امارت اسلامیہ) کے خلاف جہاد کے نام پر مغربی سازشیں شروع کیں، جس نے اپنی پوری سلطنت کا تاج ایک مؤمن مہمان کے سر پر قربان کر دیا تھا، وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ پاک صف (امارت اسلامیہ) سے ٹکرانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ سپر پاور امریکہ کے بس میں نہیں تھا کہ حق کے اس مورچے کو خاموش کر سکے تو داعش کیا چیز تھی کہ اس کوشش کو پورا کر پائے؟

داعش کے جانی نقصانات اس خطے میں اتنے زیادہ ہوئے کہ باقی ساری دنیا میں ہونے والے مجموعی نقصانات کے برابر تھے۔ پچھلے کچھ روز سے یہ خبر پورے شد و مد کے ساتھ نشر کی جا رہی ہے کہ داعشی مانگنے پر آ گئے ہیں اور اپنے رسمی میگزین میں خیرات کے لیے چادر پھیلائی ہے۔ یہ صدقات نہ تو انہیں ہضم ہوں گے نہ تو ان کے درد کا درمان ہوں گے، جن کو مظلوموں کی آہیں لگی ہوں ان کی زندگی میں کبھی بھلائی نہیں آ سکتی۔

جھوٹی خلافت کا نعرہ لگانے والے مجموعی طور پر بہت کمزور ہو چکے ہیں۔ اب مالی کمزوری کی باری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ صدقات جمع کرنا ان کے خاتمے کا سبب بنے گا، کیونکہ وہ ان صدقات کے معاملے میں ایک دوسرے سے ایسا مقابلہ کریں گے کہ امارت کو کچھ زور لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ داعش کا زوال نزدیک آ پہنچا ہے۔ آپ لمحے شمار کرتے جائیں اور ہم امارت اسلامیہ کی کامیابیاں اور داعشی خوارج کے زوال کا معاملہ آپ پر واضح کرتے جائیں گے۔

توكل على الله