جدید نیشنل ازم کا فتنہ

محمود محفوظ

حامداً و مصلیاً اما بعد

نیشنل (National) کا لفظ نیشن(Nation)  سے نکلا ہے جس کا ترجمہ قوم یا ملت سے کیا جاتا ہے۔ ازم(ism)  کے معنی کسی نظریے، تحریک، نظام یا طریقۂ کار کے ہیں اور اگر ان دونوں الفاظ کو جوڑا جائے تو اس کے معنی قوم پرستی یا قومیت پرستی کے بنتے ہیں۔ لفظ نیشنل کی اساس نیشن یعنی قوم یا ملت ہے۔

ہر وہ چیز جو کسی قوم و ملت سے متعلق ہو اسے نیشنل، قومی یا ملی کہا جاتا ہے۔

یہ اصطلاحات سیاسی ادبیات میں بہت استعمال ہوتی ہیں، جیسے ملی وحدت (National Unity) ملی فوج، ملی شخصیات، قومی ٹیم (National Team)، قومی ہیرو (National Heroes)، قومی فلاں، ملی فلاں، نیشنل فلاں، وغیرہ وغیرہ۔

نیشنل، قومی یا ملی اسے کہتے ہیں جو کسی قوم سے تعلق رکھتی ہو، وہ چیز جو کسی قوم کے ہاتھ اور اختیار میں ہو، اور قومی ریاست (Nation State) ایسی ریاست کو کہا جاتا ہے جو کسی ایک قوم پر مشتمل ہو۔

لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قوم یا ملت کہتے کسے ہیں؟ لیکن یہ جاننے کے لیے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہوگا کہ قوم یا ملت کی تعریف کس کے نقطۂ نظر سے کی جائے؟

کیونکہ ملت کا لفظ اسلام میں ایک الگ مفہوم رکھتا ہے، اور دیگر نظاموں یا معاشروں میں اس کا مفہوم مختلف ہے۔ تو پھر ہم کس تعریف کی بنیاد پر ملت کی تشکیل کریں؟ قوم و ملت (Nation) کو یورپی تعریف کے مطابق مانیں اور اس کی بنیاد پر اتحاد لائیں یا اسلام کے مطابق ملت کی تعریف کریں اور اس کی بنیاد پر اتحاد قائم کریں؟

ملت کا لغوی معنی

ملت ایک عربی لفظ ہے اور اس کا لغوی معنی طریقہ، قانون، اور راستہ ہے۔ عربی میں کہتے ہیں ’’طریق ممل‘‘ یعنی وہ راستہ جس پر لوگوں کا آنا جانا بہت ہو۔

ملت کا شرعی مفہوم

شریعت میں ملت دین کو کہا جاتا ہے، وہ دین جسے اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور انبیاء علیہم السلام نے اپنی امتوں تک پہنچایا۔

اس بات کی بہتر تشریح کے لیے قرآن پاک کی چند آیات کا جائزہ لیتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ (البقرة 13)

ترجمہ: اور کون ہے جو ملت ابراہیم (علیہ السلام) سے روگردانی کرے بجز اس کے جس نے خود کو حماقت میں مبتلا کر دیا ہو۔

یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ، منہج اور دین  کی ملت کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ عن ملة ابراهيم ای عن طريقته و منهجه‘‘

یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت سے ان کا طریقۂ کار اور منہج مراد ہے۔

ایک اور آٰیت میں اللہ تعالیٰ نے ملت اور دین کو مترادف قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا:

قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (الانعام: 161)

ترجمہ: کہہ دیجیے کہ مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی ہدایت فرما دی ہے، یعنی اس دینِ کی جو ہر لحاظ سے درست ہے، یعنی ابراہیم کی اس ملت کی جس کو انہوں نے اختیار کیا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

قرآن کریم میں ملت کا لفظ صرف دینِ اسلام کے لیے نہیں استعمال ہوا، بلکہ کفر کو بھی ایک ملت کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کی زبان میں اس زمانے کے کفار کے دین کو ملت کا نام دیا۔

اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ (يوسب: 37)

ترجمہ: بے شک میں نے اس قوم کے دین (ملت) کو ترک کر دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتی اور آخرت کی بھی منکر ہے۔

یہاں کفار کے دین کو ملت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے ادیان کو بھی ملت کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ (البقرة: 120)

ترجمہ: اور یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی ملت (دین) کی پیروی نہیں کرو گے۔

لہذا ان تمام آیات میں ملت کا اطلاق دین پر ہوا ہے، اور یہ مفہوم صراحت کے ساتھ واضح کرتا ہے کہ دینِ اسلام مسلمانوں کی ملت ہے اور کفار کے ادیان کفار کی ملتیں ہیں۔

تو اس اسلامی تعریف کے مطابق ہر مسلمان چاہے وہ پشتون ہو یا تاجک، امریکی ہو، چینی ہو یا کسی اور قوم سے ہو، یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، اگر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے اعتبار اس کا ہے اور اس پر اس اصطلاح کا اطلاق ہوتا ہے، وہ اس ملت کا جزو ہے اور ہماری اس کے ساتھ ملی وحدت ہے اور ہر مسلمان اس ملت کا فرد ہے۔

سیکولرازم میں ملت (Nation) کا تصور

آکسفورڈ ڈکشنری جو پورے غرب میں ایک مشہور اور معتمد لغت ہے، ملت (Nation) کی تعریف کچھ یوں کرتی ہے:

’’ملت (Nation) لوگوں کی ایک ایسی بڑی جماعت سے عبارت ہے کہ جو ایک محدود علاقے میں ایک سیاسی نظام کے تحت رہ رہی ہو اور ان کے مابین مشترکہ زبان، تاریخ اور ثقافت موجود ہو۔‘‘

مذکورہ بالا تعریف میں دین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگر ہم مندرجہ بالا تعریف کے مطابق افغان معاشرے کی مثال پیش کریں تو افغانستان میں مسلمان، ہندو، مرتدین، عیسائی، کمیونسٹ اور دیگر غیر مسلم اقلیتیں سب کی سب کو ایک ہی ملت (Nation) تصور کیا جانا چاہیے، اور یہ وہ چیز ہے جو واضح طور پر اسلام سے متصادم ہے۔

قرآن تو کمیونسٹ، لادین، مرتدین اور دیگر کفار کو مسلمانوں کا دشمن کہتا ہے۔ تو پھر ہم کیوں ان کے ساتھ ایک ملی و قومی اتحاد (National Unity) رکھیں؟

لیکن مذکورہ بالا تعریف کے مطابق ہر کافر جو افغانستان کا شہری ہے ہماری ملت یا قوم (Nation) کا ایک فرد مانا جائے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ افغانستان کے ایک کافر شہری سے کہا جائے کہ تم میری ملت یا قوم (Nation) کے فرد نہیں ہو۔ ایک امریکی مسلمان جو امریکہ میں رہتا ہے، اور دوسرا مسلمان جو افغانستان میں رہتا ہے قرآن کریم کی نظر میں دونوں ایک ملت کا حصہ ہیں اور آپس میں ایک ملی وحدت رکھتے ہیں، لیکن یورپی تعریف کے مطابق یہ دونوں جدا جدا ملتوں(Nations)  کے افراد ہیں۔

اب ان شاء اللہ آپ کو ملت (Nation) کے لفظ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آ گیا ہو گا۔

جدید نیشنل ازم کو تمام اسلامی معاشروں میں یورپی تعریف کے مطابق تسلیم کیا جاتا ہے، آج کل کی قومی شخصیتیں، ملی فوج، ملی وحدت وغیرہ، سرحدوں اور ملکوں پر منحصر ہیں، کسی ملک میں چاہے کسی بھی نظام کی حاکمیت ہو، لیکن ملی وحدت (National Unity) مغرب کی تعریف کے مطابق ہی عمل میں لائی جائے گی۔ ملی فوج (National Army) مغرب کی تعریف کے مطابق تشکیل دی جائے گی، قومی شخصیات مغرب کی تعریف کے مطابق ہی مانی جائیں گی۔

مختصر مثال موجودہ قومی ٹیم کی دی جا سکتی ہے، افغانستان قومی ٹیم جمہوریت کے دور میں بھی قومی ٹیم تھی اور آج جب اسلامی نظام حاکم ہو چکا ہے اب بھی قومی ٹیم ہے۔ راشد جمہورت کے دور میں بھی قومی ہیرو مانا جاتا تھا اور آج بھی۔ اصل قومی ہیروز جو کہ ملت ابراہیم کی وجہ سے ایک ہوتے ہیں انہیں کوئی قومی ہیروز قرار نہیں دیتا، کوئی نہیں کہتا کہ ملا عمر ہمارے قومی ہیرو تھے، کوئی نہیں کہتا کہ اسامہ بن لادن ہمارے قومی ہیرو تھے، کوئی نہیں کہتا کہ ایمن الظواہری ہمارے قومی ہیرو تھے۔ ان سب کو مغرب کی تعریف کے مطابق اسلامی معاشروں میں دہشت گردوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہر معاملے میں اسلامی ممالک یورپی و مغربی معاشروں کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ اندھی تقلید ہ ہے کہ اسلام کو عالمی سٹیج سے ہٹا کر کفر کو عالمی حکمران بنا دیا گیا۔