ایران میں کرمان حملے میں ملوث دہشت گرد تاجک شہری ہو سکتے ہیں

تاجکستان نے، جو کہ داعشی نظریے کی پیداوار کا ایک نیا مرکز بن چکا ہے، اپنی زیادہ تر توجہ خطے کی اور عالمی سلامتی اور استحکام پر مرکوز کر رکھی ہے اور اس کے بہت سے شہریوں کو افغانستان، ایران اور دیگر ممالک میں ہونے والے حملوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ، یورپ، ترکی اور روس میں بڑی تعداد میں تاجک شہری داعشی منصوبے کے حوالے سے گرفتار ہوئے ہیں۔ المرصاد کو اب ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جرمنی میں رہنے والے ایک تاجک شہری کے توسط سے داعش خراسان اور تاجک انٹیلی جنس کے درمیان روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ تاجک انٹیلی جنس نے داعش خراسان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ساتھ موجود اور حملوں میں استعمال ہونے والے تاجک شہریوں کی کم از کم شناخت خفیہ رکھیں تاکہ تاجک حکومت پر دباؤ کم ہو سکے۔ اس کام کے بدلے انہوں نے مزید امداد کا وعدہ کیا۔ ایران میں کرمان حملے میں ملوث حملہ آوروں کی جو تصاویر شائع ہوئی ہیں، بعض انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، یہ لوگ تاجکستانی شہری ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ ان حملہ آوروں کا اپنے چہرے اور آنکھیں چھپانا تاجک انٹیلی جنس کی طرف سے داعش خراسان کو کی گئی درخواست سے ہی منسلک ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے متعدد اعلیٰ عہدیداران نے بھی افغانستان میں داعش خراسان کے تمام حملوں میں تاجک شہریوں کے استعمال کی اطلاع دی تھی۔