’جہاد‘ کے لیے برطانیہ سے افغانستان آنے والے داعشیوں کو آٹھ اور دس سال قید کی سزا

داعش سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کو، جو برطانیہ سے افغانستان ’جہاد کے لیے آنا چاہتے تھے،  برطانوی عدالت نے قید کی سزا سنائی ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دونوں افراد بھائی ہیں، ایک کا نام محمد عبد الحلیم ہے جس کی عمر ۲۱ سال ہے جبکہ اس کا چھوٹا بھائی ۱۸ سالہ محمد حمزہ حیدر خان ہے۔

گزشتہ ہفتے برطانوی عدالت نے محمد عبد الحلیم کو دس سال جبکہ محمد حمزہ کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ان دونوں بھائیوں نے گزشتہ جولائی میں اعتراف کیا تھا کہ وہ افغانستان جا کر خراسانی خوارج میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان دونوں افراد کو نومبر ۲۰۲۲ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ افغانستان آنے کی تیاری کر رہے تھے۔ داعشی خوارج کو مختصر قید کی سزا دینے سے اس بات کا امکان ہے کہ ان کی رہائی کے بعد یہ لوگ متعلقہ ملک کی انٹیلی جنس کے اشارے پر ایک بار پھر خوارج میں شامل ہو کر اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔

یاد رہے کہ بعض خوارجی نظریات رکھنے والے لوگ جنہیں یا تو خود کافر ممالک میں یا ایسے ممالک میں بھیجا گیا اور تربیت دی گئی جن کے حکمران کفار کے  ہاتھوں کٹھ پتلی ہیں،  وہ اپنے آبائی ممالک کی بجائے افغانستان آکر خراسانی خوارج  کے ساتھ مل کر امارت اسلامیہ کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مصداق ٹھہرتے ہیں جس کے ایک حصے میں خوارج کی صفات کے بارے میں  کہا گیا ہے:  يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإسْلَامِ ويَدَعُونَ أَهْلَ الأوْثَانِ (یعنی وہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور مشرکین کو چھوڑ دیتے ہیں)۔