اسلام میں فلسفۂ جہاد | چودہویں قسط

طاہر احرار

نواں اعتراض

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’اَلمُجاهِدُ مَن جاهَدَ نَفسَهُ في طاعَةِ اللّه‘‘

حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی عبادت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ چنانچہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جہاد صرف قتال فی سبیل اللہ کو نہیں کہا جاتا بلکہ بہترین جہاد نفس کا جہاد ہے۔

پہلا جواب:

اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی جہاد وہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں سر تسلیم خم کر دے، جہاد تب ہی جہاد ہو گا جب وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہو۔

اگر کوئی شخص قتال بھی شہرت یا قومیت کے لیے کرے تو وہ مجاہد نہیں کہلائے گا، یہاں ’’في طاعة الله‘‘ کا مفہوم اور مقصد یہ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’مَن قاتَل لتكونَ كلمةُ اللهِ هي العليا فهو في سبيلِ اللهِ‘‘

ترجمہ: جو بھی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے لڑے صرف وہی مجاہد ہے۔

دوسرا جواب:

اگر اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر نظر ڈالیں، تو حقیقی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔

آپ خود فیصلہ کریں! ایک شخص جو اپنی بیوی، بچے، خاندان، گھر اور وطن چھوڑ دے، سردی گرمی میں محاذوں پر شب و روز گزارے، بلکہ خود کو موت کے منہ میں ڈال دے، اور محاذوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرے، کیا جہاد بالنفس یہ ہے یا صرف گھر میں یا مسجد میں نوافل کی ادائیگی؟

اگر محاذ پر گرم جنگ اس لیے جاری ہے کیونکہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں، عزت و ناموس خطرے میں ہے، گھروں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، مجاہدین کو کھانا پینا اور خون کی ضرورت ہے اور کوئی شخص گرم کمرے میں تہجد یا اشراق کے نوافل ادا کر رہا ہے اور پھر ان نوافل کو جہادِ اکبر کا نام دیتا ہے۔ کیا یہ نفس سے جہاد ہے یا شریر نفس کی اطاعت اور بندگی ہے؟

معلوم ہوا کہ جہاد بالنفس وہ ہے کہ جب کوئی اپنی نفس کی خواہشات کے خلاف محاذ کا رخ کرے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو سکے اور اس کے بعد ذکر، تلاوت اور دیگر نیک اعمال میں مصروف ہو جائے۔

الغرض اعمال صالحہ یا دعوت الی الخیر مطلوب اور بہتر اعمال ہیں، لیکن ان پر جہاد کے لفظ کا اطلاق کرنا دینِ اسلام کا تقاضا نہیں۔

آپ دیکھیں کہ فلسطین میں کیا چل رہا ہے ، پھر بھی بعض نام نہاد عرب علماء فلسطینی لوگوں کا اپنا دفاع کرنا جائز نہیں کہتے اور عین حالت جنگ میں کہتے ہیں کہ:

’’یا ابا عبيده جاهد بالنفس‘‘۔

اے ابو عبیدہ اپنے نفس سے جہاد کرو۔