اسلام میں فلسفۂ جہاد | انیسویں قسط

طاہر احرار

#image_title

پندرہواں اعتراض

آج بعض دینی مجالس میں یہ بات پوری شد و مد سے کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روپیہ سات لاکھ اور ایک نماز انتالیس کروڑ کے اجر کے برابر ہے، اور یہ ثواب صرف یہیں حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہمارا کام دین کی اصل اور بنیاد ہے۔

جواب

سب سے پہلے تو اس حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں پھر اس کی سند کو دیکھیں گے اور پھر اس کی مثل!

حضرت علی، حضرت ابو الدرداء، حضرت ابو ھریرہ، حضرت ابو امامہ، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت جابر، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں:

من ارسل نفقة في سبيل الله واقام في بيته فله بکل درهم سبع مائة درهم ومن غزا بنفسه في سبيل الله وانفق في وجهه ذلک فله بکل درهم سبع مائة ألف  درهم ثم تلا والله يضاعف لمن يشاﺀ

ترجمہ: جس نے اللہ کے راستے میں نفقہ (نقدی اور مال و اسباب) بھیجا اور خود اپنے گھر میں بیٹھا رہا تو اللہ تعالیٰ اسے ایک درہم کے بدلے سات سو درہم کا ثواب عطا کرے گا، اور جس نے خود بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر جنگ کی اور اپنا مال و اسباب بھی خرچ کیا تو اس کو ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، ’’اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں چاہتا ہے ثواب میں اضافہ فرما دیتا ہے۔‘‘

ایک اور جگہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالذِّکْرَ تُضَاعَفُ عَلَی النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ

ترجمہ: بیشک اللہ کے راستے میں نماز روزہ اور ذکر الٰہی کرنے پر اس کا اجر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

حاصل یہ نکالا جاتا ہے کہ ایک روپیہ سات لاکھ اور پھر سات سو سے ضرب دیں تو انتالیس کروڑ بنتے ہیں۔ لیکن یہ ایک حدیث نہیں بلکہ دو مختلف روایات ہیں، اس لیے ایک کو دوسرے کے ساتھ ضرب کرنا اور اس طرح انتالیس کروڑ بنا لینا احادیث کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔

دوسرا یہ کہ مذکورہ بالا دونوں احادیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ علم حدیث کا اصول یہ ہے کہ ضعیف حدیث کا ذکر کرتے وقت اس کا ضعف ذکر کیا جائے اور یہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔

تیسرا یہ کہ غور سے دیکھیں تو دونوں احادیث میں فی سبیل اللہ کہا گیا ہے اور پھر پہلی حدیث میں جنگ کا لفظ بھی آیا ہے جس سے خاص طور پر مجاہدین مراد ہیں۔ امت کے تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ جہاں بھی لفظ فی سبیل اللہ اکیلا ذکر ہو گا تو اس سے مراد جہاد ہو گا۔

تو مذکورہ بالا روایات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس سے مراد جہاد اور مجاہدین ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی درست فہم کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین