اسلام میں فلسفۂ جہاد | پانچویں قسط

طاہر احرار

وہ کفار جو دینِ اسلام میں تحقیق کرتے ہیں یا مسلمانوں کو گمراہ کرنے لیے اسلام سیکھتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان دین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر سکیں (مثلاً تل ابیب اسلامی یونیورسٹی) یا مغرب کے غلام جو مغرب کی خوشنودی کے لیے کام کرتے ہیں یا سیکولرز جو دین کو صرف نام کی حد تک مانتے ہیں اور اس پر عمل کی مخالفت کرتے ہیں، یہ سب لوگ جہاد کے اسلامی نظریے پر درج ذیل اعتراضات کرتے ہیں:

پہلا اعتراض: اقدامی جہاد جائز نہیں

ان لوگوں کی نظر میں جہاد صرف تب جائز ہوتا ہے اگر کفار حملہ کریں اور ملک کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

پہلی دلیل:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونکم

ترجمہ: اور جنگ کرو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔

دوسری دلیل:

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فمن اعتدى عليکم فاعتدوا عليه بمثل مااعتدي عليکم

ترجمہ: جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے تم بھی اس کے ساتھ اتنی ہی زیادتی کر سکتے ہو جتنی اس نے کی۔

تیسری دلیل:

فانماعليک البلاغ وعلينا الحساب

ترجمہ: پس آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

اور اس طرح کی دیگر آیات

ان آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اقدامی جہاد جائز نہیں ہے۔

 

اعتراض کا جواب

اس سے پہلے کہ جواب کی طرف آئیں، تمہیداً یہ ذکر کرتا چلوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بعض احکام کو منسوخ کر دیا اور قرآن کری میں ’نسخ‘ اور معروف اور مشہور چیز ہے، جس کا انکار کرنا ممکن نہیں۔

مثلاً دن رات کا روزہ، پہلے فرض تھا لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا۔

نسخ کی چار اقسام ہیں، جن میں سے ایک ’منسوخ الحکم دون التلاوہ‘ یعنی تلاوت کے بغیر صرف حکم کی منسوخی ہے۔

مشہور مفسر محدث فقیہ علامہ ملا احمد جیون رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر ’’ تفسيرات الأحمديه في بيان الآيات الشرعيه‘‘ میں لکھتے ہیں:

وہ تمام آیات جن میں سلمانوں کو اقدامی جہاد سے منع کیا گیا ہے یا عفو و درگزر کی ترغیب دی گئی ہے، وہ سب ذیل کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہیں۔

وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً  

ترجمہ: اور مشرکین سے سب مل کر قتال کرو جیسے وہ تم سے مل کر قتال کرتے ہیں۔

اسی طرح درج ذیل آیت سے بھی:

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ

ترجمہ: جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔

امام زاہد فرماتے ہیں کہ آیت قتال سے تقریباً ۷۰ آیتیں منسوخ ہوئیں۔

صاحب الإتقان فرماتے ہیں کہ اس آیت (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ) سے ۱۲۴ دیگر آیات منسوخ ہوئیں۔

باقی جواب اگلی قسط میں…