مجاہد: خوارج منصوبہ افغانستان میں نفوذ نہیں رکھتا، حملوں میں غیر ملکی شہریوں کو استعمال کرتا ہے اور اس کے آپریشنل نیٹ ورکس ختم ہو چکے ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر دفاع نے آج ۱۷ جمادی الثانی بروز اتوار سکیورٹی اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن (Security & Settlement Commission) کی پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ملک میں فتنہ پرور اور باغیوں کی سرگرمیوں میں ۹۰ فیصد کمی آئی ہے اور ان کے آپریشنل نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا ہے۔

مولوی محمد یعقوب مجاہد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ متعدد بدنیت حلقے افغانستان میں فتنہ پرستوں کی موجودگی کے بارے میں غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں اور اسے مختلف ذرائع سے پھیلا رہے ہیں تاکہ افغانستان کو عالمی برادری کے لیے ایک خطرہ بنا کر پیش کیا جا سکے۔ مجاہد کے مطابق، افغانستان میں داعش کے وجود اور سرگرمیوں کے بارے میں مبالغہ آمیز اندازے اور اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، یہ سب کچھ خود غرض حلقوں کی طرف سے تیار کی جانے والی غلط معلومات پر مبنی ہے تاکہ افغانستان کو عالمی برادری کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

مجاہد کے مطابق، اصلا یہ (خوارج) منصوبہ افغانستان میں کسی قسم کا نفوذ اور ثمرات نہیں رکھتا۔ اس منصوبے کو تشکیل دینے والوں اور اس کی مالی معاونت کرنے والوں کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے۔

مولوی محمد یعقوب مجاہد نے، جو کہ وزارت دفاع کے سرپرست وزیر ہونے کے ساتھ سکیورٹی اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن کے سربراہ بھی ہیں، یہ بھی کہا کہ استعمار کے خلاف افغانوں کے مقدس جہاد کی فتح کے بعد، افغانستان میں مساجد، خانقاہوں، شہری اور فوجی اہداف پر ہونے والے تمام حملوں میں غیر ملکی شہریوں بالخصوص تاجکستانی شہریوں کو استعمال کیا گیا۔ مجاہد کے بقول، دوسرے درجے میں زیادہ استعمال ہونے والے اور حملوں کی ترتیبات بنانے والے غیر ملکی، پاکستانی شہری ہیں۔

وزارت دفاع کے سرپرست نے کہا کہ گزشتہ ماہ میں درجنوں تاجکستانی شہری قتل اور گرفتار ہوئے ہیں۔ اسی طرح بیس کے قریب پاکستانی شہری سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں میں مارے گئے اور درجنوں دیگر زندہ پکڑ لیے گئے۔

مولوی محمد یعقوب مجاہد نے افغانستان کے پڑوسی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرحدوں کو اچھی طرح کنٹرول کریں، ہم ان ممالک سے، جہاں سے غیر ملکی شر پسند عناصر افغانستان میں داخل ہوتے ہیں، سختی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی زمینی و فضائی سرحدات کو پوری سنجیدگی کے ساتھ کنٹرول کریں اور ان کے ذریعے افغانستان میں شر پسند عناصر کو گھسنے کی اجازت مت دیں۔