اسلام میں فلسفۂ جہاد | نویں قسط

طاہر احرار

چوتھا اعتراض

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا

ترجمہ: جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کریں گے ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھائیں گے۔

یہ آیت سورۃ عنکبوت میں ہے اور سورۃ عنکبوت مکی سورت ہے، مکہ میں جہاد فرض نہیں تھا۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے جہاد کا لفظ صرف دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کیا اور اس کے ساتھ ہدایت کی تاکید بھی فرمائی

پہلا جواب

سورۃ عنکبوت مکی ہے اور یہ آیت کریمہ مدنی ہے اور یہ قرآن کریم میں معمول ہے کے مکی سورتوں میں مدنی آیات اور مدنی سورتوں میں مکی آیات موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہدایت کے راستے اس کے لیے کھول دیتے ہیں۔

اور اگر یہ آیت مکی بھی ہو تو بھی معنی واضح ہے، یعنی ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر مشکلات برداشت کرے گا تو ہم اس کے لیے ہدایت کے راستے کھول دیں گے، اب اس معنی کو جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ کیسے جوڑیں گے جو کہ قتال کو کہتے ہیں؟

دوسرا جواب

جاہد، یجاہد باب مفاعلہ کا صیغہ ہے، اس کا مصدر مفاعلہ یعنی مجاہدہ یا فعال یعنی جہاد ہوگا۔

اس آیت کریمہ میں جاہد کا مصدر مجاہدہ ہے نہ کہ جہاد اور اس کی دلیل علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا ترجمہ و تفسیر ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر مصائب و مشکلات برداشت کرتا ہے اور مختلف مجاہدوں میں مصروف ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے نورِ بصیرت عطا کرتے ہیں اور اس کی اپنی رضا اور جنت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

وہ جتنی زیادہ مجاہدہ میں ترقی کرتا ہے، اتنا ہی اللہ تعالیٰ اسے اپنی معرفت عطا کرتا ہے اور کشف کا درجہ بلند کرتا ہے اور اس پر وہ چیز القاء کی جاتی ہے جس کا کسی اور کو احساس تک نہیں ہوتا۔ (تفسیر عثمانی)

پس معلوم ہوا کہ یہاں جہاد سے مراد مجاہدہ ہے نہ کہ جہاد۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو درست طریقے سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین