اسلامی نظام اور کامل نفاذِ شریعت کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا مؤقف

مولوی مستغفر حنفی

آج بعض لوگ اہل حق بالخصوص مجاہدین اور امارت اسلامیہ پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں، جن میں سے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ  امارت اسلامیہ شریعت اور الہٰی قوانین کی سو فیصد تنفیذ کیوں نہیں کرتی؟ کچھ دیگر لوگ دوسرے اعتراضات کرتے ہیں۔ ذیل میں ان اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

سب سے پہلے میں شریعت کے سو فیصد نفاذ کے حوالے سے کہوں گا کہ شریعت میں سزائیں دو طرح کی ہیں:

۱۔ حدود

حد لغت میں ممانعت کو کہتے ہیں اور حدود اس کی جمع ہے۔ شرع اصطلاح میں یہ اس سزا کو کہتے ہیں جو سزا اور اس کی مقدار ںصوص (قرآن و سنت) سے ثابت ہو۔

۲۔ تعزیر

لغت میں تعزیر کے معنی تادیب اور ممانعت کے ہیں، اصطلاحا یہ اس سزا کو کہتے ہیں جس سزا کا تعین اور اس کی مقدار کا تعین شریعت اسلامیہ میں نہیں کیا گیا، بلکہ اس سزا کو دینے کا حق وقت کے امیر اور قاضی کو حاصل ہے۔

وہ لوگ جو سو فیصد شریعت کی تنفیذ کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں، ان کا مطلب یہ ہے کہ عوام میں حدود کی تنفیذ کیوں نہیں کی جاتی، تو بات یہ ہے کہ حدود کی تنفیذ کا مسئلہ بہت حساس ہے، حد کا نفاذ معمولی شکوک و شبہات کے ساتھ ساقط ہو جاتا ہے اور بات تعزیر کی طرف چلی جاتی ہے، شک و شبہہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے جرم میں بہت معمولی سا بھی شک ہو تو اس پر حد کا نفاذ نہیں ہو گا، بلکہ تعزیری سزا دی جائے گی۔

مثلا زنا کی حد کا اگر کوئی نفاذ کرے تو اس کی شرائط یہ ہیں کہ چار لوگوں نے بیک وقت اس زنا کا عمل اس طرح دیکھا ہو جیسے سرمہ دانی میں سلائی۔ پھر گواہوں کی شرائط یہ ہیں کہ گواہ عاقل، بالغ، مؤمن، صالح ہو، داڑھی نہ منڈواتا ہو، مطلب یہ کہ فاسق نہ ہو، جن لوگوں پر الزام لگایا گیا ہو ان کے ساتھ کوئی ذاتی عناد نہ رکھتا ہو وغیرہ۔

تو زنا کی حد کی تنفیذ میں یہ شرائط ہیں، اب اگر ان شرائط میں سے کوئی ایک بھی کم ہو جائے، تو حد میں شک پیدا ہو جائے گا، اور حد جاری نہیں کی جائے گی۔ مثلا زنا کیا گیا، چار لوگوں نے بالفعل یہ عمل دیکھا، لیکن چاروں میں سے ایک شخص فاسق ہے، یہاں شک پیدا ہو گیا، اور حد ساقط ہو گئی، اس کی جگہ تعزیر کا نفاذ ہو گا۔ اگر انسان تھوڑا غور کرے تو آج ان شرائط کو پورا کرنا انتہائی دشوار ہے، لازمی اس حد کی تنفیذ میں کوئی نہ کوئی شک پیدا ہو جائے گا، کیونکہ یہ دور فتن ہے، لوگ اپنے ذاتی عناد اور مفادات کی خاطر جھوٹی گواہی دے دیا کرتے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ آج لوگوں کی اکثریت اس قابل نہیں کہ شرعی حدود کی تنفیذ میں انہیں بطور گواہ قبول کر لیا جائے۔

تو وہ لوگ جو امارت اسلامیہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ شریعت کی سو فیصد تنفیذ کیوں نہیں کرتی تو پھر وہ لوگ  کوئی ایک مثال لے آئیں جس میں کسی ایک شرعی حد کی تنفیذ کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہوں اور امارت اسلامیہ نے اس کی تنفیذ نہ کی ہو۔ بلکہ آج کل تقریبا تمام ہی شرعی حدود میں شبہہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی شرعی اور فقہی مسئلہ ہوتا ہے، اگر کسی میں کوئی شبہہ پیدا نہ ہو تو اس وقت اس حد کی تنفیذ بھی ہو جاتی ہے، جیسے آپ لوگ گواہ ہیں کہ امارت اسلامیہ نے کئی بار شرعی حدود کی تنفیذ کی بھی ہے، جیسے قصاص کی حد جس کی تنفیذ اور اجراء فراہ اور لغمان صوبوں میں ہوا۔

اب آپ کے ذہن میں لازمی یہ سوال کھڑا ہو گا کہ اتنے وقت میں ایک سنگسار کی حد نافذ نہیں ہو سکی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے وقت میں اس حد کی تنفیذ کی گئی تھی۔ اس بات کے جواب میں یہ کہوں گا کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کا زمانہ خیر القرون (سب سے بہتر زمانہ) تھا، اس دور میں حدود کی تنفیذ کی شرائط بہت آسانی سے پوری ہو سکتی تھیں، کیونکہ لوگوں کی اکثریت صالح تھی، جھوٹی گواہی کا امکان بہت کم تھا، اور دوسری بات یہ کہ اس دور میں مجرمیں زیادہ تر خود ہی اپنے جرم کا اقرار کر لیتے تھے اور حد کی تنفیذ کا مطالبہ کرتے تھے، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب سے ڈرتے تھے، جیسا کہ روایت ہے کہ ایک صحابی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا کہ مجھ سے زنا ہو گیا ہے، نبی کریم ﷺ نے ان سے کئی بار بات کی اور کئی بار پوچھا کہ دیکھو زنا نہیں کیا ہو گا اور اس سے کئی سوالات کیے لیکن صحابی یہی فرماتے رہے کہ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہو گیا ہے، اس کے بعد ان پر حد کی تنفیذ کی گئی، لیکن آج کے دور میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خلاصہ یہ کہ حد چاہے جس طرح کی بھی ہو، اگر تمام شرائط پوری ہوں تو امارت اسلامیہ اس کی ذمہ دار ہے کہ حد جاری کرے اور جاری کرے گی ان شاء اللہ۔ لیکن اگر حد کی شرائط پوری نہ ہوں اور چند حساس نوجوان اور نیم ملّا کہیں اس معاملے میں فلاں حد جاری ہونی چاہیے تو اسے حد کا اجراء نہیں بلکہ ماورائے عدالت سزا کہیں گے۔

جیسا کہ پریس کانفرنس میں امارت اسلامیہ کے وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے اپنی تقریر میں کہا:

’’مکمل امن و سلامتی اور سکیورٹی فورسز کی مذکورہ بالا کامیابیاں اسلامی شریعت کے مکمل نفاذ اور (حکم بما انزل اللہ)  کی برکت ہے، گزشتہ بارہ (۱۲) ماہ میں امارت اسلامیہ کی شرعی عدالتوں میں چھیالیس ہزار (۴۶،۰۰۰) سے زائد مقدمات دائر کیے گئے اور ان پر فیصلے ہوئے۔ ان میں سے تیس ہزار تین سو سینتالیس (۳۰،۳۴۷) سول فوجداری مقدات، بارہ ہزار ایک سو نواسی (۱۲،۱۸۹) عوامی تحفظ اور انتظامی بدعنوانی کے مقدمات جبکہ چار ہزار دو سو اکسٹھ (۴۲۶۱) فوجی مقدمات شامل ہیں، اور ان تمام مقدمات میں اسلامی شریعت کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے ہیں اور ہزاروں مجرموں کو سزائیں دی گئی ہیں۔

افغانستان کی مسلمان قوم اور امارت اسلامیہ کے تمام مجاہدین اطمینان رکھیں، ہم کبھی اسلامی شریعت کی نفاذ سے غافل نہیں رہیں گے، اور ہماری داخلی اور خارجی سیاست میں دوستی اور دشمنی اسلامی شریعت کی ہدایات کے مطابق ہے۔

ہم سیکورٹی میدان میں اپنی مجاہد عوام کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی سیکورٹی فورسز کی مزید مدد کریں اور سکیورٹی کی خرابی کے واقعات کی روک تھام کے لئے اپنی شرعی اور قومی ذمہ داری کو پورا کریں۔‘‘

اسی طرح تقریر کے دوران ایک اور جگہ کہا:

’’دوحہ میں امریکی قبضے کے خاتمے کے معاہدے میں امارت اسلامیہ افغانستان کی طرف سے جو عہد دوسروں کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال نہ کرنے کے بارے میں کیا گیا تھا، ہم اپنے اس عہد پر قائم ہیں۔ ہم ہرگز کسی کو افغانستان کی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی کو افغانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر افغان نوجوانوں کو دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے اور اس حوالے سے تمام حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ہمارا کسی سے دشمنی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کی دشمنی کو برداشت کریں گے۔‘‘

مجاہدین اور عوام کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ دوحہ معاہدہ امارت اسلامیہ کے لیے ایک چارٹر اور معاہدہ ہے جس پر امارت اسلامیہ کو اپنی اسلامی ذمہ داری کے مطابق عمل کرنا چاہیے، لیکن ہر قانون اور معاہدے سے پہلے ہمارے لیے حد اسلامی شریعت ہے، دوحہ معاہدہ میں جو کہا گیا ہے کہ کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، اس کا ہدف یہ ہے کہ اسلام کے حکم اور فائدے کے بغیر افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، لیکن جب کبھی اسلام کا حکم ہو گا تو وہ ہمارے لیے حد ہے اور دوحہ معاہدے سے وہ حکم مستثنیٰ ہو گا، یعنی دوحہ معاہدہ کو اصلا اسلامی حکم کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی، دوحہ معاہدہ صرف دنیاوی مفادات کی خاطر اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ کی جائے، اس مقصد کے لیے ہے، ورنہ حقیقت میں اسلام کے لیے پوری دنیا میں الحمد للہ محفوظ اور عظیم مرکز آج افغانستان کی سرزمین ہے، میں اس کی مزید وضاحت نہیں کروں گا کیونکہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ اس لیے مجھے محترم عوام اور مجاہدین سے یہ امید ہے کہ آپ کے قائدین کی تمام عمر علم اور جہاد میں گزری ہے، ان کے دل میں ہم سے کہیں زیادہ اسلام کا درد ہے، اور وہ ہم سے کہیں زیادہ اسلام کو بہتر سمجھتے ہیں، تو اگر وہ امکان یا مصلحت کو دیکھتے ہیں، تو ہم بے جا اعتراضات اور تنقید نہ کریں اور اپنے قائدین پر مکمل اعتماد کریں۔

اگر امارت اسلامیہ کی عظیم قیادت شکوک و شبہات، فقہی جزئیات اور ناموافق حالات کی وجہ سے خواتین کی تعلیم کی اجازت نہیں دیتی، تو یہ اس لیے تاکہ شرعی احکامات کی تنفیذ اور اسلامی معاشرے کے ماحول  میں خرابی اور مفسدات نہ پیدا ہوں۔ تو جان لیں کہ ’’بغیر ما انزل اللہ‘ تو ساری زندگی کسی بھی حالت میں حکم نہیں دیں گے اور نہ ہی کبھی اسلامی نظام اور شرعی قوانین کی تنفیذ میں کسی قسم کی غفلت برتیں گے، جیسا کہ گزشتہ روز وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد اور اسی طرح امیر المؤمنین شیخ صاحب حفظہ اللہ نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ افغانستان میں حاکم نظام (امارت اسلامیہ) ایک اسلامی نظام ہے، امید ہے کہ جلد یہاں سو فیصد اسلامی نظام تشکیل پائے گا، دیگر جتنے بھی غیر شرعی اور غلط قوانین ہیں، یہ سب میں نے علمائے کرام کی ایک کمیٹی کے حوالے کیے ہیں تاکہ اس کا بغور جائزہ لیا جائے اور اسے شرعی دائرہ کار میں لایا جائے۔ کیونکہ ہم ہر قیمت پر مکمل اسلامی قوانین اور اصولوں کو نافذ کریں گے۔ ہم ہر کسی کے ساتھ تعامل بھی کریں گے، بات چیت بھی کریں گے، لیکن شرعی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے، کبھی بھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ ہم شرعی نظام اور قوانین کی تنفیذ میں غفلت برتیں۔