اسلامی نظام کے دانشمند قائدین

ثواب جان اسلام یار

اگر ہم اسلام اور افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ان سنہری سطور سے واضح ہو جائے گا کہ کفریہ طاقتوں کے خلاف جہاد اور غزوات کے میدان میں علمائے دین قائدین اور راہنماؤں کی حیثیت سے اگلی صفوں میں کھڑے رہے اور اسلام، عوام اور ملکی سالمیت کا پورے اخلاق اور بہادری سے دفاع کیا۔

گزشتہ ایک صدی میں تین کفریہ سلطنتوں کی شکست افغان مجاہد قوم کے لیے عظیم کارنامہ اور اعزاز ہے، اور اس حوالے سے علمائے کرام نے انبیاء علیہم السلام کے ورثا کے طور پر اخلاص، ایمانداری اور صداقت کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔

موجودہ حاکم نظام جن قربانیوں کا حاصل ہے، معاصر تاریخ میں اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی، اس نظام میں ایسے قابل فخر قائدین اور بہادر نوجوان موجود ہیں کہ جنہیں بہت سی کٹھن آزمائشوں  میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی، بہت سے غزوات اور سرفروشی کی راہوں میں انہوں نے امت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی یاد تازہ کر دی، انہوں نے دنیا کی دولت اور طاقت کی بالکل پرواہ نہ کی، نہ درجنوں ممالک کی غلامی کے لیے اپنی گردنیں پیش کیں، اور نہ ہی کسی ایٹمی طاقت کے زیر اثر آئے۔

امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت استقامت اور ثابت قدمی کے میدان میں طوفان کے بالمقابل پہاڑوں کی مانند ڈٹی رہی، انہوں نے شہداء کے پاک خون کا سودا نہیں کیا، دنیائے کفر کی پیشکشیں کہ ہم تمہیں مال، طاقت اور اقتدار سے نواز دیں گے، بس اپنے اس دعوے سے ہٹ جاؤ، کسی صورت قبول نہیں کیں۔

الحمد للہ امارت اسلامیہ افغانستان نے تمام وعدے پورے کیے، عوام کے لیے آزادی، خودمختاری اور امن لائے اور وطن عزیز کی پاک سرزمین پر اسلامی نظام نافذ کیا۔

قابض افواج پچھلے بیس سالہ انقلاب کے دوران حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی رہیں  کہ پگڑی والوں نے ان کے خلاف نہتے خالص دینی طاقت کے ذریعے تاریخ کی سب سے طویل ترین لیکن مادی طور پر غیر مساوی جنگ لڑی۔

امارت اسلامیہ کی قیادت کے چٹان جیسے عزم و استقلال، اسلامی آہنی افواج اور جانباز غازیوں نے بم اور آگ برساتی عظیم ایٹمی طاقت کو بالکل صفر کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

بیس سالہ مقدس جہاد کے بعد دنیائے کفر شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی اور ذلت کے ساتھ فرار ہو گئی۔

اس کے ساتھ ہی امارت اسلامیہ افغانستان کے پاکیزہ لشکر نے عسکری اور سیاسی میدان میں ایک بار پھر فتح حاصل کی اور ان قربانیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر افتخار، عزت اور آزادی حاصل کی۔

اب پورے عالم میں امارت اسلامیہ افغانستان واحد اسلامی نظام ہے جہاں تمام فیصلے مکمل اسلامی شریعت اور قرآنی قوانین کے مطابق ہوتے ہیں اور اس کی عوام مکمل آزادی کے ساتھ اس نظام کی رہنمائی میں مکمل اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی بس کر رہے ہیں۔ الحمدلله والمنة۔

عالمی سطح پر اسلامی نظام کی حکمرانی اور استحکام کی امید میں!

اسلام اور اپنی روایات سے محبت کے ساتھ!