اسلام میں فلسفۂ جہاد | سولہویں قسط

طاہر احرار

گیارہواں اعتراض

ایک حدیث شریف میں پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:

أفضلُ الجهادِ كلمةُ عدلٍ عند سلطان جائرٍ

ترجمہ: بہترین جہاد، ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ بادشاہوں کے خلاف احتجاج کرنا، اخبارات، رسائل وغیرہ میں لکھنا، بہترین جہاد ہے، کیونکہ اس میں قتل و غارت گری بھی نہیں ہوتی، اور نبی کریم ﷺ نے اسے افضل جہاد بھی فرمایا ہے۔

پہلا جواب:

محدثین نے اس حدیث مبارک کی تشریح میں لکھا ہے کہ بادشاہوں کے سامنے کلمۂ حق کہنا تب جہاد کہلاتا ہے، جب کلمۂ حق کہنے کے نتیجے میں سر قلم کیے جانے یا قتل کیے جانے کا یقین یا کم از کم قوی احتمال موجود ہو، تو یہ بذات خود قتال میں شامل ہو گا، یا قتال کے قریب شمار کیا جائے گا۔

دوسرا جواب:

بعض اوقات کلمۂ حق کہنا قتال سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے اور ایسی باتوں اور تقاریر سے لوگ کفار کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، تو جیسے پہلے ہم نے ذکر کیا ایسی باتیں اور تقاریر جہاد میں ہی شمار ہوتی ہیں۔

مثال:

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے جا رہے تھے، حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے تلوار اپنی گردن پر رکھی، نبی کریم ﷺ کے اونٹ کو پکڑا اور یہ اشعار کہے:

خلوا بني الفار عن سبيله
اليوم نضربکم على تنزيله
ضربا يزيل الهام عن مقيله
ويزهل الخليل عن خليله

ترجمہ: چوہے کے بچو (کفار) ان (نبی ﷺ) کے راستے سے ہٹ جاؤ، آج ان کے پہنچنے پر تمہیں ایسا ماروں گا کہ تمہارے سر تن سے جدا ہو جائیں گے، اور دوست دوست سے جدا ہو جائے گا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور حرمِ پاک میں شعر؟

رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: عمر جانے دو!

عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم عبد اللہ بن رواحہ کا یہ شعر کفار کے لیے تلوار سے بھی زیادہ سخت ہے۔

الغرض ایسے وعظ و تقریر جو لوگوں کے جذبات کو ابھاریں، مجاہدین کے حوصلے بلند کریں، تاکہ کفار کا مقابلہ کر سکیں، بذاتِ خود جہاد کہاتے ہیں۔

 

جاری ہے…!