اسلام میں فلسفۂ جہاد | پہلی قسط

طاہر احرار

دینِ اسلام کے احکام کے مطابق جہاد فرض ہے اور یہ دین کے اساسی فرائض میں سے اہم فرض ہے۔ جہاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کی بعض سورتیں مکمل صرف جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، مثلاً سورۃ انفال اور سورۃ توبہ، اسی طرح بعض سورتوں کے کچھ رکوع مکمل طور پر جہاد کے بارے میں ہیں ، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم فرمایا ہے۔

جہاد کے حکم میں اور دیگر فرائض میں کوئی فرق نہیں ہے، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج میں اور جہاد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جیسے نماز کا منکر کافر ہے، اسی طرح جہاد کا بھی۔

لیکن جہاد کبھی فرض عین ہوتا ہے اور کبھی فرض کفایہ ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں بھی جہاد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اگر آپ کتبِ احادیث پر غور و فکر کریں، تو ایسی کوئی کتاب نہیں ہے کہ جس میں کتاب الجہاد نہ ہو۔ احادیث کی مشہور کتابوں میں اس حوالے سے سینکڑوں احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔

فقہائے امت رحمہم اللہ نے بھی اپنی کتابوں میں کتاب الجہاد اور کتاب السیر کے ابواب باندھے ہیں، اسی طرح علمائے تاریخ نے بھی اپنی کتابوں کو جہاد سے مزین کیا ہے۔

خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنا زیادہ تر وقت جہاد میں گزارا۔ آپ نے ۲۷ غزوات میں حصہ لیا اور دیگر ۵۵ میں صحابہ کرام کو روانہ کیا۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کے عرصے میں ۸۲ غزوات میں بالواسطہ یا براہ راست حصہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی بھی ہوئے اور آپ کے ہاتھ سے ابی بن خلف مارا بھی گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر تک جہاد کے سلسلے میں مصروف رہے۔ جہاد کو ’سنام الاسلام‘ کہا گیا ہے اور یہ اسلام کے دیگر تمام احکامات کا محافظ ہے۔ جہاد کے ذریعے وہ تمام رکاوٹیں جو اسلام کے بابرکت احکام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہوتی ہیں، ختم ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کفار کو جہاد ذرہ برابر برداشت نہیں ہوتا اور وہ جہاد کو دہشت گردی اور مجاہدین کو دہشت گرد کہتے ہیں۔

جاری ہے…!