اسلام میں فلسفۂ جہاد | تیرہویں قسط

طاہر احرار

آٹھواں اعتراض:

اسلام میں احکام کی دو اقسام ہیں:

اول: حسن لعینہ، جو اپنی ذات میں بہتر ہیں، جیسے ذکر، نماز وغیرہ

دوم: حسن لغیرہ، جو اپنی ذات میں تو بہتر نہیں ہوتے لیکن دیگر وجوہات سے ان میں بہتری آ سکتی ہے۔ جہاد بذات خود بہتر نہیں، لیکن اگر اس کے ساتھ اشاعتِ اسلام شامل ہو جائے تو بہتر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اصل چیز اشاعتِ اسلام ہے نہ کہ جہاد، اس لیے کوئی شخص اشاعتِ دین کا کام کر رہا ہو لیکن جہاد نہ کر رہا ہو وہ گناہگار نہیں، بلکہ مجاہدین سے کہیں بہتر ہے، کیونکہ حسن لعینہ بہتر ہے حسن لغیرہ سے۔

پہلا جواب:

دینِ اسلام کے تمام احکامات حسن ہیں۔ فقہاء نے یہ تقسیم صرف لوگوں کو سمجھانے کے لیے کی ہے، اس لیے نہیں کہ اسلام کے احکام ناقص ہیں، ایسا نظریہ رکھنا ایمان کی بربادی ہے۔

دوسرا جواب:

ٹھیک ہے! جہاد حسن لغیرہ ہے۔ لیکن اشاعتِ اسلام بھی حسن لعینہ نہیں۔ اصل چیز اعلائے کلمۃ اللہ ہے اور اعلائے کلمۃ اللہ کا بہترین ذریعہ جہاد ہے، اس کے بعد دیگر طریقے آتے ہیں جن سے اشاعتِ اسلام کی جا سکتی ہے۔

تیسرا جواب:

نبی اکرم ﷺ کے دور مبارک سے لے کر آج تک غلبۂ اسلام جہاد کے بغیر نہیں ہو سکا اور نہ ہی ہو سکے گا، اسلام کو غالب کرنے کا سب سے بہترین راستہ جہاد ہے، یہ وہ راستہ ہے جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی چلے۔

دنیا میں دین کی تبلیغ، بعض لوگوں کا اسلام قبول کر لینا اور پھر بظاہر اپنا حلیہ با شرع بنا لینا غلبۂ اسلام نہیں کہلایا جا سکتا، بلکہ غلبۂ اسلام کا معنی یہ ہے کہ ایک ملک کا کوئی بھی قانون دین اسلام کے ساتھ نہ ٹکراتا ہو، حدود مکمل طور پر نافذ ہوں، تمام ملکی معاملات سود، ذخیرہ اندوزی، ناجائز خرید و فروخت سے پاک ہوں اور اسلامی احکامات کی تنفیذ اور عمل درآمد کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی ہو۔

اگر ہمارے حکمران جمہوریت پسند ہوں، قوانین جمہوری ہوں، معاملات سودی ہوں، حدود نافذ نہ ہوں تو صرف مساجد میں دینی گفتگو کر لینے کی آزادی کو غلبۂ اسلام نہیں کہا جا سکتا۔