خوارج کے لیے غزہ کی تباہی کتنی اہم ہے؟

حالات حاضرہ پر تبصرہ

۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کی کامیاب کاروائیوں کے بعد، اسرائیلی غاصب حکومت نے فلسطین میں شہریوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ جنگ کے آغاز سے اب تک یعنی تقریبا ۱۱۰ روز میں فلسطین میں غاصب اسرائیلیوں نے پچیس ہزار دو سو (۲۵،۲۰۰) فلسطینی شہید کیے اور ساٹھ ہزار سے زائد زخمی کیے ہیں۔

فلسطین پر اسرائیلی غاصبین کی ناجائز اور تمام قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی جنگ اب بھی اس طرح جاری ہے کہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والا مغرب مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، اور مسلمان ملکوں کی مدد صرف مذمت تک محدود ہے۔

غزہ میں جاری تباہی سے تمام مسلمان غمزدہ ہیں اور خون کے آنسو رو رہے ہیں، لیکن خوارج کے لیے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف جاری جنگ ایک پراپیگنڈہ مہم سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔

اسرائیل پر حماس کے کامیاب حملے کے آغاز میں خوارج کی رسمی پراپیگنڈہ فیکٹری بالکل چپ تھی، لیکن ان نام نہاد نصرت کرنے والوں نے اسرائیل کی اس جاری جنگ میں اس کے ایک یونٹ کا کردار ادا کیا اور حماس کے ارتداد کے فتاویٰ جاری کیے تاکہ فلسطینی مجاہدین کے اس عظیم کارنامے کو خاک میں ملا سکیں۔ غزہ پر اسرائیلی درندگی شروع ہونے کے ایک ہفتہ گزرنے تک خوارج کا رسمی میڈیا بالکل خاموش تھا اور غزہ کا نام تک نہیں لے رہا تھا۔ لیکن ایک ہفتے گزرنے کے بعد خوارج کی رسمی پراپیگنڈہ فیکٹری اس نتیجے پر پہنچی کہ اس جنگ سے اپنے لیے خاصا پراپیگنڈہ فائدہ سمیٹا جا سکتا ہے۔ کچھ وقت کے بعد خوارج کے تمام پراپیگنڈہ صفحات غزہ کے مسلمانوں کی مدد اور اسرائیل کے خلاف جہاد کے پوسٹرز اور تحاریر سے بھر گئے۔

غزہ کی تباہی سے خوارج کا پراپیگنڈہ استفادہ اب بھی زور و شور سے جاری ہے۔ خوارج اپنی تحاریر اور پراپیگنڈہ کے ذریعے خود کو غزہ کے مسلمانوں کے اصلی مدافعین ظاہر کر رہے ہیں۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ خوارج خود کو غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے حقیقی محافظ کہہ تو رہے ہیں لیکن وہ غزہ میں انگلیوں پر گنے جانے والے چند لوگوں تک کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

غزہ میں خوارج کے نزدیک مسلمان ہیں کہاں؟ فلسطین کے تمام لوگ یا تو الفتح گروپ کے حامی ہیں یا حماس کے یا پھر دیگر سیاسی اور جہادی گروپوں کے۔ خوارج کے نزدیک تو یہ تمام جماعتیں کافر ہیں، ان کے حامی اسلام سے خارج ہیں اور جو کوئی بھی انہیں کافر نہ کہے وہ بھی کافر ہے۔ فلسطین کے تمام باسی خوارج کے اس قاعدے اور تکفیر در تکفیر کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں (نعوذ باللہ)۔ تو اگر فلسطین میں چند محدود لوگوں کے سوا، جو خوارج کے ہم فکر اور ساتھی ہیں (اگر ایسے لوگ فلسطین میں موجود ہیں تو)، اور کوئی مسلمان نہیں، تو خوارج کون سے مسلمانوں کی نصرت اور مدد کا دعویٰ کرتے ہیں؟

اگر بالفرض وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غزہ کے مسلمانوں کی تکفیر نہیں کرتے تو پھر وہ اسرائیل کے عسکری اور پراپیگنڈہ سپاہیوں کا کردار کیوں ادا کر رہے ہیں اور فلسطین کی آزادی کی خاطر جدوجہد کرنے والوں کی تکفیر کیوں کر رہے ہیں اور ان کے قتل کو پہلی ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

خوارج کا منہج اور ان کی جاری مہم کو سامنے رکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دکھ درد سے صرف پراپیگنڈہ کی خاطر استفادہ کرتے ہیں باقی ان کی زندگی سے انہیں کوئی سروکار نہیں اور ان کے قتل کو تو وہ کافروں کے قتل سے بھی افضل سمجھتے ہیں۔