جھوٹی خلافت کے جھوٹے امراء | پہلی قسط

صلاح الدین ثانی

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جھوٹی خلافت کا کوئی بھی کام فسق و فساد سے خالی نہیں اور یہ جھوٹی اور نام نہاد خلافت جس کی بنیاد مغرب اور اس کے اتحادیوں نے رکھی، عصرِ حاضر میں اسلام کے روشن ماتھے پر ہمیشہ کے لیے ایک بد نما داغ بن چکا ہے۔

اس جھوٹی نام نہاد خلافت کو داعشی خوارج امت مسلمہ کے لیے بھلائی کا ذریعہ کہتے ہیں لیکن بھلائی کا ذریعہ بننے کی بجائے اس نے ہمیشہ امت کی جڑیں کاٹیں اور اختلاف اور بے اتفاقی کی تلوار سے امت پر حملہ آور رہی۔

ہمیشہ امت کی مؤمن قیادت، جہادی رہنماؤں، علمائے کرام، مشائخ اور سیاست دانوں پر کفر و ارتداد کے لیبل چسپاں کیے اور لسانی، قومی، نسبی، مذہبی اور رنگ کی بنیاد پر انہیں تقسیم کیا۔

ان داعشی خوارج اور ان کے جھوٹے قائدین کے خلاف جتنا کچھ بھی لکھا اور بولا جائے کم ہے۔ لیکن میں اصلی موضوع کی طرف آتا ہوں اور وہ ہے اس جھوٹی خلافت کے جھوٹے امراء۔

داعشی خوارج کی طرف سے امارت اسلامیہ کے زعیم، قائدین اور نظام کے بارے میں ہر وقت تنقید کی جاتی ہے اور توہین سے بھرپور باتیں اور تحاریر لکھی جاتی ہیں۔

اگرچہ داعشی خوارج اور ان کے جھوٹے قائدین ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ اسلام اور اسلام کے سچے پیروکاروں کو بدنام کریں یا گمراہ کن طریقے سے ان کو متعارف کروائیں لیکن الحمد للہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے کبھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن پھر بھی اگر وہ انجان لوگوں کے سامنے اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور اس کے سچے پیروکاروں پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو ہم بھی بلاشبہ ان کی نام نہاد جھوٹی خلافت اور گمنام جھوٹے قادئین کا حقیقی تعارف کروائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے بھی، رسول اللہ ﷺ کے بھی اور اس دین کے بھی دشمن ہیں۔

سب سے پہلے میں داعش کے بانی ابوبکر بغدادی سے بات شروع کرنا چاہوں گا، وہ ابوبکر بغدادی جس نے امت مسلمہ کے خون سے امریکی مفادات کا تحفظ کیا اور امت مسلمہ کی نوجوان نسلوں کو گمراہی کے موذی مرض میں مبتلا کردیا۔

  1. ابو بکر بغدادی وہ ہے کہ جو نہ تو حسینی ہے اور نہ ہی قریشی۔

جاری ہے… ان شاء اللہ