خوارج یہودیوں کی خدمت میں

ماہر بلال

دینِ اسلام میں علماء کی بہت سی صفات اور ان کے بارے میں بہت سی تاکیدات آئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرٓن کریم میں فرماتے ہیں:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الأَلْبَابِ (الزمر: ۹)

ترجمہ: کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ اور نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں۔

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (المجادله: ۱۱)

ترجمہ: جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطاء کیا گیا ہے اللہ ان کے درجے بلند کرے گا۔

علماء کو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے تمام انبیائے کرام کا وارث کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

العلماء ورثة الانبیاء

ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں۔

دین اسلام میں علماء کی بہت اہمیت ہے۔ علماء کی اہمیت کا اندازہ اوپر بیان کردہ اللہ تعالیٰ کے کلامِ پاک اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے "يعلمون” اور "لا يعلمون” کو ایک جیسا نہیں کہا۔ حدیث مبارک میں علماء کے ساتھ وراثت کی نسبت ایک پیغمبر کے ساتھ نہیں کی گئی بلکہ انبیاء کے ساتھ کی گئی ہے جو کہ جمع کا صیغہ ہے، یعنی عالم ایک پیغمبر کا وارث نہیں بلکہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کا وارث ہے۔

جس طرح اسلام میں علماء کی اہمیت زیادہ ہے اسی طرح علماء کی مخالفت بھی اسلام کی بہت عظیم مخالفت ہے۔

یہود وہ قوم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے دین کے پیغمبروں کو شہید کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی شہید کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل و رسوا کر دیا۔

جب سلسلۂ نبوت ختم ہوا اور انبیائے کرام کا کام علمائے دین کے سپرد کر دیا گیا، تو یہود و نصاریٰ نے مل کر علمائے کرام کو شہید کرنا شروع کیا۔ یہ سلسلہ کفار کی مشترکہ کوششوں اور یہود کی سربراہی میں کیا گیا، لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ یہود کو دنیا سے ختم کر دیا گیا اور مٹھی بھر یہودی ہی باقی بچے۔ جیسے جیسے یہودیوں کی تقدیر بدلتی گئی ویسے ویسے ان کے مںصوبے بھی بدلتے گئے۔ اب یہودی اپنی کم تعداد کی وجہ سے اپنے سابقہ شرانگیز منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے تھے، اس لیے انہوں نے ایسا طریقہ آزمایا کہ جس پر عمل کرنے سے ان کی طرف انگلی بھی نہیں اٹھتی اور نہ ہی یہودیوں کو کوئی خاص نقصان اٹھانا پڑتا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے بیچ سے لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا، تاکہ اپنے سابقہ ناکام منصوبوں کو پھر سے زندہ کر سکے۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے درمیان بہت سے ناموں سے ایسے لوگ کھڑے کیے جو علماء کو شہید کرنا ثواب کا کام سمجھتے تھے۔

آج ان کفار نے داعش کے نام سے اپنے خفیہ اہلکاروں کو کھڑا کیا ہے تاکہ دینِ اسلام کے خاتمے کا راستہ ہموار کیا جا سکے، لیکن الحمد للہ ماضی کی طرح آج بھی کفار کی تمام سازشیں ناکام بنائی جا رہی ہیں۔

کفار کی دیگر سازشوں کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ داعش ایک اور اہم منصوبے کو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ انجام دے رہی ہے تاکہ اپنے اصلی آقاؤں کو خوش کر سکے۔

داعشی خوارج کے ظہور کے بعد اس فتنہ گر گروہ نے کثیر تعداد میں علماء کو شہید کیا، پاکستان اور افغانستان میں داعشی خوارج کی خصوصی توجہ علماٗء کا خاتمہ کرنا ہے اور وہ یہ کام کفار کے اشارے پر کر رہے ہیں کیونکہ یہ علماء ہی ہیں کہ جو پوری امت کو کفار کے خلاف جہاد کی سنہری داستانیں سناتے ہیں، مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دلاتے ہیں اور خود بھی جہاد کی اس پاکیزہ صف میں شامل ہوتے ہیں۔

داعشی خوارج نے دیگر مسلمانوں کو قتل کرنے کے ساتھ بے شمار علماء کو بھی شہید کیا، ایسے علماء شہید کیے کہ جو وقت کے مشہور حق پرست علماء میں شمار ہوتے تھے۔

شہید ہونے والے علماء میں سے ایک شیخ رحیم اللہ حقانی صاحب تھے، جن کی دین اسلام کے لیے خدمات عرب و عجم میں مشہور ہیں۔ فقیہ العصر شیخ رحیم اللہ حقانی شہید تقبلہ اللہ ان حق پرست علماء میں سے تھے کہ جو پوری زندگی دین کی خدمت میں مصروف رہے لیکن بغدادی خوارج کو یہ کہاں برداشت ہوتا تھا کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے دین کی اخلاص کے ساتھ خدمت کرے اور ان کے حقیقی آقا کفار کو ضرب لگائے، اس لیے دشمنانِ دین اور وقت کے خوارج نے اس عظیم عالم کو شہید کر دیا۔ ان کی شہادت نے مسلمانوں کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا۔ کفار کو ان کی شہادت سے بہت زیادہ حوصلہ ملا اور وہ خوارج کے اس کام سے بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے خوارج کے اس کام کی بہت تعریف کی اور مزید علماء کے قتل کی امید ظاہر کی۔ داعشی خوارج نے بھی اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے حقانی رحمہ اللہ کے بعد دیگر قیمتی علمائے دین کو بھی شہید کرنے کے لیے کمر کس لی اور اس سلسلے میں انہوں نے حق پرست عالم دین مولوی مجیب الرحمن انصاری شہید رحمہ اللہ کو بڑی بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا۔ اس جگہ سلفی عالم شیخ مولوی سردار ولی کا ذکر بھی ضروری ہے۔

لیکن خوارج اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں، جس طرح خوارج کے آقا یہود و نصاریٰ علماء کو شہید کر کے اپنے مقصد حقیقی تک نہیں پہنچ سکے اسی طرح کفار کے یہ انٹیلی جنس اہلکار اور خفیہ سپاہی داعشی خوارج بھی اپنی اصلی منزل کو نہیں پا سکیں گے۔ یہ دین اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرنے والا ہے، اس دین کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس لیے نہ تو تمہارے اور نہ ہی کفار کے حملوں سے یہ ختم ہو سکتا ہے۔

میں یہاں یہ نصیحت کرنا چاہوں گا کہ کفار کے دلوں کو مزید خوشیاں مت دو، دین اسلام کے خیر خواہوں کو قتل کرنا چھوڑ دو، اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو، ورنہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں ہی تباہ ہیں۔

جان لو!

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ. (بخاري: ۳۱۱۶) .

ترجمہ: جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے (اور یہ عالم فنا ہوجائے) ۔

جب تک کہ قیامت نہ آجائے…

مخالفین کی مخالفت انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی…

وما علینا الاالبلاغ