اسلام میں فلسفۂ جہاد | ساتویں قسط

طاہر احرار

دوسرا اعتراض

جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہجرت نہیں کی تھی، تب تک آپ کی دعوت و تبلیغ اور کفار کی طرف سے ظلم و ستم کے مقابل صبر و تحمل کو اللہ تعالیٰ نے جہادِ کبیر کے ساتھ تعبیر کیا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا

ترجمہ: پس اے نبی کافروں کی بات ہرگز نہ مانیں اور اس قرآن کے ذریعے کفار کے خلاف سخت جدوجہد کریں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح حکم دیا کہ:

كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ
ترجمہ: اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔

تو اللہ تعالیٰ نے دعوت و تبلیغ کے لیے جہادِ کبیر کا لفظ کیوں استعمال کیا؟

پہلا جواب

لفظ جہاد کے معنی کوشش کے ہیں، یعنی اے اللہ کے رسول! مصائب و مشکلات کے باوجود تبلیغ میں زیادہ کوشش کریں۔ عربی زبان میں ہر چیز چاہے اچھی ہو یا بری، اگر اس میں محنت و مشقت درکار ہو تو لغوی معنوں میں اس کے لیے جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ لیک اصطلاحی معنوں میں جہاد کا لفظ صرف قتال فی سبیل اللہ کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔

دوسرا جواب

اگر ہم ہر جگہ جہاد کے لفظ کو اس کے اصطلاحی معنوں میں ہی استعمال کریں تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ لقمان میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ اس کے بعد فرمایا:

وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا

ترجمہ: اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ایک ایسے عمل کو جہاد سے تعبیر کیا ہے جس میں وہ اپنے بیٹے کو شرک و کفر کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں جہاد اصطلاحی معنی میں نہیں بلکہ لغوی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

تیسرا جواب

پوری امت کے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جہاد مدینہ منورہ میں فرض ہوا اور مذکورہ بالا آیت مکی ہے، پس معلوم ہوا کہ اس سے مراد دعوت و تبلیغ میں پوری کوشش کرنا ہے نہ کہ شرعی معنوں میں جہاد۔

چوتھا جواب

عربی میں صلوۃ کا مطلب  تحریک الصلوین ہے، لغت میں حج قصد کرنے کو کہتے ہیں۔ صوم لغت میں رکنے کو کہتے ہیں۔ اگر ہم لغوی معنی کے اعتبار سے حکم لگائیں تو صبح کی ورزش نماز ہو گی، کسی کام کا قصد کرنا حج ہو گا اور کسی چیز سے رک جانا روزہ مانا جاٗئے گا، لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے، بلکہ ہمیں اصطلاحی اور شرعی تعریف کی ضرورت ہوتی ہے۔

تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں ’جاہد‘ کا لفظ جہاد کے معنوں میں نہیں بلکہ کوشش کے معنوں میں آیا ہے۔