ایران مزید ایسے خواب مت دیکھے

طالب علم صفت اللہ

ایران جو بظاہر خود کو امریکہ اور اسرائیل کے دشمن کے طور پر پیش کرتا ہے اور غزہ کی جنگ میں زیادہ تر لوگوں کی نظریں بھی اسی کی جانب اٹھتی ہیں کہ وہ اپنی دشمنی کا عملی مظاہرہ کرے، لیکن ایرانی حکام نے یہ کہہ کر خود کو برئ الذمۃ سمجھ لیا کہ افغانستان سے ان کی مدد کے لیے فدائی مجاہدین ( استشہادی) آئیں گے۔

چونکہ ہم سب الحمد للہ مسلمان ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کے دکھ اور درد کو خود بھی محسوس کرتے ہیں اس لیے مسلمان ہونے کے ناطے ہم نہ صرف غزہ بلکہ ہر مسلمان کی مدد اور تعاون کریں گے۔

لیکن دوسری طرف ایران جو عشروں سے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف دشمنی کے نعرے لگا رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی بات کو عملی جامہ پہنائے، لیکن وہ اس پر عمل نہ کرنے اور اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے لیے افغانستان کی مسلمان اور مجاہد قوم کو بہانہ بنا رہا ہے۔

ایران کی کوشش ہے کہ اپنا بوجھ افغانستان کے سر ڈال دے اور لوگوں میں افغانستان کا تعارف ۱۹۹۰ء کی دہائی جیسا کروائے، جب ہر ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے خصوصی گروپ یہاں سرگرم تھے لیکن اب الحمد للہ افغانستان ویسا نہیں ہے۔

الحمد للہ افغانستان اب ایک اسلامی اور خود مختار نظام کا ملک ہے جہاں ہر فیصلہ علمائے کرام اور دیندار افراد کے اختیار میں ہے۔

اب نہ کوئی بیرونی مداخلت موجود ہے اور نہ ہی کوئی غیروں کے لیے یہاں کام کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے پڑوسی آگ بگولہ بیٹھے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے افغانستان کو دوبارہ ماضی کی بد قسمتیوں اور بد حالیوں کے مرکز میں تبدیل کیا جائے۔