اسلام میں فلسفۂ جہاد | چھٹی قسط

طاہر احرار

#image_title

جواب: دین اسلام میں جہاد کی دو قسمیں ہیں۔

1.      دفاعی جہاد:

یہ اس وقت فرض ہوتا ہے جب کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں، ان کے علاقوں پر قبضہ کریں، ان کے اقتدار و اختیار کو چھین لیں۔ ایسے وقت میں لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے جہاد شروع کریں اور اس وقت تک جہاد جاری رکھیں جب تک کہ وہ غلامی سے آزاد نہ ہوجائیں۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ

ترجمہ: اور ان لوگوں سے اللہ کے راستے میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، یقین جانو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر فرمایا:

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ

ترجمہ: ان لوگوں کو (جنگ کرنے کی) اجازت دے دی گئی ہے جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔ اس لیے کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔

2.      اقدامی یا جارحانہ جہاد

جب کفر غالب ہو جائے اور اسلام و مسلمانوں کے لیے خطرہ بن جائے جبکہ مسلمان شکست خوردہ ہو جائیں تو ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کفر کے غلبہ کو ختم کرنے، اپنا غلبہ حاصل کرنے اور فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لئے اقدامی یا جارحانہ جہاد شروع کریں، تاکہ مسلمان اپنی عبادات اور مذہبی رسومات کو کامل اور آزادانہ طریقے سے ادا کر سکیں۔

عقل کا تقاضا بھی یہی ہے، مثلاً اگر ڈاکوؤں اور چوروں کا ایک گروہ لوگوں پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہو جائے تو علاقے والوں کا حملے کا انتظار کرنا حماقت اور بیوقوفی ہے، ان کو چاہیے کہ دشمن کو پہلے ہی روک دیں۔

اسی طرح سانپ، بچھو، شیر یا کسی اور وحشی جانور کو حملے سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے اور حملے کا انتظار نہیں کیا جاتا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَّلْعُوْنِيْنَ ڔ اَيْنَـمَا ثُــقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَــقْتِيْلًا

ترجمہ: یہ پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں ‘ جہاں بھی پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور ُ بری طرح قتل کردیے جائیں گے۔

وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ

ترجمہ: اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ

ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دیگر ادیان پر غالب کردے، چاہے مشرکین کو یہ بات کتنی ہی بری کیوں نہ لگے۔

الغرض سیکولرز کا یہ اعتراض کہ اسلام میں صرف دفاعی جہاد ہے، دین اسلام سے ان کی ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اس عظیم امتِ مسلمہ کو مفلوج کر دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ کفار کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ جائے۔