خارجی اور متشدد فکر اور جہادی تحریکات | تیسری قسط

سلف صالحین (صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین یعنی اہل القرون الثلاثۃ) کا مزاج یہ تھا کہ تکفیر میں نہایت احتیاط سے کام لیتے تھے، کیونکہ اس سے نہایت خطرناک نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ فِرَقِ ضالّه (گمراہ فرقے) یعنی خوارج، معتزلہ، جہمیہ، شیعہ وغیرہ اسلام سے منسوب گمراہ فرقے ہیں جو اہل سنت سے خارج ہیں اور اسلاف کے دور میں بھی اپنے انہی گمراہ عقائد کے ساتھ موجود تھے۔ لیکن اسلاف کے دور میں انہیں فِرَقِ ضالّه میں شمار کیا جاتا تھا، یعنی انہیں فِرَقِ ضالَّه (گمراہ فرقوں) سے تعبیر کیا جاتا تھا فِرَقِ مرتده (مرتد فرقوں) یا فِرَقِ کافره (کافر فرقوں) سے تعبیر نہیں کیا جاتا تھا۔ اگرچہ ان میں بعض کے عقائد کفریہ تھے اور ان عقائد کے کفر ہونے پر سلف کا اجماع تھا لیکن پھر بھی علی الاطلاق ان فرقوں اور خاص طور پر ان فرقوں کے افراد کی تکفیر اسلاف نے نہیں کی، مثلا معتزلہ، اور جہمیہ دونوں خطرناک گمراہ گروہ ہیں، جن کے بہت سے عقائد کفریہ تھے، مثلا معتزلہ عذاب قبر، اعمال کے وزن، پل صراط، جنت اور دوزخ بن چکے ہیں اور آج بھی موجود ہیں اس کے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کے منکر تھے۔ اسی طرح معتزلہ اور جہمیہ دونوں قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کے بھی منکر تھے، وہ قرآن کریم کو مخلوق گردانتے تھے، حالانکہ اس حوالے سے اسلاف کا اجماع ہے کہ اگر کوئی قرآن کریم کے ایک حرف کے بارے میں بھی ایسا عقیدہ رکھے کہ یہ مخلوق ہے تو وہ کافر ہے لیکن پھر بھی اسلاف نے معتزلہ اور جہمیہ کو گمراہ کہا کافر اور مرتد نہیں کہا۔ بلکہ مامون، واثق اور معتصم مسلمانوں کے یہ تینوں خلیفہ بڑے معتزلہ تھے، اور اہل سنت کے بڑے بڑے ائمہ اور علمائے کرام کو انہوں نے اس لیے قید اور شہید کیا کہ وہ خلق القرآن کا عقیدہ کیوں نہیں رکھتے، اہل سنت کے علمائے کرام کو سرکاری اور حکومتی مناصب سے معزول کر دیا گیا انہیں تب تک کے لیے قید میں ڈالے رکھا گیا کہ جب تک وہ خلق القرآن کے عقیدے کا اقرار نہیں کر لیتے۔

جیسے شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی میں فرمایا:

كَمَا قَالَ السَّلَفُ مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ وَمَنْ قَالَ: إنَّ اللَّهَ لَا يُرَى فِي الْآخِرَةِ فَهُوَ كَافِرٌ وَلَا يَكْفُرُ الشَّخْصُ الْمُعَيَّنُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ.

ترجمہ: جس طرح اسلاف رحمہم اللہ فرما گئے ہیں کہ جو قرآن کریم کو مخلوق کہے یا آخرت میں اللہ سبحان وتعالیٰ کے دیدار کا منکر ہو تو وہ کافر ہے، لیکن ایک معین شخص کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ اس پر حجت تمام نہ ہو گئی ہو۔ (یعنی جب تک کہ تمام شکوک و شبہات کا ازالہ نہ کر دیا گیا ہو اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر کتاب و سنت سے اپنا باطل استدلال کریں تو اس باطل تاویل کی وجہ سے ان کی معین و مشخص تکفیر نہیں کی جا سکتی، اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ معتزلہ بحیثیت مجموعی یا بحیثیت فرقہ کافر ہیں، کیونکہ اس حکم میں ہر فرد شامل ہو جاتا ہے اور ایسی تکفیر اہل سنت والجماعت کے منہج اور عقیدے کے خلاف ہے۔ ہاں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقیدۂ خلق القرآن یا آخرت میں اللہ کے دیدار کے انکار کا عیقدہ کفر ہے۔)

اسی طرح شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک اور جگہ فرمایا:

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ – وَهُوَ مَشْهُورٌ عَنْهُ – أَنَّهُمْ سَأَلُوهُ عَنْ الْقُرْآنِ أَخَالِقٌ هُوَ أَمْ مَخْلُوقٌ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِخَالِقِ وَلَا مَخْلُوقٍ وَلَكِنَّهُ كَلَامُ اللَّهِ. وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَأَيُّوبَ السختياني وَسُلَيْمَانَ التيمي وَخَلْقٍ مِنْ التَّابِعِينَ. وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى وَأَبِي حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْه وَأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ مِنْ الْأَئِمَّةِ وَكَلَامُ هَؤُلَاءِ الْأَئِمَّةِ وَأَتْبَاعِهِمْ فِي ذَلِكَ كَثِيرٌ مَشْهُورٌ بَلْ اشْتَهَرَ عَنْ أَئِمَّةِ السَّلَفِ تَكْفِيرُ مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ كَمَا ذَكَرُوا ذَلِكَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَغَيْرِهِ وَهَذَا الْمَأْثُورُعَنْ أَحْمَد وَهُوَ الْمَأْثُورُ عَنْ عَامَّةِ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَالْحَدِيثِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ؛ مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ وَمَنْ قَالَ: إنَّ اللَّهَ لَا يُرَى فِي الْآخِرَةِ فَهُوَ كَافِرٌ وَنَحْوَ ذَلِك.

ترجمہ: امام جعفر بن محمد صادق سے مشہور روایت ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ قرآن کریم خالق ہے یا مخلوق؟ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہ خالق ہے نہ مخلوق بلکہ اللہ کا کلام ہے اور امام جعفر صادق جیسی روایت حسن بصری، ایوب سختیانی، سلیمان تیمیی رحمہم اللہ اور دیگر بہت سے تابعین رحمہم اللہ سے بھی نقل کی گئی ہے۔ اور اسی طرح کی روایات امام مالک، لیث بن سعد، سفیان ثوری، ابن ابی یلی، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راھویہ رحمہم اللہ اور ان جیسے دیگر ائمہ کرام رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے۔ تو اس موضوع پر ان ائمہ اور ان کے تابعین کا مذہب و مؤقف بہت مشہور ہے، لیکن اہل سنت کے ائمہ اور اسلاف سے اس کی تکفیر مشہور ہے جو کہتا ہے کہ قرآن کریم مخلوق ہے۔

اور یہ بات امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور اہل سنت کے دیگر ائمہ رحمہم اللہ سے بھی نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو کہتا ہے کہ قرآن کریم مخلوق ہے یا کہتا ہے کہ اللہ سبحان وتعالیٰ کا آخرت میں دیدار نہیں ہوسکتا تو وہ شخص کافر ہے۔

دوسری جگہ فرمایا:

وَأَمَّا أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ فَكَلَامُهُ فِي مِثْلِ هَذَا مَشْهُورٌ مُتَوَاتِرٌ وَهُوَ الَّذِي اشْتَهَرَ بِمِحْنَةِ هَؤُلَاءِ الْجَهْمِيَّة فَإِنَّهُمْ أَظْهَرُوا الْقَوْلَ بِإِنْكَارِ صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَائِقِ أَسْمَائِهِ وَأَنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ حَتَّى صَارَ حَقِيقَةُ قَوْلِهِمْ تَعْطِيلَ الْخَالِقِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَدَعَوْا النَّاس إلَى ذَلِكَ وَعَاقَبُوا مَنْ لَمْ يُجِبْهُمْ إمَّا بِالْقَتْلِ وَإِمَّا بِقِطَعِ الرِّزْقِ وَإِمَّا بِالْعَزْلِ عَنْ الْوِلَايَةِ وَإِمَّا بِالْحَبْسِ أَوْ بِالضَّرْبِ وَكَفَّرُوا مَنْ خَالَفَهُمْ فَثَبَّتَ اللَّهُ تَعَالَى الْإِمَامَ أَحْمَد حَتَّى أَخْمَدَ اللَّهُ بِهِ بَاطِلَهُمْ وَنَصَرَ أَهْلَ الْإِيمَانِ وَالسُّنَّةِ عَلَيْهِمْ وَأَذَلَّهُمْ بَعْدَ الْعِزِّ وَأَخْمَلَهُمْ بَعْدَ الشُّهْرَةِ وَاشْتَهَرَ عِنْدَ خَوَاصِّ الْأُمَّةِ وَعَوَامِّهَا أَنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ وَإِطْلَاقُ الْقَوْلِ أَنَّ مَنْ قَالَ إنَّهُ مَخْلُوقٌ فَقَدْ كَفَرَ وَبِذَلِكَ أَفْتَى الْأَئِمَّةُ وَالسَّلَفُ فِي مَثَلِهِ وَاَلَّذِي يَقُولُ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ هُوَ فِي الْمَعْنَى مُوَافِقٌ لَهُ فَلِذَلِكَ كَفَّرَهُ السَّلَفُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ "خَلْقِ الْأَفْعَالِ” قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: مَنْ قَالَ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ.

ترجمہ: اور اس حوالے سے تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مؤقف بہت مشہور اور تواتر کی حد تک پہنچتا ہے اور جہمیہ کی وجہ سے ہی امام احمد رحمہ اللہ کو مشہور ابتلاء کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ جہمیہ کھل کر اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسماء کی حقیقت کے منکر تھے اور کھل کر کہتے کہ قرآن کریم مخلوق ہے، یہاں تک کہ اس مؤقف نے اللہ تعالیٰ کو درحقیقت کاموں سے فارغ ہی کر دیا (معاذ اللہ) اور اس طرف لوگوں کو دعوت دی اور اگر کوئی اس دعوت کا انکار کرتا تو اسے سزائیں دی جاتیں یا قتل کر ڈالا جاتا یا بیت المال سے اس کا سرکاری وظیفہ (تنخواہ) بند کر دیا جاتا، یا معزول کر دیا جاتا، یا قید میں ڈال دیا جاتا، یا تشدد کیا جاتا اور ان سب کی تکفیر کی جاتی جو اس عقیدے کی مخالفت کرتا۔ تو اللہ سبحان وتعالیٰ نے ان کے مقابلے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو استقامت بخشی اور وہ ان کے مقابلے میں سختی سے جم گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے اس باطل آگ کو بجھا دیا اور ان کے ذریعے اللہ نے اہل سنت کو اس گمراہ فرقے پر غالب کر دیا اور ان کی عزت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جہمیہ اور معتزلہ کو ذلیل کیا اور ان کی شہرت ختم کر ڈالی اور عام و خاص میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور مخلوق نہیں اور یہ بات مطلق مشہور ہو گئی کہ جو کوئی بھی کہے کہ قرآن کریم مخلوق ہے تو وہ بالیقین کافر ہے اور اس بات کا فتویٰ بھی اہل سنت کے ائمہ کرام اور اسلاف نے دیا کہ جو کوئی بھی قرآن کریم کو مخلوق کہے وہ کافر ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب (خلق الافعال) میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کا یہ فتویٰ نقل کیا ہے کہ جو کوئی قرآن کریم کو مخلوق کہے وہ کافر ہے۔

دوسری جگہ فرمایا:

وَتَكْفِيرُ الْجَهْمِيَّة مَشْهُورٌ عَنْ السَّلَفِ وَالْأَئِمَّةِ، لَكِنْ مَا كَانَ يَكْفُرُ أَعْيَانُهُمْ فَإِنَّ الَّذِي يَدْعُو إلَى الْقَوْلِ أَعْظَمُ مِنْ الَّذِي يَقُولُ بِهِ وَاَلَّذِي يُعَاقِبُ مُخَالِفَهُ أَعْظَمُ مِنْ الَّذِي يَدْعُو فَقَطْ وَاَلَّذِي يُكَفِّرُ مُخَالِفَهُ أَعْظَمُ مِنْ الَّذِي يُعَاقِبُهُ وَمَعَ هَذَا فَاَلَّذِينَ كَانُوا مِنْ وُلَاةِ الْأُمُورِ يَقُولُونَ بِقَوْلِ الْجَهْمِيَّة، إنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُرَى فِي الْآخِرَةِ وَغَيْرُ ذَلِكَ. وَيَدْعُونَ النَّاسَ إلَى ذَلِكَويمتحنونهم وَيُعَاقِبُونَهُمْ إذَا لَمْ يُجِيبُوهُمْ وَيُكَفِّرُونَ مَنْ لَمْ يُجِبْهُمْ. حَتَّى أَنَّهُمْ كَانُوا إذَا أَمْسَكُوا الْأَسِيرَ لَمْ يُطْلِقُوهُ حَتَّى يُقِرَّ بِقَوْلِ الْجَهْمِيَّة، إنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ وَغَيْرُ ذَلِكَ.

وَلَا يُوَلُّونَ مُتَوَلِّيًا وَلَا يُعْطُونَ رِزْقًا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ إلَّا لِمَنْ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَعَ هَذَا فَالْإِمامُ أَحْمَد رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تَرَحَّمَ عَلَيْهِمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُم وَكَذَلِكَ الشَّافِعِيُّ لَمَّا قَالَ لِحَفْصِ الْفَرْدِ حِينَ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ: كَفَرْت بِاَللَّهِ الْعَظِيمِ. بَيَّنَ لَهُ أَنَّ هَذَا الْقَوْلَ كُفْرٌ وَلَمْ يَحْكُمْ بِرِدَّةِ حَفْصٍ بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُ الْحُجَّةُ الَّتِي يَكْفُرُ بِهَا وَلَوْ اعْتَقَدَ أَنَّهُ مُرْتَدٌّ لَسَعَى فِي قَتْلِهِ وَقَدْ صَرَّحَ فِي كُتُبِهِ بِقَبُولِ شَهَادَةِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ وَالصَّلَاةِ خَلْفَهُمْ.

ترجمہ: اہل سنت کے ائمہ کرام اور اسلاف سے جہمیہ کی تکفیر مشہور ہے، لیکن معین تکفیر کسی کی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ جو کوئی بھی جہمیہ کے عقیدے کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ اس سے بڑا جہمی ہے جس کا صرف جہمیت کا عقیدہ ہو۔ اور جو کوئی جہمی عقیدے کے مخالفین  کو سزائیں دیتا ہو وہ صرف جہمیت کی طرف دعوت دینے والے سے بڑا جہمی ہے۔ اور جو کوئی جہمیت کے عقیدے کی مخالفت کرنے والے کی تکفیر کرتا ہو وہ جمہیت کے مخالفین کو سزا دینے والے سے زیادی بڑا جہمی ہے اور اس وقت مسلمانوں کے جو حکمران تھے ان کا عقیدہ بھی جہمیت تھا اور یہ کہتے تھے کہ قرآن کریم مخلوق ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح کی دیگر گمراہیاں اور جہمی عقائد رکھتے تھے۔ اور یہ حکمران عوام کو اس باطل عقیدے کی طرف بلانے والے تھے، اور ان عقیدے کے مخالفین کو سزائیں بھی دیتے تھے اور جو اس دعوت کو قبول نہ کرتا اسے کافر بھی قرار دے دیتے، یہاں تک کہ سنی مسلمان قیدی کیا جاتا اور اسے اس وقت تک آزاد نہ کیا جاتا کہ جب تک جہمیت اور اعتزال کے مؤقف اور عقیدے، کہ قرآن مخلوق ہے اور اس طرح کے دیگر باطل عقائد، کا اقرار نہ کر لے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے حفص الفرد نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے تو جواب میں اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم نے کفر کیا اور اسے بتایا کہ یہ مؤقف کفر ہے لیکن صرف اس بات کی وجہ سے اس کے ارتداد کا حکم نہیں لگایا کیونکہ حفص الفرد پر اس کی دلیل واضح نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ کافر ہو جاتا اور اگر امام شافعی کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حفص الفرد مرتد ہو چکا ہے تو اسے قتل کی کوشش کرتے۔ اور امام شافعی کی کتابوں میں بدعتیوں کی شہادت کی قبولیت اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی تصریح ہے، یعنی امام شافعی رحمہ اللہ، خوارج، معتزلہ، جہمیہ وغیرہ جیسے باطل فرقوں کو کافر اور مرتد نہیں گردانتے تھے، بلکہ ان کی شہادت بھی قبول کرتے تھے اور ان کے پیچھے نماز بھی جائز سمجھتے تھے۔ اہل سنت ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور اسے جائز سمجھتے تھے  اور بدعتی اہل سنت کے پیچھے نماز جائز نہیں سمجھتے۔

شیخ الاسلام علامہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس مباحثے کی مجلس میں اپنے زمانے کے ایک شافعی عالم سے فرمایا:

عِنْدِي عَقِيدَةٌ لِلشَّيْخِ أَبِي الْبَيَانِ، فِيهَا أَنَّ مَنْ قَالَ: إنَّ حَرْفًا مِنْ الْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ فَقَدْ كَفَرَ وَقَدْ كَتَبْت عَلَيْهَا بِخَطِّك أَنَّ هَذَا مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَأَئِمَّةِ أَصْحَابِهِ.

ترجمہ: میرے پاس شیخ ابو البیان رحمہ اللہ کا عقیدہ ہے کہ جس میں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو کوئی قرآن کریم کے کسی ایک حرف کو بھی مخلوق کہے تو اس نے کفر کیا اور اس پر ان کی اپنے ہاتھ سے لکھا ہے کہ یہ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے۔

ان تمام اقتباسات کا مقصد یہ تھا کہ باوجودیکہ اسلاف بالاتفاق عقیدۂ خلق القرآن کو کفر کہتے ہیں لیکن پھر بھی معتزلہ اور جہمیہ کو کافر نہیں کہتے، بلکہ فِرَقِ ضاله اور فِرَقِ مبتدعه میں شمار کرتے ہیں اسی طرح مامون الرشید، معتصم باللہ اور واثق باللہ کو بھی مرتد نہیں کہتے، حالانکہ یہ بڑے معتزلی تھے اور اعتزال کا عقیدہ نہ ماننے کی وجہ سے بڑے بڑے علمائے اسلاف کو شہید کیا، قید میں ڈالا، ان کے مناصب و عہدوں سے ہٹایا اور بیت المال سے ان کی تنخواہیں بند کر دیں اور بعض کو تو اس وقت تک قید و بند میں رکھا کہ جب تک اس باطل عقید کو قبول نہیں کر لیں، لیکن پھر بھی اسلاف نے ان کی تکفیر کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لیا اور ان خلفاء کی تکفیر نہیں کی۔

جیسا کہ ابو حامد بن مرزوق رحمہ اللہ نے فرمایا:

لم يكفر الفقهاء ولا المحدثون المعتزلة، مع ضلالهم وانحرافهم عن نهج السواد الأعظم، ومع ضلالهم لم يكفرهم التابعون ولا أتباعهم ومع تعذيبهم للعلماء لم يكفرهم أيضا الفقهاء ولا المحدثون، وأقصى ما قاله فيهم أهل السنة جميعا، أنهم مبتدعة.

حاصل یہ کہ معتزلہ میں بہت سی خامیاں تھیں، مثلا وہ گمراہ تھے، اہل سنت والجماعت سے منحرف تھے، انہوں نے علمائے کرام کو بہت سزائیں دیں، لیکن فقہاء اور محدثین نے ان کی تکفیر نہیں کی، زیادہ سے زیادہ تمام اہل سنت ان کے بارے میں یہی بات کہتے ہیں کہ وہ بدعتی ہیں۔

وقد كان لهم مع انحرافهم عن نهج السواد الأعظم مواقف مشكورة في الرد على الملاحدة والزنادقة الذين كثروا، فطعنوا في صدر الخلافة العباسية في الشريعة الإسلامية بشتى الوسائل، بالمناظرات والتأليف.

حاصل اس کے ساتھ یہ کہ ان میں اہل سنت کے منہج سے انحراف موجود تھا، لیکن ان کے بعض اچھے کام بھی تھے، جیسے انہوں نے اس وقت کے زنادقہ اور ملحدین کا رد کیا جو بہت بڑھ چکے تھے، اور عباسی خلافت کے ابتدائی وقت میں وہ مختلف طریقوں سے یعنی مناظروں اور تالیفات کے ذریعے سے اسلامی شریعت پر تنقید کرتے تھے۔

اس حوالے سے ملا علی قاری رحمہ اللہ ابن حجر رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

الصواب عند الأكثرين من علماء السلف والخلف أن لا نكفر أهل البدع والأهواء إلا إذا أتوا بكفر صريح لا استلزامي، لأن الأصح أن لازم المذهب ليس بمذهب، ومن ثم لا يزال المسلمون يعاملونهم معاملة المسلمين في نكاحهم وإنكاحهم والصلاة على موتاهم، ودفنهم في مقابرهم، لأنهم وإن كانوا مخطئين غير معذورين حقت عليهم كلمة الفسق والضلالة إلا أنهم لم يقصدوا بما قالوه اختيار الكفر.

متقدمین اور متاخرین علمائے کرام کے نزدیک حق بات یہی ہے کہ ہم مدعتیوں کی تکفیر نہیں کرتے، سوائے اس کے کہ صریح کفر کریں نہ کہ التزامی کفر۔ کیونکہ بالکل درست مذہب یہ ہے کہ لازم نہیں کہ یہ ان کا مذہب ہو، اسی وجہ سے ہمیشہ مسلمانوں نے بدعتیوں کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کیا ہے، نکاح میں، جنازوں میں، تدفین میں، کیونکہ اگر تو وہ خطا کار ہیں اور معذور نہیں ہیں تو فاسق ہیں، گمراہ ہیں لیکن ان کا مقصد کفر نہیں تھا۔

شہاب خفاجی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا:

ذهب الأشعري إلى عدم تكفير أهل الهوى والمذاهب المردودة، وعلى ذلك أكثر العلماء من الحنفية والشافعية.

ترجمہ: ابو الحسن الاشعری رحمہ اللہ کا بدعتیوں کی عدم تکفیر کی جانب میلان تھا۔ اور ان مذاہب کی عدم تکفیر کی جانب جو مردود ہیں اور یہ رائے احناف اور شوافع میں اکثر علمائے کرام کی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہر بدعتی اہل سنت والجاعت سے خارج نہیں ہوتا، بدعات کے اپنے درجے اور اقسام ہیں۔ الاعتصام میں امام شاطبی رحمہ اللہ نے اس بارے میں زبردست بات کی ہے۔ ماضی کے بدعتی جیسے معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، خوارج، اہل تشیع وغیرہ یہ سب عقائد، اصولوں اور کلیات میں بدعتی تھے، یعنی بدعات کلیہ میں مشغول تھے، تو وہ اہل سنت سے خارج ہیں اور اگر کوئی عقیدے، اصول اور کلی بدعات میں ملوث نہ ہو بلکہ صرف جزئی اور فروعی بدعات میں مشغول ہو تو وہ اس کی وجہ سے اہل سنت والجماعت سے خارج نہیں ہوتا، اور اگر بعض کے معاملے میں اہل سنت کے درمیان اختلاف پایا جائے تو پھر تو وہ بدعت بھی بالاتفاق نہ ہوئی، تو اگر کوئی اس کے بارے میں استحباب کی بات کرتا ہے اور کوئی اسے بدعت کہتا ہے، جیسا کہ (معالم فی الوسطیۃ و الاعتدال) کے صفحہ نمبر ۲۲ پر بدعات کے درجات کے حوالے سے لکھا ہے:

تفاوت مراتبا لبدع، فمنها ما يخرج منا لسنة، ومنها ما دون ذلك، كما في كلاما لشاطبي في "الاعتصام” وتقسيمها لبدعة إلى كلية وجزئية، مقام البدعة الكلية، القائمة على أصل مخالف للكتاب والسنة.

بدعات کے درجات میں فرق:

ترجمہ: ان میں سے بعض وہ ہیں کہ جن کی وجہ سے کوئی شخص اہل سنت سے خارج ہو جاتا ہے لیکن بعض کا درجہ ایسا نہیں بلکہ اس سے کم درجے کے ہیں یعنی ان سے کوئی شخص ان کی وجہ سے اہل سنت سے خارج نہیں ہوتا جیسا کہ امام شاطبی رحمہ اللہ نے اعتصام میں ذکر کیا ہے اور بدعت کو کلی و جزئی میں تقسیم کیا ہے اور فرمایا کہ جزئی بدعات کی وجہ سے کوئی شخص اہل سنت سے خارج نہیں ہوتا سوائے اس صورت میں جب یہ بڑھتے بڑھتے ایسی کلی بدعت کے مقام تک پہنچ جائے جو کہ قرآن و سنت کے مخالف اصل اور قاعدہ پر کھڑی ہو۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ بہت سے اہل سنت والجماعت بعض بدعات کا شکار ہیں لیکن ان کی وجہ سے وہ اہل سنت والجماعت سے خارج نہیں ہوتے۔

علامہ شاطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب (الاعتصام) میں فرماتے ہیں:

ثُمَّ إنَّ الْبِدَعَ عَلَى ضَرْبَيْنِ: كليَّة وجزئيَّة، فأمَّا الكليَّة: فَهِيَ السَّارِيَةُ فِيمَا لَا يَنْحَصِرُ مِنْ فُرُوعِ الشَّرِيعَةِ، وَمِثَالُهَا بِدَعُ الْفِرَقِ الثَّلَاثِ وَالسَّبْعِينَ فإنَّها مُخْتَصَّةٌ بِالْكُلِّيَّاتِ مِنْهَا دُونَ الْجُزْئِيَّاتِ.

وأمَّا الْجُزْئِيَّةُ: فَهِيَ الْوَاقِعَةُ فِي الْفُرُوعِ الْجُزْئِيَّةِ، وَلَا يَتَحَقَّقُ دُخُولُ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ الْبِدَعِ تَحْتَ الْوَعِيدِ بِالنَّارِ، وَإِنْ دَخَلَتْ تَحْتَ الْوَصْفِ بالضلال، فَعَلَى هَذَا إِذَا اجْتَمَعَ فِي الْبِدْعَةِ وَصْفَان، كَوْنُهَا جُزْئِيَّةً وَكَوْنُهَا بِالتَّأْوِيلِ، صَحَّ أنْ تَكُونَ صغيرة والله أعلم.

ترجمہ: بدعت کی دو اقسام ہیں، بدعات کلیہ اور بدعات جزئیہ۔ بدعات کلیہ شریعت کی بے شمار جزئیات و فروعات میں سرایت کر جاتی ہیں (یعنی ان بدعات کی وجہ سے دین کے بے شمار فروعی و جزئی احکام کی صورت تبدیل ہو جاتی ہے، جیسے شیعہ، معتزلہ، جہمیہ اور خوارج کی بدعات)۔ اس کی مثال تہتر (۷۳) گمراہ فرقوں کی بدعات ہیں جو کہ بدعات کلیہ ہیں نہ کہ جزئیہ۔ جہاں تک بات بدعات جزئیہ کا تعلق ہے تو وہ جزئی فروعات میں واقع ہوتی ہیں (اور اس جزئی مسئلے تک ہی محدود رہتی ہیں اور بس) اور اس قسم کی بدعات ان بدعات میں سے نہیں جن کے بارے میں جہنم کی سزا کی وعید کی گئی ہے، اگر تو یہ بھی ضلالت اور گمراہی میں شمار ہوں تو پھر جب ایک بدعت میں دو صفات موجود ہوں، ایک یہ کہ وہ بدعت جزئی ہو اور دوسی یہ کہ تاویل کے ساتھ ہوں تو یہ بدعتِ صغیرہ ہے۔

علامہ شاطبی رحمہ اللہ نے اس مقام پر بدعات کے حکم کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے۔ بدعات کا یہ موضوع بھی آج کل بعض جگہں پر افراط کا شکار ہے، اور جزئی، اشتباہی اور اختلافی بدعات کی وجہ سے ایک دوسرے کو اہل سنت سے خارج کرنے کے فتاویٰ جاری کیے جاتے ہیں، اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی یا ناجائز کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا تشدد اسلامی و جہادی تحریکات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے متشدد افراد کے لیے جہادی تحریکات میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ جہادی تحریکات پوری امت کی نمائندگی کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ امت مسلمہ کے تمام طبقات کفریہ نظاموں کے خلاف اور عالم اسلام کی آزادی کی خاطر اپنے ساتھ کھڑا کر لیں۔ اور اس طرح کے عناصر عظیم اختلاف و افتراق کا سبب بنتے ہیں۔ حالانکہ اسلاف نے جہادی اعمال میں کفر کے خلاف عقیدے کے لحاظ سے بدعتیوں یعنی فرق ضالہ (گمراہ فرقے) معتزلہ وغیرہ کے ساتھ مل کر اور ایک صف میں کام کیا ہے۔

لہٰذا اہل سنت والجماعت کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ تکفیر میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور اس بات پر اہل سنت کے تمام فقہاء و ائمہ کرام متفق ہیں۔

۱۔ امام ابو الحسن الاشعری رحمہ اللہ: امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو الحسن الاشعری رحمہ اللہ کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی اور وہ یہ کہ جب ان کی وفات ہونے لگی تو زاہر بن احمد سرخسی رحمہ اللہ سے کہا:

اشهد علی انی لا اکفر احدا من اھل القبلة لان الکل یشیرون الی معبود واحد.

اس بات کے گواہ رہنا کہ میں ایسے کسی ایک فرد کو بھی کافر نہیں کہتا جو اہل قبلہ میں سے ہو، کیونکہ یہ سب ایک معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

۲۔ امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قلت وبنحو هذا ادین، وکذا کان شیخنا ابن تیمیة في اواخر ایامه یقول انا لا اکفر احد من الامة.

ترجمہ: میرا بھی یہی دین اور طریقہ ہے کہ کسی کو کافر نہیں کہتا اور ہمارے شیخ اور استاد علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اپنے آخری ایام میں یہی بات کہی  کہ میں امت میں کسی کی تکفیر نہیں کرتا۔ (سیر اعلام النبلاء للذهبي، جلد: ۱۵، صفحه: ۸۸)

۳۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

انه لایسارع الی التکفیر الا الجهلة وینبغي الاحتراز من التکفیر ما وجد الانسان الی ذالک سبیلا فان استباحة الدماء والاموال من المصلین الی القبلة المصرحین بقول لا اله الا الله محمد رسول الله خطأ والخطأ فی ترک الف کافر اهون من الخطاء فی سفک محجمة من دم مسلم. (الاقتصاد في الاعتقاد للغزالي، صفحه: ۱۴۳)

حق یہ ہے کہ تکفیر میں جلدی جاہلوں کے سوا کوئی نہیں کرتا، اور تکفیر کے معاملے میں احتراز کی ضرورت ہے، تاکہ انسان دوبارہ اس راستے کو پا لے۔ کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے والوں کے مال و جان کو مباح کرنا، جو کہ صراحتا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتے ہوں، خطا ہے اور غلطی سے ایک ہزار کافروں کو چھوڑ دینا آسان معاملہ ہے بالمقابل اس کے کہ غلطی سے ایک عام مسلمان کا خون بہایا جائے۔

۴۔ علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وينبغي للعالم ان لايبادر بتکفير اهل الاسلام  عالم ته پکار ده چې په تکفير کې تلوار ونه کړي، واذا کان في المسئلة وجوه توجب التکفير ووجه يمنع التکفير…

ترجمہ: اور جب کسی مسئلے میں تکفیر کی بہت سی وجوہات ہوں اور ایک وجہ تکفیر سے مانع کرنے والی ہو، تو مفتی کو چاہیے کہ اس وجہ کی طرف میلان کرے جو تکفیر سے مانع ہے، اس لیے کہ مسلمان کے حوالے سے اچھا گمان ضروری ہے۔ (البحر الرائق: ۱۳۴/۵)

جاری ہے…!