اسلام میں فلسفۂ جہاد | چوتھی قسط

طاہر احرار

۲۔ لوگوں کا ایک گروہ وہ ہے جس نے جہاد کے مفہوم کو وسیع کر دیا۔ بعض اہل علم اور اہل قلم حضرات ایسے ہیں کہ اگرچہ وہ قتال میں شریک تو نہیں ہو سکتے لیکن ان کے دل مجاہدین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان پر معمولی سی تنقید بھی باعثِ گناہ ہے، کیونکہ ان کے درس و تدریس کی برکت سے ہی محاذوں پر رونق ہے، وہ مجاہدین کی تربیت کرتے ہیں اور اس صف کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔

ان کے علمِ دین دوسروں کو سکھانے، لوگوں کے مسائل کا جواب دینے اور علمِ دین میں ان کے نفقہ کی وجہ سے قرآن کریم میں بھی اشد ضرورت کے بغیر انہیں قتال سے مستثنی قرار دیا گیا ہے، انہیں بھی مجاہدین کہا جاتا ہے۔

اسی طرح بہت سے مصنفین ہیں جن کی تحریریں دشمنوں کو شدید حملے کی طرح اثر کرتی ہیں اور وہ دوسرے ممالک میں زندگی بسر کرنے یا کسی اور معقول عذر کی وجہ سے قتال میں شرکت نہیں کر پاتے، انہیں بھی مجاہدین ہی کہا جاتا ہے۔

ایک اور لوگوں کا گروہ ایسا ہے کہ جو اپنا مال و دولت اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے، مجاہدین کی ضروریات پوری کرتا ہے، انہیں جہاد کے لیے اسلحہ، کپڑے اور دیگر ضروریات فراہم کرتا ہے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔

لیکن وہ ٖفضیلت اور بھلائی جو جہاد میں قتال کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے، بیٹھنے والوں کو کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔

الغرض ہر عمل کو جہاد نہیں کہا جا سکتا اور ہر معمولی سرگرمی کو جہاد کا نام دینا اسلامی احکام کی تحریف کہلائے گا۔