جھوٹی خلافت کے جھوٹے امراء | دوسری قسط

صلاح الدین ثانی

ابوبکر بغدادی نہ حُسینی تھا اور نہ ہی قریشی!

داعش کا مفتی ترکی البنگالی جو ابو ھمام الاثری کے نام سے مشہور ہے، اپنی کتاب ’’مَدُ الایادي لبیعة البغدادي‘‘ میں بغدادی کو اہل بیت، قریشی اور حسینی کہتا ہے۔

جس طرح امت کی نوجوان نسلوں کو مغرب اپنے نقش قدم پر چلا رہا ہے، اسی طرح داعش کے مفتی البنگالی نے بھی امت کی نوجوان نسلوں کو اس حوالے سے دھوکہ دیا ہے اور بغدادی کو خلافت کا اہل، قریشی اور حسینی کے طور پر متعارف کروایا ہے۔

ترکی البنگالی بغدادی کا نسب کچھ یوں بیان کرتا ہے:

بغدادی عرموش کا پوتا، عرموش بن علی بن عید بن بدری بن بدر الدین بن خلیل بن حسین بن عبد اللہ بن ابراہیم الاواہ بن الشریف یحیی عز الدین بن الشریف بشیر بن ماجد بن عطیۃ بن یعلی بن دوید بن ماجد بن عبد الرحمن بن قاسم بن الشریف ادریس بن الزکی بن علی الھادی بن محمد الجواد بن علی الرضا بن موسیٰ الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی طالب و فاطمۃ بنت محمد ﷺ (مَدُ الایادي لبیعة البغدادي ص ۳)

یہ نسب داعش کے مفتی ترکی البنگالی نے ابوبکر بغدادی کے لیے ایجاد کیا تھا، جس کے ذریعے داعش نے نوجوان نسل کو گمراہ کیا۔

لیکن شرم کا مقام ہے کہ در حقیقت یہ نسب بغدادی کا نہیں بلکہ مذکورہ بالا نسب اہل سنت کے مشہور عالم سید شریف صبحی بن جاسم کا ہے جسے جھوٹی خلافت کے جھوٹے مفتی البنگالی نے بغدادی کے لیے بنایا اور بغدادی نے بھی پوری بے شرمی سے اس نسب کو اپنے لیے قبول کر لیا۔

یہ جو داعش امارت اسلامیہ افغانستان کے قائدین پر جھوٹ کا بہتان لگاتی ہے اور انہیں جھوٹے امراء کہتی ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے جھوٹے امراء کا حال دیکھیں کہ مغربی مفادات کی خاطر دوسروں کے نسب استعمال کر کے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں اور مغربی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

جو شخص خود کو اپنے والد کی بجائے کسی اور سے منسوب کرے اس کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ کی رائے اور فیصلہ کیا ہے؟

اس پر بات ان شاء اللہ اگلی قسط میں۔

جاری ہے…!