اسلام میں فلسفۂ جہاد | سترہویں قسط

طاہر احرار

#image_title

بارہواں اعتراض

عن عبدالله بن عمر قال: جَاءَ رَجُلٌ إلى النبيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، يَسْتَأْذِنُهُ في الجِهَادِ فَقالَ: أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ قالَ: نَعَمْ، قالَ: فَفِيهِما فَجَاهِدْ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا، جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ان کی خدمت میں جہاد کرو۔

پس معلوم ہوا کہ جہاد صرف قتال ہی نہیں ہے بلکہ ماں باپ کی خدمت بھی جہاد ہے۔

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ حقوق العباد میں سب سے زیادہ حق ماں باپ کا ہے، ان کی نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کہا گیا ہے، جنت ان کے قدموں تلے رکھ دی گئی ہے، اولاد کے مال کو اس کے باپ کا مال مانا گیا ہے اور  شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے۔

ماں باپ کی خدمت کا مقام ایک تسلیم شدہ امر ہے۔ لیکن اس حدیث شریف سے سے یہ مفہوم نکالنا کہ ماں باپ کی خدمت جہاد ہے، بالکل بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس کا مفہوم مختلف ہے۔ خدمت کا مطلب معلوم ہے، اور جہاد کا مطلب قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اور یہ بات کہ نبی کریم ﷺ نے اسے جہاد کا نام کیوں دیا، تو اس کا جواب بہت آسان ہے، اور وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ صرف نبی اور رسول ہی نہیں تھے بلکہ وہ امیر المجاہدین بھی تھے۔

مذکورہ بالا صحابی جہاد کی نیت سے حاضر ہوئے تھے، لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں خدمت کا حکم دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے خدمت کو جہاد کا نام دیا، بلکہ امیر کی اطاعت کو جہاد کا درجہ دیا۔

ماں باپ کی خدمت تو چھوڑیں، اگر امیر عین جنگ کے دوران ایک سپاہی کو جنگ سے ہٹا کر بیت الخلاء کی صفائی پر مامور کر دیتا ہے تو اسے بھی جہاد ہی کہا جائے گا۔

مثال:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں، مال غںیمت سے نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کا مکمل حصہ دیا، حالانکہ وہ جنگ میں شریک نہیں تھے، وجہ یہ تھی کہ انہیں نبی کریم ﷺ نے خدمت کی خاطر جنگ سے واپس بھیج دیا تھا کیونکہ ان کی زوجہ اور نبی کریم ﷺ کی دختر سخت بیمار تھیں۔

حضرت عثمان کے علاوہ آٹھ صحابی ایسے ہیں کہ جن کو بدری صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے اور جنہیں مال غنیمت سے حصہ بھی دیا گیا لیکن وہ جنگ میں شریک نہیں تھے۔

۱: حضرت طلحه ۲: حضرت سعيدبن زيد ۳: حضرت ابو لبابه انصارى ۴: حضرت عاصم بن عدي ۵: حضرت حارث بن خاطب ۶: حضرت حارث بن صمه ۷: حضرت خوات بن جبير. ۸: حضرت جعفر رضوان اللهِ تعالىٰ عليهم أجمعين.

ان اصحاب کو نبی کریم ﷺ نے دیگر امور میں لگا رکھا تھا۔

 

جاری ہے…!