اسلام میں فلسفۂ جہاد | دوسری قسط

طاہر احرار

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مختلف احکامات نازل کیے ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق ذاتی زندگی سے ہے اور کچھ کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے۔

اسلام ایک بابرکت دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے منتخب کیا ہے، اس مبارک دین میں ایک حکم جہاد کا بھی ہے۔

جہاد کے لغوی معنی جدوجہد کے ہیں اور یہ لغوی معنی قرآن کریم میں بھی بعض جگہ استعال ہوئے ہیں، لیکن جہاد کے لفظ کو اس کے لغوی معنی میں ہر زمان و مکان میں استعمال کرنا بڑی نا انصافی ہو گی۔

آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں بلکہ بہت سے اہل علم حضرات نے معمولی جدوجہد کے لیے بھی جہاد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جہاد کا لفظ ہر زمان و مکان میں کسی ادنیٰ سے جدوجہد کے لیے بھی استعمال کرنا دین میں تحریف کرنے کے برابر ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مربوط کام عبادات میں شمار ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عبادت کے لیے مستقل نام وضع کیا ہے۔

مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’من جهز غاﺯيا فقد غزا‘‘ اب اگر کوئی شخص غازیوں کے لیے معمولی چیزیں بھی پوری کر دیتا ہے تو اس کا شمار بھی حقیقی مجاہدین کے برابر کیا جائے گا۔

ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْن

ترجمہ: بیشک اللہ نے مومنین سے اس بات کے عوض ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا کہ ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔

تو وہ مجاہد جو اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے، اس کے ساتھ ایسے شخص کو برابر کہنا درست نہیں ہو گا جو صرف سامان فراہم کرتا ہے، لہذا اہل علم کو اس بارے میں متوجہ ہونا چاہیے کہ ہر جدوجہد کو جہاد نہ کہیں اور نہ ہی ایسی جدوجہد کرنے والے کو مجاہد کا درجہ دیں اور جہاد کی تعریف کو دیگر عبادات سے علیحدہ حیثیت دیں۔ لیکن اس سے انکار نہیں کہ ایسی جدوجہد اور ایسے کام بھی اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔

قرآن کریم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں جہاد کا لفظ تقریباً ہمیشہ صرف ایک ہی مفہوم کے ساتھ آیا ہے اوروہ ہے کفار یا ان کے غلاموں، مرتدین اور خوارج سے قتال کرنا۔

بعض اوقات بعض اصطلاحات بظاہر بہت خوبصورت نظر آتی ہیں، لیکن در حقیقت ان کے اندر دین میں تحریف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہمیں دین سیکھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین