عراق سے افریقہ تک داعش کا مشن

صلاح الدین (ثانی)

تاریخ پر نظر ڈالیں تو ۱۹۸۹ء میں ایک مشہور امریکی ماہر سیاسیات فرانسس وکویاما نے تاریخ کے خاتمے کے بارے مٰں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبرل ازم اور جمہوریت ہی انسانی نظم کا حتمی حل ہیں۔ لیکن چند سال بعد، ۱۹۹۶ء میں سیاسیات کے ایک اور مشہور دانشور سیموئل ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کے بارے میں خبردار کیا۔

چونکہ امریکہ نے اپنی توجہ ایشیا کے ساتھ افریقہ کی طرف بھی کر لی اور اس کے فائدے دیکھے تو اس نے ایسی سفاکیت کا ارتکاب کیا کہ جو ہر حد سے تجاوز کر گئی۔

اس نے ایشیا اور افریقہ کی تمام اسلامی سرزمینوں پر فوجی اڈے قائم کیے اور اس کے ساتھ فکری جنگ کو بھی تیز کر دیا۔

لیکن ایشیا میں عراق و افغانستان کی وجہ سے وہ پھنس گیا، کیونکہ یہاں امریکہ اسی نظریے کا شکار ہو گیا جس کا اسے خدشہ تھا، یعنی تہذیبوں کا تصادم۔ امریکہ کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو ہتھیار ڈال دے یا جنگ۔ لیکن امریکہ نے اپنے غرور کو قائم رکھنے کے لیے جنگ کا انتخاب کیا، جس نے عراق اور افغانستان کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا۔ امریکہ کی اس بربریت نے عالمِ اسلام کے مسلمان نوجوانوں کو جہاد و قتال کا نظریہ دیا۔

یہی وجہ تھی کہ امریکہ کے خلاف تصادم اور محاذ آرائی کا خطرہ افغانستان اور عراق کی سرحدوں کو عبور کر گیا اور تمام مجاہدین نے ہر ملک میں امریکی جارحیت پسندوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

مغربی سیاسی حکمت عملی کے ماہرین نے یہ ادراک کیا کہ یہ ٹکراؤ کا نظریہ آہستہ آسہتہ ابھر رہا ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ جنگ میں داخل ہو سکتا ہے۔

اسی وجہ سے اس نے عراق کی سرزمین میں ایک ایسا ناپاک اور خونخوار گروہ تشکیل دیا کہ جس کا مشن مجاہدین کے خلاف جنگ تھا۔

داعش

۲۰۱۴ء میں امریکہ نے داعشی گروہ کے سرغنہ ابو بکر بغدادی کو بغداد میں اٹھایا اور وہ جہادی نوجوان جو امریکی اتحاد کے خلاف میدانِ جنگ میں اترے تھے، داعش نے انہیں اپنی طرف راغب کیا تاکہ ان جہادی نوجوانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے جاری جہادی عمل کو روکا جا سکے، اور بد قسمتی سے ایسا ہی ہوا۔ وہ جہادی قائدین اور مجاہدین جو امت کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ زندہ کرنے کی امید لے کر اٹھے تھے، وہ داعش کی وجہ سے قومی یا مسلکی جنگ میں مصروف ہو گئے۔

اس نے عراق اور شام میں مسلکی جنگ چھیڑ دی  اور افغانستان سے افریقہ تک مجاہدین کو مرتد قرار دیا اور پوری امتِ مسلمہ کے خلاف خفیہ صلیبی جنگ شروع کر دی، جو آج تک جاری ہے۔ لیکن اپنے بہت سے مظالم، جرائم اور خلافت و امارت کے خلاف کیے گئے اقدامات کے باوجود داعشی خود کو خلافت کی محافظین کہتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف مسئلۂ فلسطین کو ان لوگوں پر چھوڑ دیا ہے کہ جنہیں یہ خود مرتد کہتے ہیں۔

المرصاد

اہم خبریں