اسلام میں فلسفۂ جہاد | اکیسویں قسط

سترہواں اعتراض

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عُمّالُكُمْ اَعْمالُكُمْم

تمہارے اعمال تمہارے حکمران ہیں۔

یعنی اگر ہم اپنے اعمال درست کر لیں تو نظام درست ہو جائے گا، اسلامی نظام حاکم ہو جائے گا، اور اگر ہمارے اعمال برے ہوں گے تو نظام بھی برا ہو گا، تو اصل میں نظام اعمال سے درست ہوتا ہے نہ کہ جہاد سے۔

پہلا جواب

العیاذ باللہ، بعض الفاظ انسان کو کفر سے نزدیک کر دیتے ہیں۔ یہ وہ منافقانہ الفاظ ہیں جو امت کے لیے میٹھے زہر کی طرح ہیں اور برسوں سے امت میں فرضیتِ جہاد کا جذبہ ختم کر رہے ہیں۔

مانا کہ جس قسم کے اعمال آسمان پر اٹھائے جاتے ہیں، اسی کے مطابق فیصلے آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔

لیکن کیا اس حدیث مبارک سے جہاد چھوڑنا ثابت ہوتا ہے؟

کیا جہاد نیک عمل نہیں؟

کیا رسول اللہ ﷺ نے جہاد نہیں کیا؟

کیا ہتھیار رکھنا سنت نہیں؟

کیا محاذ پر کچھ گھڑیاں گزارنا ستر سال کی عبادت سے بہتر نہیں؟

کیا کافر کو قتل کرنے پر جنت کی بشارت نہیں؟

تو پھر اس سے زیادہ نیک عمل کونسا ہے؟

دوسرا جواب

تمام اعمال کا مقصد ایک ہی ہے، لیکن نتائج جدا جدا ہوتے ہیں۔ اگر آسمان پر امت کا جہاد اٹھایا جائے گا، فیصلہ اسلامی نظام اور مسلمانوں کے تحفظ کی شکل میں آئے گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ (البقرۃ: 251)

اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے۔

وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا (الحج: 40)

اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اذا ترکتم الجهاد فسلط الله عليکم الذلة

اگر تم جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا۔

مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِهِ؛ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ

جو شخص مرگیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا۔

اللہ کی قسم اگر ساری امت بھی نوافل شروع کر دے، داڑھیاں بڑھا لے، مسجد میں حاضر ہو جائے، پھر بھی ملک پر اسلامی نظام حاکم نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکمِ جہاد پر عمل نہ ہو جائے۔

اللہ سبحان وتعالیٰ ہماری نسلوں میں جذبۂ جہاد کم نہ کرے اور اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے شہداء کی شہادت قبول فرمائے۔