’جہادی فنڈز‘ کو ذاتی اغراض کے لیے استعمال کرنے والے خوارج کی سائبر سکیورٹی کے سرکردہ افراد پر پابندی عائد۔

امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے کل ۳۰ جنوری کو اعلان کیا کہ اس نے داعش کی سائبر سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد رکھنے والی ایک خاتوں اور اس کے شوہر پر پابندی عائد کی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ مصری شہری مومن الموجی محمود سالم نے داعش،، اس کے حامیوں اور قائدین کے لیے سائبر سکیورٹی کی تربیت، اور ان کی آن لائن سکیورٹی کے لیے ’ّآفاق‘ نامی ایک الیکٹرانک تنظیم قائم کی تھی، مومن الموجدی سائبر سکیورٹی میں تجربہ کار ہونے کی وجہ سے خوارج کے درمیان داعش کے تکنیکی ماہر کے طور پر مشہور تھا۔

مومن کے ساتھ اس کی بیوی سارہ جمال محمد السید بھی اس کے ساتھ تھی اور دونوں مل کر آفاق نامی تنظیم چلا رہے تھے۔ یہ دونوں امداد کے نام پر خوارج کے لیے رقوم بھی جمع کرتے تھے۔

الزام ہے کہ سارہ جمال داعش کے دیگر حامیوں کو آفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ترغیب دلائی تھی۔ سارہ خوارج کے آن لائن مصادر کے لیے سرور بھی خریدے تھے۔

خوارج کی سائبر سکیورٹی کے اس سرکردہ جوڑے پر تقریبا دو سال قبل یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ خوارج کے نام پر جمع کیے گئے پیسے اپنے ذاتی استعمال میں لاتے ہیں، اور ان پیسوں سے گھر اور گاڑی خریدی اور سائبر آرک (Cyber Arch) کے نام سے ایک سائبر سکیورٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی بھی تشکیل دی۔

یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب مارچ ۲۰۲۲ء میں آفاق کے زیر انتظام ایک آن لائن سرور ہیک ہو گیا۔ سرور پر رسائی حاصل کرنے والے شخص نے، جو خود کو داعشی کہتا تھا، مومن اس کی بیوی اور اس کی کمپنی کی تصویریں بھی نشر کیں۔ ان معاملات کے سامنے آنے کے بعد آفاق کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو گئیں، امور جمود کا شکار ہو گئے اور مومن اور اس کی بیوی بھی ایک طرف ہو گئے۔

جہاد کے نام پر جمع کیے گئے پیسے اپنے ذاتی مقاصد میں استعمال کرنا داعشیوں کے اندر کوئی نیا کام نہیں ہے۔ نچلے درجے کے بہت سے داعشی اپنے مبہم اور گمنام قائدین سے اس لیے ناراض رہتے ہیں کہ ان کے نام پر جمع کیے گئے پیسے ذاتی اغراض میں استعمال ہو جاتے ہیں اور انہیں صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔