اسلام میں فلسفۂ جہاد | اٹھارہویں قسط

طاہر احرار

#image_title

چودہواں اعتراض

ایک حدیث مبارک میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مِنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عَنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہُ اَجْرُ مِائَۃِ شَھِیْدِ

ترجمہ: میری امت کے بگاڑ کے وقت جس آدمی نے میری سنت کو زندہ کیا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔

اس حدیث مبارک سے بعض لوگ استدلال کرتے ہیں کہ محاذ پر شہادت کا اجر ایک شہید کے برابر ہے لیکن مسواک کرنا یا دعوت و تبلیغ کا کام کرنا یا پگڑی پہننا وغیرہ جیسی سنتوں پر عمل کرنے کا اجر سو شہیدوں کے برابر ہے۔

تمہید

مشکل یہ ہے کہ اس حدیث مبارک یا اس سے ملتی جلتی دیگر احادیث جیسے ’’الحج جهاد لاقتال فيه‘‘ (حج ایک ایسا جہاد ہے جس میں قتال نہیں) وغیرہ، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اشاعتِ دین کے حوالے سے فرمایا۔ بعض لوگوں نے ان کی ایسی تشریح کی ہے کہ جس کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو دھوکہ دیا بلکہ خود کو اور دیگر سادہ لوح مسلمانوں کو بھی برباد کر دیا۔ میں یہاں ایسی احادیث مبارکہ کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔

جواب

نبی کریم ﷺ کی سنتیں دو طرح کی ہیں، پہلی وہ سنت جو رسول اللہ ﷺ نے عبادت کی نیت سے کیں، جیسے وضو کرتے وقت مسواک کرنا وغیرہ۔ دوسری وہ سنتیں ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ عادت کے مطابق کرتے تھے جیسے سونے سے قبل مسواک کرنا وغیرہ۔ سب سے پہلے تو یہاں سنت سے وہ سنتیں مراد ہیں جو آپ ﷺ بطور عبادت کرتے تھے، اگرچہ نبی کریم ﷺ کی عادت والی سنت بھی قابل تقلید اور باعث ثواب ہے، لیکن یہاں اصل مراد نبی کریم ﷺ کی سنت سے دینی احکام ہیں جیسے دیگر بہت سی جگہوں پر آپ ﷺ نے فرائض و واجبات کو بھی سنت کہا ہے تو یہاں بھی مراد و مطلوب احکامِ دین ہیں۔ دینی احکام میں سب سے زیادہ جس حکم سے لوگ پیچھے ہٹے ہیں اور جس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے وہ حکم جہاد کا ہے۔ تو اس کا ایک معنی تو یہ ہوا کہ جو کوئی بھی آج جہاد کا حکم زندہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سو شہداء کا اجر عطا کرے گا۔

اور جہاد ایک ایسا حکم ہے کہ اسے زندہ کرنے سے اسلام کے تمام احکام زندہ ہوتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کو مکمل دین کہا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّی تَرْجِعُوا إِلَی دِينِکُمْ

ترجمہ: جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے ، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے ، کھیتی باڑی ہی پر مطمئن ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی طرح زائل نہ ہوگی حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ ۔

یہاں دین سے مراد جہاد ہے۔

مثال:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین بار سورہ اخلاص کی تلاوت مکمل قرآن کی تلاوت کے برابر ہے۔

تو پھر کیا لوگ قرآن کریم کی تلاوت چھوڑ دیں اور صرف تین بار سورہ اخلاص کی تلاوت کر لیا کریں؟

اللہ تعالیٰ ہمیں دینی امور کو درست طریقے سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین