اسلام میں فلسفۂ جہاد | گیارہویں قسط

طاہر احرار

چھٹا اعتراض

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

ترجمہ: اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے ‘ نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صرف ان لوگوں کو کامیاب قرار دیا ہے جو امر بالمعروف و النھی عن المنکر کرتے ہیں اور ایسی جماعت کی موجودگی کو ضروری قرار دیا ہے، یہاں جہاد یا مجاہدین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

جواب:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں تین چیزیں ذکر کی ہیں۔

1. يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ

خیر دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک کامل خیر اور دوسری ناقص خیر۔

خیرِ کامل مکمل دین کو کہتے ہیں، یعنی یہ جماعت لوگوں کو پورے دین کی طرف دعوت دیتی ہے، جس میں عقائد، عبادات، جہاد، معاملات، معیشت و معاشرت اور اخلاق سب شامل ہیں۔

اور اگر کوئی دعوتِ خیر ناقص کی طرف دیتا ہے تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اسے اس جماعت کے مصداق نہیں کہا جا سکتا۔

ایک حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ نے جہاد کو مکمل دین فرمایا ہے۔

وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ

علامہ خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ ’بذل المجھود‘ میں لکھتے ہیں کہ دین سے مراد جہاد ہے۔

2.    وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ

یہاں امر کا لفظ آیا ہے، درخواست نہیں، اور امر کے لیے استعلا شرط ہے۔ یعنی امر بالمعروف کرنے والے کے پاس قوت اور استعلا ہونی چاہیے اور قوت اور استعلا صرف اور صرف جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔ نیک اعمال کا مطالبہ اور درخواست کرنا بھی اچھی بات ہے لیکن اسے اس جماعت کے مصداق نہیں کہا جا سکتا۔

3.    وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ

اس جماعت کی تیسری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نھی عن المنکر بیان کی ہے اور نھی عن المنکر کے لیے بھی قوت شرط ہے اور قوت جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔

بعض لوگ نھی عن المنکر نہ کرنے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ پھر اس سے ہمارے کام میں رکاوٹ پیدا ہو گی اور لوگ نفرت کریں گے۔ اور یہ بہت ہی لغو اور حقیقت کے خلاف دلیل ہے۔ درحقیقت مذکورہ بالا آیت کریمہ کے مصداق جہاد اور مجاہدین ہیں اور دین کے تمام شعبوں کو فعال اور مضبوط رکھنے کے لیے جہاد لازم ہے۔