داعش کا جنسی نشہ | دوسری قسط

خادم شیرزاد

داعش یا جھوٹی خلافت کے دعویدار جو خود کو اس صدی کے سب سے بڑے اور راسخ العقیدہ مسلمان گردانتے ہیں، انہوں نے عراق، شام، اور لیبیا میں عورتوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا کہ شاید تاتاریوں نے بھی ایسا سلوک کبھی نہیں کیا ہو گا۔

۲۰۱۴ء میں داعش نے فتویٰ جاری کیا کہ وہ عورتیں جو جنگوں میں پکڑی جائیں، ان کے مرد غلام اور ان کی عورتیں اور لڑکیاں باندیاں ہوں گی۔

داعش کی رسمی ویب سائٹ دابق پر ۲۰۱۴ء میں ایک فتویٰ نشر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ یزیدیوں کی عورتیں کافر ہیں ان کو پکڑنا آپ کے لیے غنیمت اور ان کو باندی بنانا آپ کا شرعی حق ہے۔

اسی سال مشہور جریدے اکانومسٹ نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ:

داعش نے ۲۰۰۰ کے قریب عورتیں اور کم عمر لڑکیاں جنسی  تعلقات کے لیے ۵۰۰ ڈالر سے لے کر ۳۰۰۰ ڈالر تک فروخت کیں۔

اس میں یہاں تک کہا گیا کہ ان عورتوں اور لڑکیوں کو بعض بااثر عربوں نے جنسی لذت کے لیے خریدا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ۳۵۰۰ خواتین اور بچے آج بھی داعش کے اسیر ہیں اور وہ انہیں جنسی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

(Islamic State: Yazidi wemen tell of sex-slavery trauma by Paul Wood)

۲۰۱۴ء میں ہی شائع کی گئی ایک اور تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا:

داعش نے عراق کے شہر نینوا میں ۵۰۰ عورتیں پکڑیں، جن میں سے ۱۵۰ کنواری لڑکیاں تھیں اور داعشیوں نے ان تمام عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے اور اپنی جنسی پیاس بجھائی۔

(Islamic State committing ‘staggering’ crimes in Iraq. 10-10-2015)

عراق کے سنجار نامی علاقے میں داعش نے اگست ۲۰۱۴ء میں ۳۰۰۰ عورتیں اور لڑکیاں پکڑیں، کچھ عرصے بعد وہ پھر رہا ہو گئیں اور ان عورتوں میں سے ۴۰۰ کو کینیڈین حکومت کینیڈا لے گئی۔

کینیڈا جانے والی ان عورتوں اور لڑکیوں نے اپنی کہانی انٹرویوز میں سنائی۔

۲۰۱۷ء میں شائع ہونے والی اپنی تحقیقی کتاب “The Beekeeper of Sinjar” میں مشہور عراقی صحافی دنیا میخائل نے ان سینکڑوں خواتین کا انٹرویو کیا جو داعش کی قید میں تھیں۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا:

داعش نے سنجار میں ہزاروں عورتوں کو پکڑا، ان عورتوں میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں، جن میں سے بعض کی عمریں ۱۲ سال تک تھیں۔

داعشیوں نے ان لڑکیوں کو زبردستی مانع حمل ادویات دیں، تاکہ یہ لڑکیاں حاملہ نہ ہوجائیں۔

داعشیوں نے عورتوں کے ساتھ صرف جنسی زیادتی نہیں کی بلکہ جنسی تعلقات کے علاوہ داعش کا ظلم عورتوں اور بچوں کا قتل عام بھی تھا۔

اکتوبر ۲۰۱۴ء میں داعش نے عراق کے شہر موصل میں ۵۰۰ عورتوں کو اس الزام پر موت کے گھاٹ اتار دیا کہ وہ زانی تھیں، لیکن ان کے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلائل نہیں تھے۔

ایک سال بعد داعش نے موصل میں ۲۳۰ مزید عورتوں کو بغیر کسی شرعی جواز کے زندہ دفن کر دیا۔