اسلام میں فلسفۂ جہاد | تیسری قسط

طاہر احرار

لفظ جہاد کے ایک معین لغوی و اصطلاحی معنی ہیں۔

لوگوں کے دو گروہوں نے لفظ جہاد کے مفہوم کو نمایاں وسعت دی ہے۔

۱۔ بعض لوگ جو اپنی نفسانی خواہشات کے تابع اور غلام ہیں، جن کی زندگی کا واحد مقصد کھانا پینا ہے، صرف مال و دولت کا حصول ان کا ہدف ہے، اور بزدلی کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں، وہ قتال کی اصطلاح کو برا سمجھتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں، دیگر لوگوں کو بھی قتال سے ڈراتے ہیں اور مخالفت پر ابھارتے ہیں، قتال سے اس قدر خوفزدہ ہیں جیسے لوگ شیر سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ یہ گروہ اسلام کا سخت ترین دشمن ہے، اس کی پوری کوشش ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں تحریف کریں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں جیسا لباس پہنتے ہیں، بظاہر دین دار اور پرہیز گار نظر آتے ہیں، لیکن در حقیقت منافقین ہیں۔

وہ نہ صرف  اپنی منافقت کو چھپانے اور اپنی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ ذہین، دانشمند، تجربہ کار اور سیاسی طور پر آگاہ سمجھے جاتے ہیں اور معاشرے میں لوگ ان کی عزت و احترام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

ترجمہ: یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو لوگ اپنے کئے پر بڑے خوش ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ان کاموں پر بھی کی جائے جو انہوں نے کئے ہی نہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان کے لیے دردناک سزا (تیار) ہے۔

منافقین غزوات سے فرار اختیار کرتے، دیگر لوگوں کو بھی اس پر ابھارتے اور اپنی چالاکی پر بہت خوش ہوتے تھے اور خود کو بہت ذہین ظاہر کرتے تھے۔

ان اوصاف کے حامل افراد اسلام کا لباس تو زیب تن کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔