خارجی اور متشدد فکر اور جہادی تحریکات | دوسری قسط

مولوی احمد جان

اہل سنت والجماعت کے ائمہ، سلف اور علمائے کرام نے اس حقیقت کی بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دین کے مزاج کا بحثیت مجموعی کامل فہم عطا کیا ہے، تکفیر کے معاملے میں انتہائی احتیاط برتی ہے، بہت سے ایسے فرقے ہیں جن کے عقائد کفریہ ہیں، لیکن تاویل کی وجہ سے پھر بھی ان کی تفکیر نہیں کی گئی، حالانکہ ان کی تاویلات بھی باطل ہیں۔

جیسا کہ علامہ شاطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب "الاعتصام” جلد ۲، صفحہ نمبر ۲۱ میں فرماتے ہیں:

"وقد اختلف الأمة في تكفير هؤلاء الفرق أصحاب البدع العظمى، ولكن الذي يقوي في النظر ويحسب في الأثر عدم القطع بتكفيرهم، والدليل عليه عمل السلف الصالح فيهم”.

وہ گمراہ فرقے جو شدید بدعتی ہیں (یعنی جن کی بدعات مکفرہ ہیں) جیسے مرجئہ، معتزلہ، روافض، جہمیہ، قدریہ، اور خوارج وغیرہ، ان کی تکفیر کے حوالے سے امت میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن قوی اور مضبوط بات یہ ہے کہ سلف صالحین نے ان کی تکفیر نہیں کی۔

یہی وجہ ہے کہ علامہ نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں:

"ولا يكفر أهل الهواء والبدع”. (جلد: ۱، صفحہ: ۱۵۰)

دوسرے لفظوں میں نفس پرستوں اور بدعتیوں کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور سلف کے نزدیک اہل بدعت سے مراد خوارج، معتزلہ، قدریہ اور رافضی فرقے ہیں، جن کے عقائد و افکار کفریہ ہیں، لیکن تاویلات کی وجہ سے تکفیر نہیں کی گئی۔

ابن مفلح نے ابن الجوزی الحنبلی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

"رأيت جماعة من العلماء أقدموا على تكفير المتأولين من أهل القبلة وأقبح حالاً من هؤلاء المكفرين قوم من المتكلمين كفروا عوام المسلمين”.

(الفروع لإبن المفلح، جلد: ۶، صفحه: ۴۲۸)      

ترجمہ: میں نے علمائے کرام کی ایک جماعت کو دیکھا جنہوں نے اہل قبلہ میں تاویل کرنے والوں (خوارج، روافض، معتزلہ وغیرہ) کی تکفیر کرنے کی کوشش کی، لیکن ان مکفرین سے کہیں زیادہ بدتر اور ناکارہ لوگ وہ ہیں جو عامۃ المسلمین کی تکفیر کرتے ہیں

اسی وجہ سے علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

"وينبغي للعالم أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام”.

(البحر الرائق، جلد: ۵، صفحه: ۱۳۴)

اور اسی طرح علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"لا ينبغي للعالم أن يبادر بتكفير أهل الإسلام”.

(حاشية إبن عابدين، جلد: ۴، صفحه: ۲۳۰)

تکفیر کے معاملے میں بڑے بڑے علماء و مشائخ نے ہمیشہ زیادہ سے زیادہ احتیاط سے کام لیا ہے اور کم از کم توقف کا راستہ اختیار کیا ہے۔

سطحی، کم عمر اور غیر فقیہ حضرات اکثر اس معاملے میں بہت جلد بازی اور عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جیسا کہ امام قرطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب "المفہم”، جلد: ۲ صفحہ نمبر: ۱۱۱ میں فرماتے ہیں:

"وباب التكفير باب خطير، أقدم عليه كثير من الناس فسقطوا، وتوقف فيه الفحول فسلموا، ولا يعدل بالسلامة شيئًا”.

ترجمہ: تکفیر کا معاملہ بہت خطرناک ہے، بہت سے لوگوں نے تکفیر کے معاملے میں اقدام کیا اور جرأت کی، پھر گر پڑے، اور اہل علم و فضل نے اس میں توقف کیا تو وہ محفوظ رہے، اور بچ جانے والوں جیسا کوئی بھی نہیں۔

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا:

"هلك المتنطعون (قالها ثلاثا)

اور جن موضوعات پر اہل علم اور جید علمائے کرام نے جرأت اور اقدام نہیں کیا، اس پر جرات اور اقدام سے معاشرے میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ ابو عثمان الحداد المالکی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"تقديم من أخر الله وتأخير من قدم الله فتنة في الأرض وفساد كبير”.

(ترتيب المدارك وتقريب المسالك للقاضي عياض رحمه الله، جلد: ۵، صفحه: ۸۲)

ترجمہ: جسے اللہ نے پیچھے کیا ہے اسے ترجیح دینا اور جسے اللہ نے ترجیح دی ہو اسے پیچھے کر دینا، اس سے زمین پر بہت زیادہ فتنہ و فساد پھیلتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اکابرین اور بڑے علماء کو ٹالنا اور تکفیر کے خطرناک اور سنگین معاملات میں کم فہم، نوجوان، کم عمر اور ایسے علماء سے رجوع کرنا جنہوں نے اس میدان میں اللہ کی بات کو پس پشت ڈال دیا ہو بہت زیادہ فتنہ و فساد کا باعث ہے۔

تکفیر کے معاملے میں ایسی احتیاط ہونی چاہیے جیسے سلف صالحین، اکابرین اسلام اور فقہائے شریعت کا مزاج تھا، کیونکہ تکفیر میں عجلت و جلد بازی کرنے سے انسان دین سے خارج ہو جاتا ہے، جیسا خوارج تکفیر کے موضوع میں جلد باز ہیں۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:

"يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية”. (رواه البخاري)

اسی وجہ سے علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"يقع في كلام أهل المذهب تكفير كثير، ولكنه ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون، بل من غيرهم، ولا عبرة لغير الفقهاء”.

(فتح القدير، جلد: ۶، صفحه: ۱۰۰)

ترجمہ: اہل مذہب (یعنی احناف رحمہ اللہ) کے کلام میں بہت زیادہ تکفیر ہو گی، لیکن یہ فقہاء و مجتہدین کی بات نہیں ہے، بلکہ ایسوں کی ہے جو مجتہد فقہائے کرام نہیں ہیں، اس لیے ایسے غیر مجتہد فقہا کی بات سے تکفیر کا کوئی اعتبار نہیں۔

علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ ایسے شخص کی تکفیر صحیح ہے بشرطیکہ وہ فقہ میں مجتہد ہو۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں کسی اور کا قول صحیح نہیں ہے۔

علامہ ابن الھمام وہ ہیں کہ جن کی کی گئی تکفیر کا اعتبار ہو گا کیونکہ وہ فقہ میں مجتہد تھے، ان کے سامنے اس موضوع پر کسی اور کا قول معتبر نہیں۔

ابن الجزی المالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ابن الجزی المالکی رحمہ اللہ نے فرمایا: "کفریہ کلمات جو نصوص میں ملتے ہیں ان کے مختلف احکام ہیں:

"فمنها ما هو كفر، ومنها ما هو دون الكفر، ومنها ما يجب في القتل، ومنها ما يجب فيه الأدب، ومنها ما لا يجب فيه شيء”

(القوانين الفقهية لإبن جزي رح، صفحه: ۲۴۰)

ترجمہ: بعض کفر ہیں اور بعض کفر سے کم تر ہیں، بعض میں قتل واجب ہو جاتا ہے، بعض میں ادب، جبکہ بعض میں کوئی چیز واجب نہیں ہوتی۔ اور پھر کہتے ہیں کہ اس کی پوری تفصیل قاضی عیاض رحمہ اللہ نے شفا میں کی ہے۔

اسی بناء پر علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل السنۃ والجماعۃ مجمل باتوں پر تکفیر نہیں کرتے بلکہ تفصیل کرتے ہیں:

"وعليك بالتفصيل والتبيين فال قد أفسدا هذا الوجود إطلاق والإجمال دون بيان وخبط الأذهان والأراء كل زمان”. (النونية، صفحه: ۵۲)

ترجمہ: ہر بات کو تفصیل اور وضاحت سے بیان کرو، کیونکہ جب بات بغیر وضاحت کے مطلق اور مجمل ہو تو یہ دنیا و آخرت برباد اور ذہنوں اور آراء کو ہر زمانے میں الجھا دیتی ہے۔

اسی وجہ سے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب تک اہل قبلہ میں سے کوئی گناہ کو حلال نہ سمجھے یعنی تحلیل کا عقیدہ نہ رکھتا ہو، مطلق طور پر اہل السنہ والجماعۃ کی تکفیر نہیں کرتا، وہ کہتا ہے:

"لا يكفرون أحدًا من أهل القبلة بذنب”

کہ اہل السنہ میں کوئی بھی اہل قبلہ کو مطلق گناہ کے ارتکاب پر کافر نہیں کہتا۔

(مجموع الفتوی، جلد: ۲۰، صفحه: ۹۰)

مقصد یہ ہے کہ تکفیر ایک خطرناک اور سنگین موضوع ہے، اس میں جلد بازی اور عجلت کرنا اہل السنۃ والجماعۃ کا مزاج نہیں اور اہل سنت کے اکابرین نے ہمیشہ اس موضوع پر بہت احتیاط برتی ہے۔ جیسے امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"وباب التكفير باب خطير، أقدم عليه كثير من الناس فسقطوا، وتوقف فيه الفحول فسلموا، ولا يعدل بالسلامة شيئًا”.

ترجمہ: تکفیر کا معاملہ بہت خطرناک ہے، بہت سے لوگوں نے تکفیر کے معاملے میں اقدام کیا اور جرأت کی، پھر گر پڑے، اور اہل علم و فضل نے اس میں توقف کیا تو وہ محفوظ رہے، اور بچ جانے والوں جیسا کوئی بھی نہیں۔

تکفیری مزاج اور تکفیر میں جلد  بازی کرنا معاشرے سے الفت اور محبت ختم کر دیتا ہے، بغض، عداوت اور فرقہ پرستی کو ہوا دیتا ہے، انتشار اور بد نظمی پیدا کرتا ہے، مسلمانوں کی قوت کمزور کرتا ہے، کفار اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بے گناہ خون اور مال کو مباح سمجھا جاتا ہے، اپنے امراء کے خلاف خروج اور بغاوت ہوتی ہے، سلف، اکابر اور قائدین کی گستاخی ہوتی ہے، جیسا کہ خوارج کے ایک رہنما عمر بن عبید نے کہا کہ میں علی، عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کی گواہی تسلیم نہیں کرتا "ما أجزت شهادتهم”۔

اس کی وجہ سے الأهم فالأهم سے توجہ ہٹتی ہے، اس وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے: ’’باب ترک قتال الخوارجـ‘‘

تکفیر میں جلد بازی کرنے والے ماہر فقہاء اور مستند متبحر علمائے کرام نہیں، بلکہ کم عمر، سطحی علم رکھنے والے حضرات ہیں، جو فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث ہیں، جیسے حسن بصری رحممہ اللہ نے فرمایا:

"العامل على غير علم يفسد أكثر مما يصلح”

جو بغیر علم کے کام کرتا ہے، اس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے اس لیے "فاطلبوا العلم طلبًا لا تضروا بالعبادة” علم ایسے طریقے سے طلب کرو کہ جس سے عبادت کو نقصان نہ ہو اور "واطلبوا العبادة طلبًا لا تضر بالعلم، فإن القوم طلبوا العبادة وتركوا العلم حتى خرجوا بأسيافهم على أمة محمد صلى الله عليه وسلم” عبدات ایسے طریقے سے طلب کرو کہ علم کو اس سے نقصان نہ ہو، کیونکہ ایک قوم عبادت طلب کرتی ہے اور علم چھوڑ دیتی ہے، تو وہ نبی کریم ﷺ کی امت کے خلاف تلوار اٹھاتی ہے۔

"ولو طلبوا العلم لم يدلهم على ما فعلوا” اور جب علم طلب کیا ہو (یعنی کوئی علمی تحقیق کی ہو)  تو انہیں ایسا کام نہ دکھایا جاتا۔

(مفتاح دار السعادة، صلحه: ۸۳)

جن خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، وہ بھی کم علم تھے، کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی صحابہ کرام کے ساتھ نہیں تھا، جن خوارج نے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، وہ بھی جاہل تھے، ان میں کوئی جید عالم نہیں تھا۔

اس وجہ سے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’الرد علی البکری کی جلد:۲ صفحہ ۴۹۰ پر فرمایا: اہل سنت والجماعت میں علم، عدل اور رحمت ہے۔ اہل سنت والجماعت کے مزاج میں علم، عدل اور امت کے لیے مہربانی ہے۔ اس کے مقابلے میں خوارج میں علم نہیں، عدل نہیں اور امت کے لیے رحم بھی نہیں۔

لہذا خلاصہ یہ کہ تکفیر میں جلد بازی نے جیسا کہ سابقہ ادوار میں امت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا اور معاصر جہاد میں جو امت مسلمہ اور مجاہدین کو نقصان پہنچا رہی ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔

 

جاری ہے…!