اسلام میں فلسفۂ جہاد | پندرہویں قسط

طاہر احرار

دسواں اعتراض:

غازیوں کا ایک گروہ غزوہ سے واپس آیا، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:

’’قَدِمْتُم خَيرَ مَقْدَمٍ، و قَدِمْتُم مِن الجِهادِ الأصْغَرِ إلى الجهادِ الأكْبَرِ‘‘

تم جہادِ اصغر سے خیریت کے ساتھ جہاد اکبر کی طرف بڑھے۔

انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جہادِ اکبر کیا ہے؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"مجاهدة العبد هواه”

بندے کا اپنی خواہشات کے خلاف جہاد۔

یہاں نبی کریم ﷺ نے قتال کو جہاد اصغر اور اصلاح نفس کو جہاد اکبر کہا، تو معلوم ہوا کہ قتال سے اصلاحِ نفس بہتر ہے۔

پہلا جواب:

سب سے پہلے تو ہم اس حدیث کے حوالے سے محدثین کی رائے کا جائزہ لیتے ہیں۔

صاحبِ مختصر علامہ محمد طاہر پٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’هٰذٰا ضَعِيْفٌ‘‘

یہ روایت ضعیف ہے۔ (تذکرۃ الموضوعاۃ)

علامہ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ حدیث نہیں، بلکہ یہ ابراہیم ابن ابی عبلہ کا قول ہے۔‘‘ (إعلام النبلاﺀ: جلد ۶)

علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔‘‘ (روح المعاني: جلد ۳)

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔‘‘

دوسرا جواب:

اگر اس حدیث کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ قرآن کریم سے متصادم ہے۔

فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةً 

ترجمہ: جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ (سورۃ النساء: ۹۵)

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 

جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ (سورۃ التوبۃ: ۲۰)

علامہ محمد بن لطفی الضباع فرماتے ہیں:

’’مذکورہ بالا حدیث کی کوئی اصل نہیں، کیونکہ اس سے سنام الاسلام کی توہین ہوتی ہے۔‘‘ (الاسرار المرفوعة)

تیسرا جواب:

نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں صحابہ کرام کے نفس کی اصلاح ہو چکی تھی۔

حضرت عبادہ بن بشیر رضی اللہ عنہ رات کو پہرے کے دوران نماز پڑھ رہے تھے، کہ انہیں تیر آ کر لگا اور خون بہنے لگا، لیکن انہوں نے نماز نہیں توڑی، بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ مکمل کی۔ کیا یہ مجاہدہ نفس نہیں؟

غزوۂ بدر میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کٹ گیا، وہ لٹک رہا تھا اور جہاد میں رکاوٹ بن رہا تھا، انہوں نے اسے پاؤں کے نیچے دبا کر جسم سے علیحدہ کر دیا۔۔ کیا یہ مجاہدۂ نفس نہیں؟

غزوہ خندق میں صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے، کیا یہ مجاہدۂ نفس نہیں؟

تین صحابہ کرام مرنے والے تھے، پیاسے تھے، پھر بھی پانی دوسرے ساتھیوں کو دے دیا، یہاں تک کہ شہید ہو گئے، کیا یہ مجاہدۂ نفس نہیں؟

اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر درست عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین