اسلام میں فلسفۂ جہاد | دسویں قسط

طاہر احرار

پانچواں اعتراض

اللہ تعالیٰ نے سورۃ عادیات میں گھوڑوں کے کھروں کی قسم کھائی جو بڑی عزت اور عظمات کی بات ہے۔

لیکن سورۃ عادیات مکی ہے اور جہاد مدینہ منورہ میں فرض ہوا، تو یہ فضیلت، عزت اور عظمت مجاہدین سے تعلق نہیں رکھتی۔

پہلا جواب

سورۃ عادیات کے بارے میں مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ سورت مدنی ہے اور دوسرا کہ یہ سورت مکی ہے۔

میں دونوں اقوال کی وضاحت پیش کرتا ہوں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت جابر، حسن بصری، عکرمہ، عطا رحمہم اللہ کے نزدیک یہ سورت مکی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے جنگی گھوڑوں کی قسم کھائی ہے، چاہے وہ جہاد میں ہوں یا یہ جنگی گھوڑے تبلیغ، حج یا دیگر کسی نیک کام کے لیے استعمال ہو رہے ہوں۔ تویہاں یہ تعبیر درست نہیں کہ عادیات کا اطلاق مجاہدین کے گھوڑوں پر ہی ہوتا ہے۔

اس آیت کریمہ کا مقصد اور حاصل یہ ہے کہ ایک گھوڑا جسے اس کا مالک کھانا پینا دیتا ہے، جنگ میں اپنے مالک کا دفاع کرتا ہے اور اسے بچانے کی کوشش کرتا ہے، تو اے انسان، تم اپنے مالک اور رازق کی نافرمانی کیسے کر سکتے ہو؟

لہٰذا اس سورت کا مجاہدین اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ضروری نہیں کہ قرآن کریم میں بیان کی گئی ہر فضیلت جہاد کے لیے ہو، بلکہ دیگر اعمال بھی ہیں جیسے شکر، صبر، سخاوت، شجاعت، رحم، حیا وغیرہ۔ جہاد کی فضیلت کے لیے دیگر آیات اور احادیث موجود ہیں۔

دوسرا جواب

حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت انس، قتادہ، امام مالک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے۔ (تفسیر قرطبی)۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی نہیں بلکی ان مجاہدین کی قسم کھائی ہے جو ان گھوڑوں پر سواری کرتے ہیں۔

تفسیر: علامہ شیخ عبد القادر رحمہ اللہ اپنی تفسیر، موضح قرآن میں فرماتے ہیں کہ عادیات سے مراد گھوڑے نہیں ہیں بلکہ گھڑسوار ہیں۔

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ (إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ) کی ذیل میں فرماتے ہیں کہ یہاں مراد گھڑسوار مجاہدین ہیں، اسی طرح (وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ) کی ذیل میں لکھتے ہیں کہ یہاں مراد مجاہدین ہیں۔

بہرحال اگر سورۃ مکی بھی ہو، تو بھی مجاہدین کی فضیلت میں کوئی کمی نہیں آتی اور اس بات پر اصرار اور زبردستی کرنا کہ یہ سورۃ مدنی ہے قرآن کریم کے اعجاز سے میل نہیں کھاتا۔