اسلام میں فلسفۂ جہاد | آٹھویں قسط

طاہر احرار

تیسرا اعتراض

اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ

ترجمہ: اے نبی کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کیجیے۔ اور ان پر سختی کیجیے۔

یہاں جہاد کا لفظ قتال کے معنوں میں نہیں آیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سے قتال سے منع فرمایا ہے، اور اگر ہم یہ مان لیں کہ یہاں قتال کے معنی ہی آئے ہیں تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔ نعوذ باللہ۔

جواب

یہاں بھی جاہد کا لفظ قتال کے معنوں میں آیا ہے یعنی ’’قاتل‘‘۔

پہلی دلیل

یہ آیت قرآن کریم میں دو بار آئی ہے، سورۃ توبہ اور سورۃ تحریم میں، اور یہ دونوں سورتیں ہی مدنی ہیں اور جہاد کا حکم بھی مدنی ہے۔

دوسری دلیل

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ’غلظة‘ کا حکم فرمایا اور ’غلظة‘ یعنی سختی جہاد میں ہوتی ہے نہ کہ دعوت و تبلیغ میں۔

جہاں دعوت و تبلیغ کی بات ہوئی تو وہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ

ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ، اور ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔

تیسری دلیل

اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ
ترجمہ: ان کا ٹھکانا جہنم ہے

اور یہ حکم قتال کے بعد ہی ہو سکتا ہے نہ کہ دعوت و تبلیغ کے بعد۔

قرآن کریم میں دعوت و تبلیغ کے بعد اللہ تعالیٰ صرف ترغیب یا شرک سے بیزاری کی باتلگ کرتے ہیں۔

پس اس آیت میں دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے۔

’جاهد‘ اور ’وغلظ‘ اور گروہ بھی دو ہیں کفار اور منافقین۔

پس کفار کے ساتھ جہاد اور منافقین کے ساتھ سختی۔ کیونکہ منافقین کا کفر پوشیدہ ہے، اس لیے ان کے ساتھ قتال کا حکم نہیں دیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا جرم معلوم تھا لیکن انہیں مصلحتاً قتل نہیں کیا۔