اسلام میں فلسفۂ جہاد | بیسویں قسط

طاہر احرار

سترہواں اعتراض

غزوۂ خیبر میں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

فواللَّهِ لأنْ يهْدِيَ اللَّه بِكَ رجُلًا واحِدًا خَيْرٌ لكَ من أن يكون لك حُمْرِ النَّعم

ترجمہ: اللہ کی قسم، یہ بات کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے، تمہیں ملنے والے سرخ اونٹوں کے صدقے سے کہیں بہتر ہے۔

لہذا کفار کو دین کی طرف راغب کرنے کا اتنا بڑا اجر ہے جو جہاد میں نہیں۔

پہلا جواب

کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث شریف سن کر غزہ خیبر چھوڑ دیا؟

نہیں، بلکہ آخر تک یہودیوں سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ خیبر فتح ہو گیا۔

دوسرا جواب

یہ بات درست ہے کہ آپ کے ذریعے کفار کا دین میں داخل ہونا سرخ اونٹوں کے صدقے سے بہتر ہے، لیکن وہ کفار جو نہ صرف خود اسلام قبول نہیں کرتے، بلکہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، یہاں تک کہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرتے ہیں، ملکوں پر چڑھائی کرتے ہیں، کیا ان کے حوالے سے بھی ہدایت کا انتظار کیا جائے گا؟

تیسرا جواب

اگر کفار کو صرف تبلیغ کرنے کی ہی اتنی بڑی فضیلت ہے، تو پھر جو اتنی بے شمار احادیث جہاد کی فضیلت کے بارے میں آئی ہیں کیا معنی رکھتی ہیں؟

کیوں نبی کریم ﷺ، صحابی کرام رضی اللہ عنہم جہاد اور غزوات پر گئے، کیوں نہ صحابہ کرام کو صرف تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا ہی حکم دیا؟