ایران پر حملہ کس نے کیا؟

طاہر احرار

دنیا بالخصوص ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے حالات انتہائی پیچیدہ ہیں، ایک طرف اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی مسلمانوں پر مظالم کی سطح بہت بلند ہو چکی ہے تو دوسری طرف عرب حکمرانوں کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کی سطح بہت پست ہے۔

اگر ہم باریک بینی سے جائزہ لیں تو یمن کا حکمران حوثی گروپ اور لبنان کا حزب اللہ گروپ دونوں شیعہ ہیں، جنہیں ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے، ان کے ذریعے ایران مشرق وسطیٰ کو اپنے دباؤ میں رکھتا ہے، دونوں گروہ فلسطین کی حالیہ جنگ میں حمایت کر رہے ہیں، یہاں تک کہ حوثی شیعہ تقریبا جنگ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اسرائیل خطے میں حزب اللہ کے خلاف لبنان میں حملے کرتا ہے اور کبھی کبھی ایران کے دوسرے اتحادی شام کے خلاف بھی فضائی کارروائی کرتا ہے، لیکن اس نے ابھی تک یمن پر کوئی حملہ نہیں کیا کیونکہ اسرائیل بھی بہت سی جگہوں پر جنگ میں پھنسنا نہیں چاہتا۔

اسرائیل چاہتا ہے کہ یمن کے حوثیوں، لبنان کے حزب اللہ اور ایران کو، جو ان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، براہ راست ایران میں جواب دے۔ اسی ہدف کے حصول کی خاطر اس نے داعش کو استعمال کیا۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل اور داعشی خوارج کے باہمی تعلقات بہت مضبوط اور دیرینہ ہیں۔ اسرائیل کے لیے ممکن ہے کہ وہ داعش کے ذریعے ایران پر حملہ کر کے فلسطین کے ساتھ تعاون پر سخت ردّعمل کا اظہار کرے۔

اسرائیل کی طرف سے داعش کے ذریعے یہ آخری حملہ بھی نہیں ہو گا، بعید نہیں کہ ایسے دھماکے اور حملے یمن میں بھی کیے جائیں۔

دوسری جانب داعش کی طرف سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ أفغانستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو، جو کہ اب مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، غیر یقینی صورتحال کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔